عوام کےلئے اتحادکب بنے گا؟

09:35 AM, 30 Aug, 2026

یہ ہمارا راولپنڈی کا سفر تھا۔ وہ دونوں میزبان تھے اور ہم ان کے مہمان۔ قاری عبدالنصیر کے گھر شاندار ظہرانے کے بعد ہم تینوں قریب ہی ایک کیفے پر جا بیٹھے۔ ابھی ہم کوئٹہ وال چائے کی چسکیاں لے ہی رہے تھے کہ بڑے مولانا کے مرید مولانا تاج منیر کپ میز پر رکھتے ہوئے گویا ہوئے مولانا کا پی ٹی آئی سے اتحاد ہورہا ہے،اب دیکھنا یہ حکومت کیسے جاتی ہے۔؟چھوٹے مولانا کی یہ بات سن کر ہمیں ہلکا سا جھٹکا لگا۔ پھر ہم نے گستاخی کی جسارت کرتے ہوئے بس اتنا پوچھا کہ مولانا جی حکومتوں کی آنیاں جانیاں تو لگی رہتی ہیں یہ بتائیں کہ اس ملک سے مہنگائی، غربت، بےروزگاری اور بدامنی کب جائے گی۔؟ کیا آپ کے مولانا صاحب ان گناہوں کے خلاف بھی کوئی اتحاد بنائیں گے یا ان کا سیاسی کھیل صرف اقتدار تک رسائی کے اتحادوں کے لئے محدود رہے گا۔؟'ہمارایہ سوال سنتے ہی ان کا چہرہ توکافی سرخ ہواپرغالباًآداب مہمانی میں ہمیں کچھ کہنے کی بجائے وہ خاموش رہے۔وہ توخاموش رہے لیکن وہاں سے اٹھنے کے بعدہمارے دماغ کے سگنل خاموش نہیں رہے اورہم کئی گھنٹوں تک اسی سوال میں الجھے رہے کہ آخر ہم کب تک اقتدار تک رسائی کے لئے بننے والے ایسے اتحادوں، جوڑ توڑ اور سیاسی رشہ کشی و کھیل پر تالیاں بجاتے رہیں گے۔؟ مولاناکاپی ڈی ایم والا اتحاد مولانا کے مریدوں نے دیکھاہویانہ لیکن عوام تواس کودیکھ چکے ہیں۔اس لئے عوام کو ایسے کسی اتحاد کی ضرورت نہیں جس کامقصد صرف حکومت کو گرانا ہو۔عوام تو ایسے اتحاد کے منتظر ہیں جو ان کے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے بنے، جو غریب کے چولہے کو جلانے، نوجوانوں کو روزگار دینے، مریضوں کو علاج فراہم کرنے، طلبہ کو معیاری تعلیم دینے اورایک ایک شہری کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لئے ہو۔اس وقت مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑکررکھ دی ہے۔ دوسری طرف امن و امان کی صورتحال بھی عوام کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ ایسے حالات میں عام شہری یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ اس کے لیڈر اور سیاستدان اس کے مسائل کے حل کے لئے کب ایک میز پر بیٹھیں گے مگر افسوس مولانا سمیت کسی بھی لیڈر اور سیاستدان کو عوام کے ان مسائل کا احساس نہیں۔ مولانا اور پی ٹی آئی جو آج کل کچھ قریب قریب ہو رہے ہیں یہ قربت بھی ذاتی مفادات کی وجہ سے ہے۔پی ڈی ایم اتحادکی طرح اس قربت میں بھی مہنگائی، غربت، بیروزگاری سمیت دیگر عوامی مسائل کا دور دور تک نام و نشان اور آثار نہیں۔ سچ تویہ ہے کہ ہماری سیاست میں اتحاد کا مقصد اکثر عوامی مسائل کا حل نہیں بلکہ اقتدار کا حصول یا سیاسی مخالفین کو شکست دینا رہ گیا ہے۔ تھانے اور کچہری میں عام آدمی کی عزت ہوگی اور شہری خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں گے۔؟ ہماری یادداشت میں تو سیاست دانوں کا ایسا کوئی اتحاد نہیں۔ ان کے اتحاد، اختلاف، ملاقاتیں، ناراضیاں، مفاہمتیں اور جوڑ توڑ تو زیادہ تر اپنے سیاسی مفادات کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ یہ اقتدار سے باہر ہوں تو ان کے نزدیک پھر جمہوریت خطرے میں ہوتی ہے۔ یہ خود اقتدار میں آ جائیں تو سب کچھ معمول کے مطابق نظر آنے لگتا ہے۔ حکومت میں ہوں تو نظام کامیاب اوراگر اپوزیشن میں چلے جائیں تو پورا نظام انہیں پھر ناکام دکھائی دینے لگتا ہے۔ کیا کبھی تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق نہیں ہو سکتیں کہ بجلی اور گیس کے بحران کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔؟ کیا بیروزگاری کے خاتمے کے لئے مشترکہ قومی پالیسی نہیں بن سکتی۔؟ کیا تعلیم اور صحت کو سیاسی نعروں کے بجائے قومی ترجیح قرار نہیں دیا جا سکتا۔؟ کیا مہنگائی پر قابو پانے کے لئے حکومت اور اپوزیشن مل کر ایسی معاشی حکمت عملی نہیں بنا سکتیں جو حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ کبھی تبدیل نہ ہو۔؟ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اختلاف اکثر قومی مفاد سے بڑھ کر ذاتی اور جماعتی مفاد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ اقتدار عارضی ہے مگر عوام کے مسائل مستقل ہوتے جا رہے ہیں۔ آج جو جماعت حکومت میں ہے کل وہ اپوزیشن میں ہو سکتی ہے اور جو آج اپوزیشن میں ہے وہ کل اقتدار میں آ سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں صرف اپنی باری کا انتظار کرتی رہیں اور عوامی مسائل جوں کے توں رہیں تو جمہوری نظام سے عوام کا اعتماد مزید کمزور ہو گا۔ اگر مولانا صاحب سمیت سیاسی قیادت واقعی ملک و قوم کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے حکومت مخالف اتحادوں سے آگے بڑھ کر عوامی مسائل کے حل کے لئے کوئی اتحاد بنانا ہوگا۔ ایسا اتحاد جس میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی مخالفت ضرور کریں مگر عوام کے بنیادی حقوق، معیشت کی بہتری اور ملک کے مستقبل پر سمجھوتہ نہ کریں۔اتحاد بنانا بری بات نہیں مگر اتحاد کا مقصد اہم ہوتا ہے۔ اگر اتحاد اقتدار کے لئے ہو تو یہ صرف سیاسی عمل ہے لیکن اگر اتحاد عوام کے لئے ہو تو یہ پھر سیاست کے ساتھ قومی خدمت اورعبادت بن جایاکرتی ہے۔

مزیدخبریں