حل صوبے ہیں، استعداد یا نیت

09:14 AM, 30 Aug, 2025


یہ جاننا ضروری ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے ملک اور عوام کو کیا کیا فوائد ہو سکتے ہیں جو طویل عرصے تک قائم رہنے والے وفاق اور چار صوبوں کے ہوتے ہوئے ملک کو حاصل ہوئے نہ عوام کو۔ طویل عرصے بعد اب نئے صوبوں کی بحث بجائے خود فلاحی ریاست کے قیام اور چار صوبوں اور وفاق کی انتظامی ناکامی کی دلیل ہے۔ اس ناکامی کی وجہ بننے والے عوامل جان کر انہیں ختم کرنا ہوگا۔ ملک چلانے کے لئے ہم نے ہر حکومتی ماڈل آزمایا لیکن ناکام ہوئے۔ وزیر خزانہ سے لیکر وزیر اعظم تک امپورٹ کرکے ملک کی معیشت اور باگ ڈور ان کے سپرد کی لیکن ناکام رہے۔ دیکھنا ہوگا کہ ہم ملک کا قیام و استحکام ،انتظام و انصرام اور عوام کی فلاح و بہبود چاہتے بھی ہیں یا نہیں؟ چاہتے ہیں تو پھر ملک و ملت کو یکجان رکھنے کے ذمہ دار سیاستدانوں اور بیوروکریسی نے اسے تقسیم کیوں کیا؟ ملک و ملت کی وجہ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کی بد بصیرتی اور بد انتظامی تھی یا بد نیتی؟ کس وجہ سے حکمران اور بیوروکریٹس ملک کے قومی وجود کو قائم رکھ سکے نہ ریاست کو فلاحی بنا سکے۔
 پنجاب باقی تین صوبوں کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ ہے لیکن پھر بھی ن لیگی لاہور کو ہی اصل پنجاب مانتے ہیں۔ جنوبی پنجاب لاہور جیسی ترجیح نہیں۔ رہی بات کراچی، کوئٹہ اور پشاور کی تو سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کے حاکم لاہور جیسے تکلف سے آزاد ہیں۔ آج بھی سندھ میں پیپلزپارٹی نے اپنے گڑھ لاڑکانہ، تھر ،ٹھٹھہ، بدین جیسے شہروں کے باسیوں کو تعلیم، صحت، صاف پانی اور روزگار سے محروم رکھا ہوا ہے۔ لاڑکانہ جیسے شہر کی عوام کی حالت بد انتظامی کی وجہ سے جانوروں جیسی ہے یا بد نیتی کی وجہ سے؟ پنجاب میں راجن پور ، ڈی جی خان،کوٹ ادو، چولستان میں جانور اور انسان کو ایک ہی تالاب سے پانی پینے پر مجبور کر دیا گیا ہے، بلوچستان کے حاکم نوابوں نے لسبیلہ، بارکھان، پنجگور، نوشکی، پسنی جیسے شہروں کے رہنے والوں کو بد ترین حالات سے دوچار کر رکھا ہے جبکہ خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی نے اپنے گڑھ بنوں، ٹانک ، کرک، وزیرستان، چترال جیسے علاقوں کے لوگوں کا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے۔ آج بھی ہم اپنے معصوم بچوں کی زندگیاں بچانے کیلئے جانوں پر کھیل کر کیسے جی رہے ہیں؟ عوامی ہمدردی کا دم بھرنے والے عوامی ترقی،خوشحالی اور سہولیات کے مخالف سیاستدانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں۔ کہیں عمران کی رہائی ضروری ہے تو کہیں شیر اور بھٹو کو زندہ رکھنا ضروری۔
 تحصیل اور ضلعی سطح کے تمام شہروں میں انتظامی اور عدالتی نظام موجود ہے۔ مختلف ڈویژنوں میں ہائی کورٹ بینچز اور صوبائی سطح پر سپریم کورٹ رجسٹری بھی موجود ہے اور پولیس کا نظام بھی موجود۔ تحصیل اور ضلعی سطح پر میونسپل کمیٹیاں ،ضلع کونسل اور بڑے شہروں میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز موجود ہیں۔ عوامی اور انتظامی مسائل کے حل تلاش کرنے کیلئے دفاتر یا عملے کی کمی نہیں۔ ہے تو مزید دفاتر بھی تعمیر کئے جا سکتے ہیں اور مزید عملہ بھی بھرتی کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ نیت عوامی مسائل کا حقیقی حل تلاش کرنا ہو۔
آج بھی پنجاب جیسے نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ صوبے کے جاگیر دار اپنے علاقوں میں سکول،کالجز اور ہسپتال بنانے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ سندھ کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی بجائے وڈیروں کے جانور گھومتے نظر آتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں قابضین نے گودام اور باڑے بنا رکھے ہیں۔ عام سندھی زندہ رہے نہ رہے لیکن بھٹو کو آج بھی ان علاقوں میں زندہ رکھا جا رہا ہے۔خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں بچیوں کے سکول دھماکوں سے اڑا دیئے جاتے ہیں۔ سندھ میں سرکاری گھوسٹ سکولوں اور ہسپتالوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جہاں سے تعلیم اور صحت کسی کو میسر نہیں لیکن ہزاروں گھوسٹ ملازمین کام کے بغیر سرکاری خزانے سے تنخواہیں پابندی سے وصول کرتے ہیں۔
دہشت گردی پر قابو پانے، عوامی مسائل کے فوری حل تلاش کرنے، سیاستدانوں اور بیوروکریسی کی گرفت زائل کرنے کے لئے ہمیں مزید چھوٹے صوبے بنانے کی ضرورت ہے تو حکومتی مشینری کو مستعدی سے متحرک رکھنے والے بہترین استعداد اور کھری نیت والے کہاں سے لائے جائیں گے جو اب تک ہمیں دستیاب نہیں ہو سکے؟ اس کا جواب تلاش نہ کیا گیا تو نئے صوبوں کے قیام کے ثمرات بھی حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔
 بلدیاتی ادارے گلی محلے کی سطح پر عوام کے مسائل حل کریں تو گڈ گورننس کا ماڈل خود بخود بن جائے گا لیکن سیاستدان ایسا نہیں چاہتے۔ بلدیاتی نظام فعال کرنے سے انتظامی مسائل یونین کونسل اور تحصیل کی سطح پر ہی حل ہو جاتے ہیں۔ صوبے چار ہوں یا چالیس جب تک بلدیاتی نظام موثر طریقے سے فعال نہیں ہوگا ہم مسائل کے دائروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ گورننس بہتر کرنے کیلئے چھوٹے صوبوں کو تشکیل دے کر بھی ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے تو ہمارا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟۔
ملک میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات اسی لئے نہیں کراتیں تاکہ اقتدار اور اختیار کی گرفت انکے ہاتھوں تک محدود رہے اور لوگ مقامی سطح کے سیاستدانوں اور عہدے داروں کے محتاج ہونے کی بجائے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے محتاج ہو کر رہ جائیں۔ عوام کو اس جکڑ بند غاصبانہ نظام سے نجات دلوانے کیلئے ٹھوس اقدامات اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
غربت، خوراک کی فراہمی، صحت کی صورت حال، انسانی ترقی، سوشل سیکٹر سروسز کے معیار اور ان سروسز تک عام آدمی کی رسائی، شفافیت، تعلیم ، قانون کی حکمرانی، لوگوں کو انصاف کی فراہمی اور گورننس کے لحاظ سے ہمارا ملک دنیا میں کہیں آخر میں کھڑا ہے۔ ہم دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہیں جہاں تیزی سے ریاست کمزور اور عوام بد حال جبکہ طاقتور مضبوط تر ہوتے گئے۔ ریاست شہریوں کو صاف پانی اور صحت بخش خوراک کی فراہمی تک میں ناکام ہوئی۔ ہم پائیدار ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوئے۔ ہماری قومی معیشت اور عام پاکستانی کی معاشی حالت مسلسل کمزور ہوتی رہی۔ ہمارا آئین اور انتظامی ڈھانچہ عام آدمی کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں ۔ یہاں آئین نے ہمیشہ غریب کی بجائے طاقتور کو تحفظ دیا۔
 ملک مختصر اور طویل مدتی حکمت عملیوں سے چلتے ہیں۔ حکمرانوں کی مرتب کردہ حکمت عملیاں ہماری نسلوں کے مستقبل کیسے برباد کر رہی ہیں یہ جاننا ضروری ہے۔
جہاں ہم قومی زندگی میں اور بہت سے تجربات کرتے رہے وہاں چاہیں تو نئے صوبوں کا تجربہ بھی کر کے دیکھ لیں ہو سکتا ہے میری منطق غلط ہو اور عوام کی مراد بر آئے۔ ملک و قوم کی خوشحالی کی وہ راہیں تلاش کی جائیں جو حقیقی ترقی کی منزلوں کی طرف جاتی ہوں۔ آج بھی حکمرانوں، سرمایہ کاروں اور جاگیرداروں کی تجوریوں اور بینکوں میں پڑا ہوا تمام سرمایہ غریبوں اور مزدوروں کی جیب سے نکالی گئی اجرت ہے۔ جیب ہمیشہ کاٹی گئی خواہ ملک کی ہو یا غریب کی۔ اسی لیے ملک کے پلے کچھ رہا نہ غریب کے۔ اور اسی لیے آج تک ملک پاوں پر کھڑا ہو سکا نہ غریب۔ حل صوبے ہیں ، استعداد یا نیت؟۔

مزیدخبریں