پنجاب میں خطرناک سیلاب، دریا بپھر گئے، لاکھوں افراد متاثر، 17 جانیں چلی گئیں

09:19 AM, 29 Aug, 2025

لاہور : پنجاب اس وقت شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ بھارت کی جانب سے بڑی مقدار میں پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی آگئی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں، ہزاروں دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، اور اب تک 17 افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

کئی مقامات پر بند ٹوٹ چکے ہیں اور فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ کئی دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، سڑکیں، پل، ریلوے لائنیں پانی میں بہہ چکی ہیں۔

راوی سائفن سے گزرنے والے پانی کا بہاؤ 2 لاکھ کیوسک سے اوپر چلا گیا ہے، جب کہ چناب میں ہیڈ قادرآباد پر پانی کی سطح اب بھی خطرناک حد تک بلند ہے۔ گنڈا سنگھ والا (ستلج) میں بھی سیلاب کی شدت برقرار ہے، جہاں دریا نے کئی بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، مظفرگڑھ، وہاڑی، ملتان، میلسی اور دیگر علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ کچھ مقامات پر ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور فوجی اہلکار موجود ہیں، لیکن کئی جگہوں پر ابھی تک حکومت کی طرف سے خاطرخواہ امداد نہیں پہنچ سکی۔

ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک 51 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن 1122 پر رابطہ کریں اور اپنی لوکیشن ضرور شیئر کریں۔

ریلیف کمشنر اور ضلعی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خود فیلڈ میں موجود رہیں تاکہ لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ ادھر، کسانوں اور مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ان کا سب کچھ تباہ ہو چکا ہے اور وہ حکومت سے فوری امداد کے منتظر ہیں۔

مزیدخبریں