ریاست مخالف بیانیہ

09:14 AM, 30 Aug, 2025


 اس وقت ملک دو طرح سے حالت جنگ میں ہے ایک ہندوستان کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کہ اس کا میڈیا اور حکومتی وزیر مشیر اور خود سرینڈر موذی ہر دوسرے دن اس بات کو کہنا نہیں بھولتا کہ آپریشن سندر ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے ۔ دوسرا پورا ملک قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہے ۔ معمول سے بہت زیادہ بارشیںہو رہی ہیں ۔ گلیشیر پگل رہے ہیں اور پھر ہندوستان کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کی وجہ سے پورے ملک میں سیلاب تباہیاں مچا رہا ہے ۔ یہ ایک الگ طرز کی جنگ ہے کہ جس سے پوری قوم نبرد آزما ہے اور خاص طور پر افواج پاکستان کے اہل کار سرحدوں کی بھی حفاظت کر رہے ہیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروایﺅں میں بھی مصروف ہیں لیکن ایک شخص ملک و قوم کی مشکلات سے قطع نظر اپنے ذات کا اسیر ہو کر رہ گیا ہے اور اس نے منگل 26اگست کو ایک بار پھر ایسا ٹویٹ کیا ہے کہ جسے کسی طور بھی ملک دوست نہیں کہا جا سکتا ۔ اس میں ایک بار پھر عسکری قیادت کو نشانہ بنا کر فوج میں بغاوت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اسی ٹویٹ میں خان صاحب نے ایک بار پھر دہشت گردوں سے اپنی محبت کا جو اظہار کیا ہے اس پر بعد میں بات کرتے ہیں پہلے عسکری قیادت کے خلاف جو دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں اس حوالے سے کچھ ذکر کرنا ضروری ہے ۔
 عسکری قیادت کے خلاف خان صاحب نے جو کچھ کہا وہ کوئی پہلی بار نہیں ہے بلکہ یہ کام وہ ایک عرصہ سے کر رہے اور یہ کام کسی اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی مخاصمت کی وجہ سے ہے ۔ فیلڈ مارشل صاحب جب ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو انھوں نے اپنے فرائض منصبی کے تقاضوں کے تحت جب کرپشن کے ثبوت خان صاحب کے سامنے رکھے تو خان صاحب کو یہ بات بھلا کس طرح گوارہ تھی اس لئے کہ انھیں تو اگرسابق امریکن صدر جو بائیڈن فون نہیں کرتے تو وہ ان سے بد ظن ہو جاتے ہیں تو کیسے ممکن تھا کہ ان کے اہل خانہ کی کرپشن کے ثبوت اگر کوئی ان کے سامنے رکھے تو وہ اس کے لئے زندگی بھر کوئی کلمہ خیر کہیں ۔ اب2022میں جب نئے آرمی چیف کی تقرری ہونی تھی خان صاحب اس وقت وزیر اعظم نہیں تھے لیکن پھر بھی انھوں نے حکومت کو پیغام بھیجا کہ فلاں کو آرمی چیف بنا دیں لیکن جب بات نہیںبنی تو پھر آخر میں کہا کہ عاصم منیر کے علاوہ کسی کو بھی آرمی چیف بنا دیں جب یہ بات بھی نہیں مانی گئی تو پھر اکتوبر 2022میں لانگ مارچ کیا اور تقرری رکوانے کے لئے دھرنے کا اعلان کیا لیکن عوام کی قابل ذکر تعداد نہ ہونے پر اسے منسوخ کرنا پڑا ۔اس کے بعد 9مئی کو عملی طور پر فوج میں بغاوت کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوئی ۔ اس کے بعد مئی2025میں پاک بھارت کشیدگی اور جنگ کے دوران تحریک انصاف کی قیادت اور اس کے سوشل میڈیا نے جس طرح ریاست پاکستان اور ساتھ میںعسکری قیادت کے خلاف ہندوستان کے بیانیہ کے ساتھ اپنا بیانیہ بنایا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور اب پھر اسی طرح کی ایک اور کوشش کی گئی ہے ۔ 
 خان صاحب نے وزیرستان میں آپریشن کی سخت مخالفت کی ہے اور جن افغان شہریوں کو ریاست پاکستان نے واپس بھیجا ہے ان سے شرمندگی کا اظہار کیا ہے اور کہاہے کہ ان کو پاکستان سے نکالنا اسلامی روایات کے خلاف ہے ۔ کیا دہشت گردی کرنا اسلامی روایات ہیں ۔ خان صاحب نے جو کچھ کہا کم از کم مجھے اس پر رتی بھر بھی حیرت نہیں ہے اس لئے کہ ماضی میں بھی خان صاحب کی دہشت گردوں سے محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور یہی وجہ ہے کہ انھیں طالبان خان بھی کہا جاتا ہے ۔ 2014میں بھی آپریشن سے پہلے یہ ڈٹ کر مخالفت کرتے رہے لیکن پھر جب آپریشن شروع ہو گیا تو بحالت مجبوری اس کی حمایت کی ۔ اس کے بعد 2021 میں ہزاروں دہشت گردوں کو جیل سے رہا کروایا جن میں سزائے موت کے قیدی بھی شامل تھے اور جب انھیں اندازہ ہو گیا کہ ان کا اقتدار میں رہنااب ممکن نہیں رہا تو انھوں نے ہزاروں دہشت گرد افغانستان سے بھی پاکستان میں لا کر پاکستان کی سلامتی کی راہ میں بارودی سرنگیں بچھانے کا کام کیا ۔ اب بھی یہ کام اس لئے کیا جا رہا ہے کہ دہشت گرد خان صاحب کے ٹول بنے رہیں ۔ ملکی سلامتی کے خلاف بیانیہ صرف دہشت گردی کے حوالے سے نہیں ہے بلک چند ماہ پہلے پاک بھارت کشیدگی اور جنگ کے دوران علیمہ خان صاحبہ اور عمر ایوب خان کے بیانات سب نے سنے کہ یہ کچھ نہیں کریں گے اور ان کے پاس تو جہازوں کو اڑانے کے لئے تیل کے پیسے ہی نہیں ہیں اور پھر اس دوران تحریک انصاف کا سوشل میڈیا جس طرح ملک دشمن بیانیہ پر چلتا رہا یہ بھی سب کے علم میں ہے ۔ ملک کے دیوالیہ ہونے کے متعلق خان صاحب کی تقریریں اور پھر آئی ایم ایف کو خط اور یورپین یونین کو ہزاروں ای میلز کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کیا جائے ۔ یہ سب اقدام ملک دوستی میں نہیں آتے لیکن آخر میں پڑھنے والوں کے لئے ایک سوال کہ مشرف دور میں دہشت گردی میں فرقہ وارانہ رنگ زیادہ تھا اور اس کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات اسکول کالجز سب نشانہ پر تھے لیکن 2022کے بعد دہشت گردی کی جو لہر شروع ہوئی ہے تو اس میں نشانہ صرف افواج پاکستان ہیں تو ایک جانب بانی پی ٹی آئی کا بیانیہ اور دوسری طرف اس کی دہشت گردی کی شکل میں عمل کرنا ۔ ان دونوں باتوں میں کیا تعلق ہے یہ قارئین خود سوچیں۔

مزیدخبریں