نیویارک : پاکستان نے ہیٹی میں گینگ کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ گینگ سپریشن فورس کی بروقت اور مکمل تعیناتی میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہیٹی سے متعلق ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ہیٹی میں گینگ تشدد کے باعث سکیورٹی کی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے اور عام شہری، بالخصوص خواتین اور بچے، اس کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کینسکوف میں گینگ کا حالیہ حملہ ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری سکیورٹی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ہیٹی کے حکام کی معاونت کے لیے جی ایس ایف کی تعیناتی میں حائل انتظامی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے ہیٹی میں غیر قانونی اسلحے کی ترسیل روکنے کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق گینگ تشدد پر قابو پانے اور عوام میں تحفظ کا احساس بحال کرنے کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ بحران کی بنیادی وجوہات سے نمٹنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے پائیدار امن کے لیے ہیٹی کی قیادت اور ملکیت پر مبنی عمل کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے جی ایس ایف کے لیے عالمی معاونت متحرک کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے تخفیفِ اسلحہ، عدم مسلح کاری اور بحالیِ نو کی جامع حکمت عملی کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پاکستان نے ہیٹی کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں دیرپا امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے عالمی برادری اور ہیٹی کی قیادت میں جاری کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔