ہر دور میں حافظہ ٹھیک ہونا انتہائی ضروری ہے۔ مگر بھارت تو خود ہی بھلا بیٹھا ہے کہ مئی دو ہزار پچیس میں پاکستان کے ساتھ جنگ میں اسے کس حد تک حزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ سوا سال کا عرصہ گزرنے کے بعد آج بھارت کی اعلیٰ عسکری قیادت اپنے ہی سرکاری بیانات بھلا بیٹھی ہے۔ یہاں شاید قصور حافظے کا نہیں بیانات بدلنے کی پالیسی کا ہے۔
پندرہ اگست کے روز بھارت نے آپریشن سندور پر ایک ڈاکیومنٹری جاری کی جسکا نام ڈی کلاسیفائیڈ آپریشن سندور تھا۔ اس ڈاکیومنٹری میں بھارتی آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس سٹاف، نیشنل سکیورٹی ایڈوائز، تینوں افواج کے سربراہان سمیت ڈی جی ملٹری آپریشن تھے مگر آپریشن سندور کے کمانڈنگ افسر لیفٹیننٹ کرنل کی شناخت چھپائی گئی۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ ڈاکیومنٹری فلم بھارت میں تو فلاپ رہی مگر ساتھ میں اس کے آرٹلری کور کے کمانڈنگ افسر یعنی آپریشن سندور کی ریڑھ کی ہڈی کو چھپایا گیا۔ کرنل صاحب کی کور بتائی گئی مگر چہرے پر ماسک لگایا گیا اور ریکارڈنگ سٹوڈیو میں مکمل اندھیرا کر کے ویڈیو بنائی گئی جس میں صرف آڈیو آ رہی تھی نام، چہرہ، یونٹ سب پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔ میری ناقص عقل کے مطابق اس کے پیچھے سکیورٹی رسک ہو سکتا ہے مگر ایک بھارتی فوجی افسر کو کس قسم کا خطرہ ہو سکتا ہے کہ بھارت نے آپریشن سندور کا چہرہ ہی چھپا لیا ہے۔
بھارت کا آپریشن سندور کیسا فوجی آپریشن تھا جس کے سال بعد بھی یہ معلوم نہیں کہ ہوا کیا تھا۔ کچھ ہوا تھا مگر یہ معلوم نہیں کیا ہوا تھا۔ ایک طرف بھارت کے سابق چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان کے متضاد بیانات ہیں تو دوسری جانب بھارت کے ائیر فورس کے آپریشن سندور کے پچھتاوے ہیں۔
25 اگست کو جنرل انیل چوہان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے بھیجا جانے والا لوئیٹرنگ ایمونیشن سرگودھا میں اور اس کے آس پاس ریڈار تلاش کر رہا تھا اور ممکن ہے کہ ایسا ہی ایک ڈرون کیرانہ ہلز پر گرا ہو۔ انھوں نے دعوی کیا کہ پاکستانی میڈیا نے کچھ تصاویر دکھائی تھیں جن میں کیرانہ ہلز سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔ اب اگر اس بیان کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھارتی فوج کے پچھلے بیان کی نفی ہے جس میں انہوں نے کیرانہ ہلز پر میزائل داغنے اور پاکستان کی ایک نیوکلیئر تنصیبات کیرانہ ہلز سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
بھارت میں مئی 2025 کی میڈیا بریفنگ میں صحافیوں نے عسکری قیادت سے کیرانہ ہلز کے حوالے سے سوال کیا تو ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی سمیت مشترکہ افواج کے اعلیٰ نمایندوں نے اسے افواہ قرار دیتے ہوئے صحافی کو کہا تھا ہمیں یہ بتانے کے لیے آپ کا شکریہ کہ کیرانہ ہلز میں کچھ جوہری تنصیبات ہیں۔ ہمیں اس کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ہم نے کیرانہ پہاڑیوں کو نہیں مارا۔ تاہم چند روز قبل سابق بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان کے دعوﺅں کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی مسترد کر دیا ہے۔
حال ہی میں ریٹائر ہونے والے بھارتی ائیر فورس کے وائس چیف ائیر مارشل ناگیش کپور نے ایک میڈیا انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے جنگی جہازوں کی صلاحیت پر کڑی تنقید کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وائس ائیر مارشل نے کہا ہل تیجس ایم کے ٹو جنگی جہاز کی کوئی آپریشنل جنگی صلاحیت نہیں ہے۔ انکا استعمال کیا ہوا جملہ آپریشنلی ڈیفینیٹلی نو میڈیا کی سرخیاں بٹورتا رہا ہے۔ یاد رہے تیجس جنگی جہاز بھارت نے آپریشن سندور میں استعمال کئے تھے اور رافیل کی طرح تیجس کے بھی پاکستان ائیر فورس کی جانب سے گرائے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات موجود ہیں۔ اس کے بعد دبئی ائیر شو میں بھی تیجس جنگی جہاز فضائی کرتب دکھاتے ہوئے بُری طرح کریش ہوا تھا۔ اس میں موجود ائیر فورس کے ونگ کمانڈر نمانش سیال ہلاک ہو گئے تھے۔
بھارت کی اس صورتحال پر مجھے مشہور افسانہ نگار پطرس بخاری کے ایک افسانے کا ایک جملہ یاد آ رہا ہے کہ صحیح سے یاد نہیں لیکن کچھ ہو ضرور رہا تھا۔ نہ جانے سوتے کو جگا رہے تھے یا مردے کو جلا رہے تھے۔ بھارت کو بھی جنگی جہازوں کے ملبے اٹھاتے اٹھاتے اور جنگ بندی کراتے کراتے کچھ صحیح سے یاد نہیں لیکن یہ یاد ہے کچھ ہو ضرور رہا تھا۔
آپریشن سندور کی یاد
09:29 AM, 30 Aug, 2026