پمز سانحہ: وزیراعظم کا 8 ذمہ داران کیخلاف کارروائی کا حکم، فوجداری مقدمات کی ہدایت

08:20 PM, 29 Aug, 2026

لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے پمز میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں 8 افسران و اہلکاروں کو فوری معطل کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت لاہور میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پمز واقعے کی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں کمیٹی کی سفارشات پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد وزیراعظم نے ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی کی ہدایت کی۔

معطل کیے جانے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔

وزیراعظم نے سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی، جبکہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔

شہباز شریف نے عہدوں سے ہٹائے گئے افسران کی جگہ فوری اور یکمشت نئی تعیناتیاں کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچے کو بچانے کی کوشش کرنے والی نرس کے لیے ستارۂ خدمت دینے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے۔ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں، بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں۔

مزیدخبریں