سیلاب سے بچنا ہے تو دریا کی گزرگاہیں خالی کرنا ہوں گی، ڈی جی پی ڈی ایم اے

03:40 PM, 29 Aug, 2025

لاہور: ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر دریا کے راستوں پر قبضے ختم نہ کیے گئے تو ہر سال سیلاب سے نقصان ہوتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فلڈ پلان ایکٹ کے تحت دریا کی گزرگاہوں میں موجود تمام غیر قانونی تعمیرات ختم کی جائیں گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک کا ریلا آیا، جو 1988 کے بعد سب سے بڑا ہے، لیکن خوش قسمتی سے شہر میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور کے 9 علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوا مگر ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

بلوکی کے مقام پر اس وقت 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے اور بھارت کی طرف سے بھی مسلسل 80 ہزار کیوسک پانی آ رہا ہے، جو آگے چنیوٹ اور ریواز برج تک پہنچے گا۔ ریواز برج حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہے اور بند توڑنے کا فیصلہ بھی ممکن ہے تاکہ جھنگ کو بچایا جا سکے۔

قصور کے علاقے میں دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ چار دن سے 2 لاکھ کیوسک سے زیادہ ہے، جس سے سلیمانکی کے مقام پر صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔ اب تک 1,769 دیہات پانی میں ڈوب چکے ہیں، 14 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے اور 4 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں سیلاب سے اب تک 20 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کی بروقت اطلاع نہ ملنے سے نقصان بڑھا، جس پر بین الاقوامی میڈیا نے بھی بھارت پر تنقید کی ہے۔

عرفان کاٹھیا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر دریا کے کنارے خالی کر دیں تاکہ ریسکیو اور امدادی کاموں میں آسانی ہو۔

مزیدخبریں