جماعتِ اسلامی ....منزل سے کوسوں دُور!

09:10 AM, 30 Aug, 2025


آج سے چوراسی برس قبل اگست 1941ءمیں جماعتِ اسلامی کا قیام عمل میں آیا تو اس سے قبل بےسویں صدی کے تیسرے اور چوتھے عشروں میں جماعتِ اسلامی کے بانی امیر سید ابولاعلیٰ مودودی ؒ کی کئی تصانیف ، خطبات اور مضامین سامنے آ چکے تھے جن کی بنا پر برصغیر کےدینی اور علمی حلقوں میں اُن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا تھا۔ مولانا کی تصنیف ”الجہاد فی الاسلام“ کو وسیع پذیرائی ملی تھی ۔ حکےم الامت حضرت علامہ اقبال ؒ بھی مولانا مودودیؒکی فکر اور تحرےروں سے متاثر تھے ۔ جماعتِ اسلامی کی بنےاد رکھنے سے قبل 1937 ءکے اواخر میں لاہور میں علامہ اقبال سے مولانا مودودیؒکی تفصےلی ملاقات ہو چکی تھی اور انہوں نے مولانا کو دعوت دی کہ وہ پنجاب مےں آکر دےن کی دعوت اور اسلامی فکر کے احےاءکاکام شروع کریں۔چنانچہ اگست 1941 ءمےں مولانا مودودیؒ نے جماعتِ اسلامی کی بنےاد رکھی تو اُن کے نزدےک جماعتِ اسلامی کے قیام کا بڑا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذرےعے برصغےر جنوبی اےشےاءکے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگےوں مےں اےسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ وہ دین کی حقیقی تعلیمات پر کاربند ہو کر اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کے قےام کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ مولانا مودودیؒ نے جماعتِ اسلامی کو اےک اےسی روشن خےال اسلامی فکری تحرےک کے طور پر پےش کےا جس کے ذرےعے دعوت الی اللہ کے مقصد کو حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے جماعتِ اسلامی کو کسی فرقے، گروہ ےا مسلک تک محدود نہےں رکھا بلکہ تمام مسلمہ مکاتبِ فکر کے افراد کو دعوت دی کہ وہ اےک بڑے مقصد کے حصول کے لےے اےک پرچم تلے جمع ہو جائیں۔ کیونکہ منظم شر کا مقابلہ منظم نےکی کے بغےر نہےں کےا جاسکتا تھا۔ اُن کے نزدےک سُنتِ رسول ﷺ کی پےروی، اےمان، اجتہاد اور جہاد کے بغےر احےائے اسلام کی منزل سَر نہےں کی جاسکتی تھی۔    
جماعتِ اسلامی کا قیام عمل میںآیا تو اسے اپنے قیام کے روزِ اول سے ہی فکری لحاظ سے اےک بڑے چےلنج کا سامنا اس طرح کرنا پڑاکہ اےک طرف برصغےر جنوبی اےشےاءکے مسلمانوں کی اکثرےت اپنے عظےم قائد محمد علی جناح ؒ کی قےادت مےںآل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغےر جنوبی ایشیاءمیں مسلمانوں کے لیے ایک الگ خطہِ ارض کے حصول کو اپنی منزل قرار دے چکی تھی تو دوسری طرف جمےعت علماءہند، مجلسِ احرار، خدائی خدمت گار اور خاکسار تحریک جیسی مسلمان قوم پرست جماعتیں اور ان کے رہنما پاکستان کے قےام کی مخالفت کے راستے کو اختےار کر چکے تھے۔ اُن کے نزدےک انگرےزوں سے آزادی حاصل کرنا ہی مسلمانوں کے مسائل کا حل تھا مگر مولانا مودودیؒجو اےک زمانے مےں جمعےت علماءہند کے ترجمان اخبار ”الجمیعہ “ کے مدےر رہے تھے ۔وہ جمےعت کے گانگرس نوازجماعتی مو¿قف سے ہٹ کر اپنی تحرےروں اور خطبات کے ذرےعے اسلام کے احےاء، اسلامی معاشرے کے قےام اورالگ اسلامی رےاست کے حصول کو اپنا ہدف بنائے ہوئے 
تھے۔ اس طرح وہ بالواسطہ علامہ اقبال ؒ کے خطبہ الہ آباد مےں پےش کےے گئے برصغےر جنوبی اےشےاءکے شمال مغر ب اور شمال مشرق مےں مسلم اکثرےتی علاقوں میں مسلمانوں کی اےک جداگانہ قومی رےاست کے قےام کے نظرےے سے اتفاق کرتے دکھائی دےتے تھے۔ باالفاظِ دگر وہ مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص جسے عرفِ عام مےں دو قومی نظرےہ کہا جاتا ہے کی بھرپور وکالت کر رہے تھے ۔ لےکن افسوسناک امر ےہ ہوا کہ وہ برصغےر جنوبی اےشےاءکے مسلمانوں کی تارےخ کے اس انتہائی اہم اور فےصلہ کن موڑ پر عملاً تحرےک ِ پاکستان مےں شامل نہ ہونے اور بعض معاملات مےں مسلم لےگی قائدےن کو ہدفِ تنقےد بنانے کی بنا پر قےامِ پاکستان کے مخالف سمجھے جانے لگے۔ اس وقت سے قےامِ پاکستان کی مخالفت کا ےہ لےبل جماعتِ اسلامی کے ساتھ اےسا چپکا کہ آج تک دُور نہےں ہو سکا ہے۔
یہ حقےقت ہے کہ مولانا مودودیؒنے اپنی تقارےر، خطبات اور تعلےمات مےں برصغےر جنوبی اےشےاءکے مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص کی بھرپور وکالت کی۔ ےہ بات بھی رےکارڈ پر ہے کہ قےامِ پاکستان کے موقع پر انہوں نے بے پناہ خوشی کا اظہارکیا۔ کےا ےہ ستم ظریفی نہیں ہے کہ اس طرح کے خےالات رکھنے کے باوجود بھی مولانا مودودیؒ قےامِ پاکستان کی مخالفت کے ذمہ دار گردانے جاتے رہے ہےں۔ شاےد اس کی وجہ ےہ بھی ہے کہ مسلم لےگ قائد اعظم ؒ کی قےادت مےں ”پاکستان کا مطلب کےا لا الہ اللہ “ کا نعرہ بلند کر کے مسلمانوں کے لےے الگ وطن حاصل کرنے مےں کامےاب ہوئی تھی لےکن حقےقت ےہ ہے کہ مسلم لےگی اکابرےن کی اکثرےت اس نعرے سے کچھ ایسی مخلص نہےں تھی۔ اُن کے نزدےک پاکستان کے قےام کا مقصد محض اقتدار و اختےار کا حصول تھا۔ پاکستان کے قےام کے بعد ےہ لوگ پاکستان کے قےام کے اصل نظرےے اور مقصد کو بھُلا کر اسی راستے پر چل پڑے۔ اس طرح مولانا مودودیؒ کی جماعتِ اسلامی اور مسلم لےگی قےادت کے درمےان ٹکراﺅ کا پےدا ہونا لازمی امر تھا۔ لےکن اس کے باوجود جماعتِ اسلامی پاکستان مےں اسلامی نظام اور قرآن و سنت کی بنےا د پر اسلامی دستور کی تشکےل کے مشن پر گامزن رہی۔ مارچ 1949 ءمےں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے ”قرادادِ مقاصد“ کی منظوری اور بعد مےں 1951 ءعلماءکے بائےس نکات کی تےاری مےں جماعتِ اسلامی اور اُس کے بانی سےد ابولاعلیٰ مودودیؒ کی کوششوں اور کاوشوں کا بڑا عمل دخل تھا۔ ازاں بعد جماعتِ اسلامی مختلف ملکی اور قومی معاملات و مسائل مےں اہم کردار ہی ادا نہےں کرتی رہی بلکہ اُس کی اعلیٰ قےادت بالخصوص مولانا مودودی ؒکو اپنے قرےبی ساتھےوں کے ساتھ قےد و بند کی صعوبتےں بھی برداشت کرنی پڑےں۔ ساٹھ کی دہائی مےں صدر اےوب کے دور مےں جماعتِ اسلامی کو غےر قانونی قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی گئی اور اس کے قائدےن کو نظر بند کر دےا گےا۔ تاہم پاکستان کی سپرےم کورٹ نے اس پابندی کو غےر قانونی قرار دے کر مسترد کر دےا۔ستر کی دہائی میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے زور پکڑا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے لئے پُر تشددتحریک شروع ہوئی تو جماعت اسلامی اس کی مخالفت اور متحدہ پاکستان کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔ 1971ءکے پُر آشوب دور میں جب عوامی لیگ کی مسلح ذیلی تنظیم مکتی باہنی کے غُنڈے متحدہ پاکستان کے حق میں کوئی آواز سُننے کے لئے تیار نہیں تھے تو اپنی جانوں کی قربانی دیتے ہوئے متحدہ پاکستان کے حق میں آواز بلند کئے رکھی۔بعد میں ستر کی دہائی مےں بھٹو کے دور مےں 1973 ءکے آئےن کی تےاری ، متفقہ منظوری اور اس میں اسلامی دفعات کے شامل کروانے مےں جماعتِ اسلامی نے اہم کردار ادا کےا۔اسی کی دہائی میں جہاد افغانستان میں جماعت اسلامی سے وابستہ نوجوان عملی طور پر شریک رہے اور اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں۔تحریکِ آزادیِ کشمیر اور کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی جدوجہد میں بھی جماعت اسلامی کی کوششوں، کاوشوں اور قربانیوں کی تفصیل بہت طویل ہے۔اس کے ساتھ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں جماعت اسلامی ہمیشہ فرنٹ لائن میں رہی ہے۔ 
جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ تمام تاریخی حقائق ، پس منظر اورپیش منظر ایسا ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا یہی وجہ ہے کہ اس کو پاکستان کی اہم دینی سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔جس کی تنظےم اور حلقہ ِ اثر ہی پورے ملک مےں نہےں پھےلا ہوا ہے بلکہ اس کی سٹرےٹ پاور کو بھی سبھی تسلےم کرتے ہےں۔ اس مےں عہدےداروں کا انتخاب اےک مربوط اور مبسوط نظام کے تحت مقررہ مدت کے لےے اس طرح کےا جاتا ہے کہ کسی طرح کی بے قاعدگی ےا رائے دہندگان کی رائے سے انحراف کا سوال ہی پےدا نہےں ہوتا۔ جماعتِ اسلامی کو ےہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے بانی امےر مولانا سےد ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کو عالم اسلام مےں اےک اےسے فکری رہنما اور دےن کے داعی کی حےثےت حاصل ہے جن کی اسلامی فکر کی تشکےلِ نو اور احےائے اسلام کی کوششوں سے رہنمائی حاصل کر کے کئی اسلامی ممالک بالخصوص ترکی، تےونس اور سوڈان بلکہ مصر وغرہ میں اسلام پسند جماعتےں اسلامی انقلاب کی راہ پر کامےابی سے گامزن ہوئی ہیں لیکن ےہ بھی حقےقت ہے کہ پاکستان میں جماعتِ اسلامی، اسلامی انقلاب کی داعی ہونے کے باوجود کامےابی کی وہ منزل حاصل نہےں کر سکی ہے جو اسے حاصل کرنی چاہیے تھی۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کے اسباب وعلل کےا ہےں؟ جماعت کے قائدین کو اس سوال کا جواب ضرور ڈھونڈنا چاہیے اور اس کے ساتھ اس سوال کا جواب بھی ڈھونڈنا چاہیئے کہ اس کے احتجاجی دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں میں اگر دن بدن اضافہ ہوا ہے تو اس کے حق میں ووٹ دینے والوں کی تعداد میں اس سے بڑھ کر کمی ہوئی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ عوام الناس جماعت اسلامی پر اعتماد کرنے کے لئے کیوں تیار نہیں ہیں؟۔

مزیدخبریں