یورپی ممالک سے امن کیلئے بات چیت شاندار رہی ، ڈونلڈ ٹرمپ

09:21 AM, 29 Dec, 2025

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے امن منصوبے پر بات چیت کی اور اس میں کافی پیشرفت ہوئی ہے، مگر ابھی کچھ اہم مسائل حل نہیں ہو سکے۔

ٹرمپ نے کہا کہ "ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، شاید بہت زیادہ قریب ہیں"، مگر وہ اس بات پر بھی زور دیا کہ کچھ معاملات ابھی باقی ہیں جن پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اس ملاقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ 20 نکاتی امن منصوبہ 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے دی جانے والی سکیورٹی ضمانتیں 100 فیصد طے پا چکی ہیں۔ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ سکیورٹی ضمانتیں تقریباً 95 فیصد مکمل ہو چکی ہیں، تاہم انہوں نے اس بارے میں تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی ملاقات کا امکان ابھی موجود ہے، اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن بھی اس ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے پیوتن سے دو گھنٹے تیس منٹ تک فون پر بات کی، اور پیوتن نے سہ فریقی ملاقات کی اہمیت پر زور دیا۔

ٹرمپ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ یوکرین کے امن منصوبے پر ابھی بھی کچھ مسائل حل نہیں ہوئے، جیسے کہ ڈونباس میں فری ٹریڈ زون کے معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر جلد بات چیت کی جائے گی اور اس کے حل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ سب سے مشکل مسئلہ کیا ہے جو ابھی تک حل نہیں ہوا، تو انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ زمینوں کی تقسیم کا ہے کہ کون کہاں پر قابض ہے اور کس کو کہاں ہونا چاہیے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل آنے والے چند مہینوں میں نکال لیا جائے گا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ یوکرین کے تنازعے کو ختم کیا جائے، اور وہ یوکرین کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح پہلے امن معاہدہ طے کرنا ہے۔ ٹرمپ نے یوکرینی پارلیمنٹ میں خطاب کرنے کی پیشکش بھی کی، جس پر زیلنسکی نے کہا کہ "ہم ہمیشہ آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔"

مزیدخبریں