یہ سچ کہ حادثات اچانک نہیں ہوتے۔وقت برسوں ان کی پرورش کرتا ہے اور انسان اپنی غفلت اور لاپروائی سے ان حادثات کو پالتا ہے۔اپنی نااہلیت کا پانی دیتاہے۔پاکستان میں انسانی المیوں کا ایک انبار ہے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں بھی ایک حادثہ ہو گیا۔ اس ”مین میڈ“ حادثے میں چودہ نوزائیدا بچے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اس پر سب جوازختم۔ تمام دلیلیں ردی اور سب تبصرے غیرضروری ۔پمز کے حادثے کے بعد اس سے بھی بڑا حادثہ یہ کہ اس پر سیاست۔ ایک بار پھر محسن نقوی صاحب کے ”سسٹم “ کی بلے بلے ۔ویسے تو نہ یہ پہلاحادثہ ہے نہ آخری۔ہمارے لیے تو مرنے کا یہ مقام ہی کافی تھا جب دوہزار چودہ میں اے پی ایس کے ڈیڑھ سو بچے شہید کردئیے گئے تھے ۔اس کو بھی پاک فوج کیخلاف سازشی کہانیوں میں پروان چڑھایا گیالیکن کم ازکم اس حادثے کے بعد حکومت نے کچھ کام توکیا تھا۔نوازشریف صاحب چل کر عمران خان کو مل بیٹھنے کی دعوت دینے چلے گئے۔ عمران خان صاحب سے دھرنہ ختم کرنے کی اپیل کر دی گئی تھی ۔اس حادثے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایاگیا تھا آپریشن ضرب عضب کیا گیا اور ملک میں کافی حد تک امن لوٹ آیا تھا۔ کراچی جو لاشوں کا انبار تھا اس کراچی میں امن قائم کردیا گیا تھا لیکن پھر چلتے سسٹم کے پہیے میں لوہے کا راڈ پھنسا کر پانامہ پیپر کی بھینٹ نواز حکومت چڑھا دی گئی۔ ڈیڑھ سو بچوں کے مرنے کے صرف دو سال میں حکومت کو گھر بھیج دیا گیا تھا۔
آج پمز میں حادثے کے بعد وہ پیپلزپارٹی حکومت کے خلاف سیاست کرنے نکل آئی ہے جس کے اپنے صوبے میں کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں ڈھائی سو بچے ایڈز کا شکار ہوگئے اور حکومت اس پر بات تک کرنے کو تیار نہیں ہے۔ابھی کراچی کے گل پلازہ کو خاکستر ہوئے سال نہیں ہوا ۔بلدیہ فیکٹری کی لاشیں ابھی حساب مانگ رہی ہیں حکومت کا کوئی وزیر مشیر مستعفی ہوا نہ کسی نے ذمہ داری قبول کی لیکن مصطفی کمال سے استعفی مانگنا وقت کی ضرورت بن گیا ہے ۔چلیں یہ بھی ٹھیک ہے ۔ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات میں کیمروں کے سامنے ایک خاندان پورے کاپورا دریا میں بہہ گیا ۔لوگ پکارتے رہے لیکن کوئی ریسکیو ان کو بچا نہ سکی اب وہ بھی اس میں سازشی کہانیاں تلاش کرتے ہیں ۔یہ بھی ٹھیک ہوگیا۔ سسٹم نہ کولیپس ہوا ہے اور نہ ہی کوئی نیاسسٹم ہمیں بچاسکتا ہے یا آگے لے جاسکتا ہے ۔سسٹم بدل بھی ڈالیں تو سسٹم کو چلانے والے تو یہی ہوں گے جو اس وقت نظام چلارہے ہیں ۔ کیا سسٹم بدلنے کے ساتھ ساتھ اس ملک کی بیوروکریسی بھی بدلی جائے گی ؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟ سرکاری ادارے کیوں نہیں چل پاتے؟ یہاں کام کرنے والے اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کیوں نہیں کرتے ؟ اس کا تجزیہ کرتے ہیں ۔
میری زندگی پرائیویٹ سیکٹر میں گزر رہی ہے۔ میں نے ٹی وی میں کام کیا ہے۔ٹی وی میں کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔جب سرکاری چھٹی یا زیادہ چھٹیاں ہوتی ہیں تو ٹی وی اسی رفتار سے چلتے ہیں۔ خبریں اسی طرح آتی ہیں اسی طرح پراسس ہوتی ہیں اور اسی شدومد سے بریکنگ آن ایئر ہوتی ہے۔ وہاں بھی تو انسان کام کرتے ہیں نا۔ میرا یہ تجربہ ہے کہ جب بھی کوئی سرکاری چھٹی ہوتی تھی تو چینل کے جو اعلیٰ انتظامی افسر ہوتے تھے وہ ایک دن پہلے اس چھٹی کی مینجمنٹ کرتے تھے ۔اب بھی ایسا ہی ہے کہ عید ہے تو اس کا خصوصی روسٹر بنایا جاتا ہے کہ کون چھٹی کرے گا اور کون دفتر آئے گا۔اور پھر جن کو اس چھٹی والے دن کی ذمہ داری ملتی تھی وہ عام دنوں سے بھی زیادہ چوکس ہوتے تھے کہ آج افسر نہیں ہیں ذمہ داری ان پر ہی ہوگی اس لیے روٹین سے زیادہ بہتر پرفام کرنا ہے تاکہ افسروں کو بھی پتہ چلے کہ ہم کتنے قابل ہیں ۔اس لیے غلطیاں کم اور کام زیاہ ہوتا ہے۔کیا یہ سسٹم سرکاری اداروں میں بھی ہوتا ہے؟ نہیں بالکل نہیں بلکہ سرکاری ملازمین کا دستور تو یہ ہے کہ چھٹی سے ایک دن پہلے بھی چھٹی اور ساتھ ملاکر بھی چھٹی اور سروس ڈلیوری،کام ،ڈیوٹی ؟ یہ سب سرکار جانے اور اس کا کام۔ پمز میں یہ حادثہ بھی عیدمیلادالنبی ﷺ کی چھٹی والے دن پیش آیاجب ایک شفٹ جانے کے لیے سامان باندھ چکی تھی اور اگلے دن چھٹی کی وجہ سے انتہائی کم اسٹاف نے آنا تھا ۔اچھا سرکاری ملازم اور سرکاری اداروں میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہسپتال بھی ٹی وی چینلز کی طرح ہی ہوتے ہیں ان کی بھی کوئی چھٹی نہیں ہوتی کہ انسان چھٹی دیکھ کر بیمار ہوتے ہیں اور نہ بچے پیدا ہونے کے لیے ویک ڈیز کا انتطار کرتے ہیں اس لیے ایسے اداروں میں نظام بھی پرائیوٹ اداروں جیسا ہی بنانے سے کام چلے گا۔
ایک اور فرق بھی ہے جو گیم چینجرہوتا ہے وہ ہے ”جاب سکیورٹی“ پرائیویٹ اداروں میں غلطی ہوتی ہے تو ذمہ داری کے تعین کے لیے کوئی سرکاری کمیٹی نہیں بنتی بلکہ نوکری سے فراغت کا خط ملتا ہے۔ اس لیے جو بھی ذمہ دارہوتا ہے وہ آٹھ گھنٹے کے لیے پورے کا پورا اسی ادارے میں ہوتا ہے ادارے کا ہوتا ہے لیکن سرکاری ملازمین کی نوکری کو” ملٹی لیئر“ڈ تحفظ حاصل ہے وہ ایک غلطی کے بعد معطل ہوں گے تو چند ماہ بعد دوبارہ بحال ہوکر کسی نئی پوسٹنگ پر لگ جائیں گے کیونکہ سرکاری ملازمت کام کرنے کا سمجھوتہ نہیں بلکہ ساٹھ سال کی عمر تک سرکاری تنخواہ اور بعد از ریٹائرمنٹ پینشن وصول کرتے رہنے کا سمجھوتہ ہوتا ہے۔اگر کسی کو نوکری سے نکال بھی دیا جائے تو اس ملک کی عدالتیں اور سروس ٹریبونلز حاضر خدمت ہوتے ہیں ۔ کوئی بھلے دس سال بعد بھی عدالتی حکم سے بحال ہوتو ان دس سالوں کی تنخوا ہ کا حق دار بھی ہوتا ہے جس میں اس نے کوئی کام نہیں کیا ۔جب ایک بیوروکریٹ ، سرکاری ملازم کو اتنی عیاشی حاصل ہے کہ اس نے کام نہ کرنے کی بھی تنخواہ وصولنی ہے تو پھر کام کونسی ترجیح رہے گا؟
پھر ایک اور ایشو بھی ہے کہ نظام چلاتے بیوروکریٹ ہیں۔ کام کرتے یا کام خراب کرتے بیوروکریٹ ہیں لیکن لعن طعن کے لیے حکومتی وزیر۔ استعفوں کے لیے وزیر۔ لوگوں کے غضب کا شکار ہونے کے لیے حکومتیں۔ حکومتیں بالکل بھی بری الذمہ نہیں ہیں لیکن سب سے زیادہ احتساب سیاستدانوں کا ہوتا ہے یہ نظام بھی تونظام والوں نے ہی بنایا ہے نا؟ اگر سیاستدان کسی سفارشی کو عہدے دلواتے ہیں تو وہ بھی ذمہ دار ہیں ۔ اس حادثے کو سیاست کی نظر کرنے سے کہیں زیاہ ضروری ہے کہ تمام سیاستدان مل کر اس نظام کی خامیاں ڈھونڈیں۔کسی نااہل اور نکمے افسر کی سفارش نہ کریں اور جن کو عہدوں پر لگایا جاتا ہے، جن کو بھاری تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں ۔جن کو گھر کے بل دینے کی فکر ہے نہ گاڑی کے ایندھن کی۔ ان سے پھر کام بھی اسی طرح لیں جس طرح پرائیوٹ سیکٹر میں لیاجاتا ہے۔سرکاری بابوﺅں اور بیوروکریٹ سے لے کر نائب قاصد تک سب کی جاب سکیورٹی کو پرائیوٹ سیکٹر کی طرح کانٹریکٹ کی بنیاد پر لے کر جائیں ۔چھوڑیں یہ مقابلے کے امتحانات اور سی ایس پی افسرشاہی۔ ضرورت کی بنیاد پرمارکیٹ سے لوگ ریکروٹ کریں دیکھتے ہیں کہ یہ نظام چلتا ہے یا نہیں۔ مراعات ضروردیں لیکن کام بھی لیں۔
سرکاری نوکراور پمز کاسانحہ
09:42 AM, 30 Aug, 2026