مشکل کی ہرگھڑی میں پاک فوج پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ۔ پاکستان کی فوج اور عوام ایک ہیں کوئی باطل قوت ان میں دراڑ نہیں ڈال سکتی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا اشارہ ان باطل قوتوں کی طرف ہے جو بھارت کے ایماء پر پاکستانی عوام اور فوج میں دوری پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ اس میں دورائے نہیں کہ وطن عزیز پر جب بھی کڑا وقت آیا ہمارے قومی سلامتی کے ادارے عوام کے ساتھ اور عوام ان کے ساتھ کھڑی رہی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بالکل درست کہا کہ ہم ایک ہیں جس کا مظاہرہ حال ہی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں سامنے آیا ۔ جب ایک ایک میزائل عوام نے ہمراہ کھڑے ہو کر چلوایا پاکستانی قوم بہادر اس لئے بھی ہے کہ مسلمان نے موت سے گھبرانا سیکھا ہی نہیں یہاں کی تو عورتوں کے کلیجے اتنے مضبوط ہیں وہ گھٹی میں بیٹوں کو شہادت پلاتی ہیں یہاں کا بچہ بچہ بارڈر پر جا کر خود لڑنے کا ممتمنی ہے… پاکستانی فوج کو پاکستانی عوام سے الگ سمجھنے والوں کو ’’چانن‘‘ ہو کہ یہ انہی مائوں کے بیٹے ہیں جو اس دھرتی پر وضو کر کے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں پاکستان صرف ایک ملک کا نام نہیں یہ ایک نظریہ ہے ایک سوج کا نام ہے۔
بھارت جہاں اس وقت کوئی ایک طبقہ بھی اپنے پورے کلچر اور روایات کے ساتھ سلامت نہیں… وہاں پاکستان ایک مکمل نظریئے اور روایات کا امین بن کر صرف اپنی زمین ہی نہیں اپنی دھرتی سے جڑی مذہبی ، تہذیبی اور معاشرتی روایات کا بھی پاسدار ہے… ہم زمینی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اپنی اخلاقی سرحدوں کی بھی حفاظت کرتے ہیں بھارت میں اس وقت جو معاشرتی ابتری ، تہذیبی گراوٹ اور اخلاقی تنزلی کا حال ہے وہ ان کی بالی ووڈ فلموں میں بھی عکس بن کر جھلکتا ہے اور وہاں سے نکلنے والی خبروں کی زینت بھی بنتا رہتا ہے ۔
بھارت میں خاندانی نظام بین المذاہب شادیوں اور کلچر کی توڑ پھوڑ نے بھارت کی کوئی ایک شناخت نہیں رہنے دی جسے وہ اپنا سیکولر ازم کہتے ہیں اس کے نتیجے میں وہاں کوئی ایک معاشرہ بھی اپنی اصل حالت میں تشکیل نہیں پا سکا۔ اس کے برخلاف پاکستانی گھرانے کا ہر شخص ایک دوسرے سے وابستہ ہے ہر گھر دوسرے گھر کے مشابہہ ہے تمام گھروں کی رسوم ، حدودو قیود ملتی جلتی ہیں نتیجتاً پاکستانی معاشرہ بہت ساری بیماریوں اور بیمار سوچ سے بھی بچا ہوا ہے ۔
آج کل بھارت کی اس گھٹیا سوچ سے ہمیں واسہ ہے جسے قائداعظم محمد علی جناح نے بہت پہلے دیکھ کر مشترکہ بھارت کے سربراہ بننے سے گاندھی کو انکار کر دیا تھا ۔ اگر بھارتی معاشرے کی کوئی ایک شخصی تصویر پیش کرنا ہو تو وہ ’’میجر گورو‘‘ ہے جو گزشتہ پاک بھارت جنگ میں شکست خوردگی کے زخم چاٹ رہا ہے لیکن گھٹیا ہونے کی انتہا یہ ہے کہ ابھی بھی اچھل اچھل کر بھارتی آبی جارحیت کے ذریعے پاکستان سے جنگ بڑھانا چاہتا ہے بے چارہ بزدل… کہتا ہے کبھی پاکستان کو پیاسا رکھ کر مارو کبھی اتنا پانی چھوڑو کہ یہ ڈوب جائیں اور ٹائروں کی کشتیاں بنا کر پھریں… یہ گھٹیا میجر گورو ابھی پاکستانی مزاج کو نہیں سمجھا جسے ان کے پائلٹ ابھی نندن کو اخلاقی وجوہات پر بھارت کو لوٹا دیا جس پر مشہور شاعر انور مسعود صاحب نے شعر بھی لکھا …
بھارت نے پائلٹ ابھی نندن کی شکل میں
جو کہ دیا تھامجھ کو لوٹا رہا ہوں میں
ہماری اپنی افواج پاکستان سے ایک ہی فرمائش ہے کہ اگر کبھی بھارتی میڈیا اور اس کا سب سے بدترین چہرہ ’’میجر گورو‘‘ہاتھ لگ گیا تو اسے پاکستانی عوام کے حوالے کر دیجئے گا ہمارا بلڈ پریشر اس بندے نے ہائی کر رکھا ہے۔ اب رہ گیا معاملہ ڈیم کے بننے کا تو یہ کون نہیں جانتا جو کام کرنا ہو حکومت نے اسے کوئی نہیں روک سکتاحکومتیں اپنے اپنے نظریئے کے مطابق آتی جاتی رہی ہیں اور پورے پانچ چار سال دھاندلی کا شور مچا کر اپنا دور اقتدار پورا کرجاتی ہیں۔ پاکستانی عوام اور پاکستانی فوج ایک پیچ پر رہتی ہے کیونکہ دونوں کی بقاء کا مسئلہ ہے دونوں کا وجود پاکستان سے ہے۔ دونوں پاکستان کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔لہٰذا ڈیمز بھی پاکستانی عوام اور پاکستانی افواج کی کاوش سے بنیں گے سیاست دانوں نے ہمیشہ اس کار خیر میں رکاوٹیں ہی ڈالی ہیں۔ اب کالا باغ ڈیم ہی کو لے لیں تین اطراف سے قدرت نے بنا بنایا ڈیم پاکستان کو دیا ہے مگر سیاسی خود غرضیوں عوامی عدم شعور اور علاقے کے ’’بڑوں‘‘ نے مل کر اسے کبھی بننے نہیں دیا کہ وہاں عوام کو روزی مل جائے گی شعور آ جائے گا ووٹر اپنے دماغ سے سوچنا شروع کر دے گا۔
مگر اب مسئلہ بقاء کا ہے پاکستانی افواج اور عوام واقعی ایک ہیں اور ان کے مسائل اور اس کا حل بھی مشترکہ سوچ کے نتیجے میں ہو سکتا ہے ۔ فوری طور پر ڈیمز بنانے پر توجہ کر کے بھارتی آبی جارحیت کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے … بھارت چونکہ بین الاقوامی قوانین کو نہیں مانتا لہٰذا اس دشمنی سے قانونی جنگ لمبی ہے مگر ڈیمز بنا کر اپنے لئے کچھ آسانی کی جا سکتی ہے۔ قوم کو فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف جناب عاصم منیر سے اس لئے بھی بڑی امیدیں ہیں کہ انہوں نے پاکستانی قوم کو پہلی بار اس فاتحانہ فخر سے آشنا کروایا ہے جس کے لئے ہم ساری عمر ترستے رہے…
پاکستانی عوام اور افواج پاکستان
08:58 AM, 29 Aug, 2025