لاہور : پنجاب میں مون سون کی بارشوں اور بھارت سے آنے والے پانی کی وجہ سے شدید سیلاب آیا ہے، جس نے لاہور، قصور، جھنگ، حافظ آباد، سیالکوٹ، چنیوٹ، منڈی بہاؤالدین اور کئی دوسرے علاقوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حکام کے مطابق پچھلے ہفتے کے دوران تقریباً دس لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ جگہوں پر پہنچ چکے ہیں۔
دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور کئی حفاظتی بند ٹوٹ گئے ہیں جس سے سینکڑوں دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ لاہور کے شاہدرہ، بادامی باغ، منظور گارڈن اور دیگر علاقوں میں پانی داخل ہو گیا ہے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
چنیوٹ میں بند ٹوٹنے کے باعث سو سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے اور ہزاروں لوگ محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ ساہیوال اور بہاولپور میں بھی کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں، زرعی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔
حکام نے پانی کی آمد کے حوالے سے شدید انتباہ جاری کر رکھا ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کو سنجیدگی سے لیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متاثرین کی مدد کے لیے ڈرونز کے ذریعے متاثرہ جگہوں کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے، جس سے ریسکیو آپریشنز میں آسانی ہو رہی ہے۔
سیلاب کی اس تباہ کار صورتحال میں حکومت اور امدادی ادارے متاثرہ افراد کی خوراک، پانی اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں، لیکن صورتحال اب بھی بہت نازک ہے۔