دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اس کی زد میں آکر تباہ ہونے والے ممالک کی تعمیرنو شروع ہوئی تو اس میں ان ملکوں کے باشندوں نے اہم کردار ادا کیا جو جنگ سے کسی حد تک محفوظ رہے تھے یا جنگ کے شعلے ان تک نہ پہنچے تھے۔ ہزاروں افراد دنیا کے مختلف کونوں سے روزگار کی تلاش میں برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، جاپان اور امریکہ پہنچے۔ کچھ تو ایسے گئے کہ پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے وہیں شادیاں کیں، اب ان کی تیسری نسل ان ممالک میں مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ ان ممالک میں پہنچنے والی پہلی نسل زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھی۔ کچھ لوگ ہنرمند ضرور تھے لیکن ان کی بعد میں آنے والی نسلیں تعلیم کی طرف راغب ہوئیں۔ گلوبل ولیج بننے کے حوالے سے انہی لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔ روزگار کے لئے لاکھوں افراد نے ایک مرتبہ پھر جب اپنا گھر بار چھوڑا تو یہ دوسرا موقع 70 کی دہائی میں آیا جب خلیجی ریاستوں میں تعمیر نو شروع ہوئی۔ جنگ عظیم دوم کے زمانے کا اسلحہ خلیج میں بکھرا پڑا تھا۔ انگریزوں اور امریکیوں کے لئے اسے یہاں سے اٹھانا اور اپنے یہاں منتقل کرنا دردسر تھا۔ کچھ اسلحہ کارآمد تھا جسے یہ طاقتیں اسی طرح چھوڑ گئیں جیسے امریکہ افغانستان سے نکلتے ہوئے اپنا بہت کچھ چھوڑ گیا تھا۔ یہ تو سب کچھ ایک سازش کے سبب چھوڑا گیا لیکن خلیج میں چھوڑا گیا اسلحہ مجبوری تھی۔ ناکارہ اسلحہ بھی ڈھیروں کے حساب سے تھا۔ قریبی ممالک کو اجازت دی گئی یوں سب نے اپنی اپنی ضرورت اور ہمت کے مطابق صحرائوں سے بہت سا اسلحہ حاصل کیا۔
خلیجی ممالک کی تعمیر نو میں ایشیائی ممالک سے بڑی تعداد میں مین پاور یہاں پہنچی یہاں آنے والے بھی انہی کے نقش قدم پر چلے جو مغربی ممالک کی شکل سنوارنے گئے تھے۔ خلیجی ریاستوں کی کل آبادی آج گیارہ ملین کے قریب ہے، جن میں اٹھاسی فیصد غیرملکی ہیں۔ خلیجی ریاستوں میں خواتین کی کل آبادی 4.11 ملین ہے۔ ابوظہبی اور دبئی کی آبادی چار ملین کے قریب ہے۔ عجمان میں پانچ لاکھ نفوس، راس الخیمہ میں چار لاکھ، فجیرا میں تین لاکھ، ام القوین میں پچاس ہزار اور شارجہ میں ایک لاکھ دس ہزار نفوس بستے ہیں۔خلیج کی سات ریاستوں میں پوری دنیا سے سب سے زیادہ افراد جس ملک سے آئے ہیں، ان میں بھارت پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں سے چالیس لاکھ افراد روزگار کے سلسلے میں یہاں موجود ہیں۔ ان میں ڈاکٹرز انجینئرز آرکیٹکٹ، بینکرز، بزنس مین اور لیبر ہے، دوسرے نمبر پر پاکستان ہے۔ پاکستانیوں کی تعداد بیس لاکھ ہے۔ ان میں ہنرمند افراد کی بہتات ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نسبتاً کم ہیں۔ کاروباری افراد اور خاندانوں کی ایک بڑی تعداد یہاں منتقل ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش اور نیپال سے آئے افراد کی تعداد ایک ایک لاکھ کے قریب ایرانی اور مصری پینتیس اور چالیس ہزار کے قریب جبکہ فلپائن، سری لنکا، چین سے آئے ہوئے افراد کی تعداد قریب قریب ہے۔ ہر ملک سے پچیس سے تیس ہزار افراد یہاں موجود ہیں۔ بعض افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ایک قلیل تعداد میں یہاں روزگار کما رہے ہیں۔
ابتدا میں تو یوں ہوا کہ ایک خاندان سے کچھ لوگ کسی ادارے میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو پھر اعلیٰ منصب پر بیٹھے شخص نے کوششیں کی کہ اب خالی آسامیوں پر اس کے رشتہ دار اس کی برادری یا پھر اس کے ملک سے آئے لوگ کھپائے جائیں۔ بھارت اس معاملے میں بہت آگے تھا جبکہ پاکستانیوں نے اپنی ’’شریکہ فلاسفی‘‘ کے تحت اپنے رشتہ داروں کا راستہ روکا حالانکہ پاکستانی ہنرمندوں نے اپنی محنت و جفاکشی کی دھاک بٹھا دی تھی۔ خلیج کے نام پر دھوکہ دہی کی وارداتیں سب سے پہلے پاکستان میں شروع ہوئیں اور ان کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ فراڈیوں کے ہتھے چڑھنے کے بعد بڑی تعداد میں وہ لوگ ان ممالک میں نہ پہنچ سکے جو اپنی صلاحیتوں کی بنا پر یہاں آکر ملک کا نام روشن کر سکتے تھے۔ پاکستان کی پڑھی لکھی کلاس ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی سپیشلسٹس کا رجحان یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی طرف رہا جس کے سبب بھارتی افراد کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا رہا۔ پاکستان کے علاوہ ہر ملک سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے سے بے پناہ تعاون کرتے نظر آئے۔ یہ سب انتہائی پرامن انداز میں اپنے کام سے کام رکھتے تھے جبکہ پاکستانی لڑائی جھگڑے ایک دوسرے کے سامان کی چوریوں میں ملوث نظر آئے۔ پاکستان سے آئے لوگوں میں سے پٹھانوں نے نسبتاً بہتر چال چلن کا مظاہرہ کیا۔ان میں پیار، محبت اور تعاون خوب ہے، مثالی ہے۔
دنیا بھر کے بسنے والوں کو خلیج میں جو چیزیں متاثر کرتی ہیں وہ لاء اینڈ آرڈر ہے۔ ماڈرن انفراسٹرکچر، اکنامک اینڈ سوشل ڈویلپمنٹ اور اس کی تیز رفتاری، ٹورازم، آئی ٹی اور تعمیراتی شعبے میں ہونے والا کام اور بنیادی طور پر رئیل سٹیٹ کی ڈویلپمنٹ ہے جو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ تعلیمی اداروں کا معیار بہت عمدہ ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہاں سبزہ نام کو نہ تھا۔ اب ہر طرف ہریالی ہے، بلند و بالا درخت ہیں، سایہ دار درختوں نے قد نکالا تو پرندے بھی یہاں گھر بسانے لگے۔ اب آپ کسی طرف نکل جائیں، تازگی نظر کا سامان اور پرندوں کے غول ضرور ملیں گے۔ ہر طرف خاموشی اور سکون نظر آتا ہے حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بڑے شہروں کے مقابلے میں خلیجی ریاستوں کا رقبہ کم اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہی حال موٹروہیکلز کا ہے لیکن ایشیائی ممالک میں جو شور سڑکوں پر ہے وہ یہاں بالکل نہیں۔ عام زندگی میں بھی آپ کو ہر شخص نرم خو ملے گا اور راست گوئی سے کام لیتا نظر آئیگا۔ یو اے حکومت نے مختلف زمانوں کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اور بیلسنگ ایکٹ کے لئے ایک نیا قانون بنایا گیا ہے کہ کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے کے لئے حق دار افرادی قوت کی ضرورت ہو گی۔ کاروبار کا مالک نصف افرادی قوت اپنے ملک سے اور نصف افرادی قوت غیر ممالک سے لے گا تاکہ یو اے ای میں کسی ایک ملک سے تعلق رکھنے والوں کے بڑھتے ہوئے غلبے کو روکا جا سکے اور غریب ممالک کے غریب بھی روزگار کما سکیں۔ یو اے ای کی سات ریاستوں میں ترقی امن و امان اور بہترین رہائشی و کاروباری سہولتوں کو دیکھ کر فقط ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں ابھی پاکستان کی عمر ہی کیا ہے۔ قومیں تو صدیوں بعد بنتی ہیں اور ملک ترقی کی منزل تو دو چار سو سال بعد حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب بکواس کرتے ہیں اور استحصالی نظام سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کے گروہ ہیں۔
خلیجی ریاستوں کی یورپ کی ترقی کو مات کرتی ہوئی ترقی فقط پچاس برس میں حاصل کی گئی ہے، اس کی بدولت آج دنیا کا سرمایہ کار یہاں کھینچتا چلا آرہا ہے۔ ہماری حکمران ایلیٹ نے یہ سب کچھ پاکستان کو کیوں نہ دے سکے جہاں چار موسم، معدنیات کے خزانے، صنعت و حرفت اور ہنرمند مزدور کی کوئی کمی نہ تھی۔ کمی تھی تو شاید نیت کی تھی جو آج بھی نظر نہیں آتی، بس یہی المیہ ہے ملک کو جاگیر سمجھتے ہیں مگر اسے بساتے نہیں۔
ریگزار سے گلستان تک
09:04 AM, 29 Dec, 2025