پُرخطر ہفتہ

08:55 AM, 29 Aug, 2025

امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور ملک ہے، اس اعتبار سے امریکی صدر کو دنیا کا طاقتور ترین صدر سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت صدر امریکہ کسی دوسرے سربراہ مملکت کو فون کرے اور وہ اس کا فون سننے سے انکار کر دے، امریکی صدر اور امریکی حکومت اس کا تصور نہیں کر سکتی لیکن دنیا کے دو ملک اور ان کے سربراہوں میں یہ دم خم موجود ہے کہ وہ امریکی صدر کا فون سننے سے انکار کر دیں۔ ان دو ممالک میں اب بھارت اور اس کا وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل ہو چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل مودی کو فون کیا، اس نے سننے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ نے دوسرا فون کیا، دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو ٹرمپ ٹیم نے سمجھا شاید کوئی فنی خرابی ہے۔ کال تھرو  نہیں ہو رہی لہٰذا تمام سسٹمز کا جائزہ لیا گیا، تمام نظام درست کام کر رہا تھا لیکن یہ بات اب بھی ٹرمپ کا ذہن تسلیم کرنے سے قاصر تھا کہ مودی کی میز پر پڑے فون کی گھنٹی بجتی رہے اور وہ فون کال ریسو نہ کرے پس تیسری مرتبہ فون ملایا گیا کوئی جواب نہ ملا تو ٹرمپ کا چہرہ غصے سے تمتانے لگا، اس کے کان کی لوئیں مزید سرخ ہو گئیں اور پیشانی پسینے سے بھیگ گئی، چوتھی مرتبہ کال ملائی گئی جس کا وہی حشر ہوا جو اس سے قبل ملائی گئی تین کالز کا ہو چکا تھا۔ ٹرمپ غصے میں بڑبڑایا اور وہی گالی دی جو اکثر امریکی عام حالات میں بھی اپنی زبان کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ٹرمپ اپنی جھینپ مٹانے کے لئے اپنی میز سے اٹھا اور واش روم چلا گیا۔ وہاں اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بھارتی وزیراعظم کو مزید ننگی گالیاں دیں اور اسے سبق سکھانے کا عہد کیا۔ کسی بھی ملک کا سربراہ اگر دوسرے ملک کے سربراہ سے بات کرنا چاہے تو اس ملک کے سفیر کے ذریعے پہلے اسے مطلع کیا جاتا ہے پھر مقررہ وقت پر فون ملایا جاتا ہے۔ اس کال کے دوران سربراہ مملکت کے پاس اس کی کابینہ اور سٹاف کے اہم افراد موجود ہوتے ہیں۔ ٹرمپ نے جب مودی کو کال کی تو یہ تمام طریقہ کار طے کیا گیا لیکن مودی بھی کسی سے کم نہیں۔ اس میں اور ٹرمپ میں بعض باتیں مشترک ہیں، دونوں اذیت پسند ہیں۔
غصے اور ندامت کی کیفیت میں ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر مودی کی دکھتی رگ کو چھیڑا اور کہا کہ مودی ایک بڑا لیڈر ہے لیکن پاکستان نے بھارت کے سات لڑاکا ہوائی جہاز مار گرائے ہیں جو پاکستان اور پاکستانی ائیرفورس کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کامیابی کا سوچا بھی نہ جا سکتا تھا۔ ٹرمپ ا ور مودی جب تک زندہ ہیں ٹرمپ اس کی یہ چھیڑ بنائے رکھے گا اور جب چاہے گا مودی کو بے عزت کرتا رہے گا۔ ٹرمپ نے اول اول جہازوں کی تعداد تین بتائی تھی پھر چار اگلے مرحلے میں پانچ پندرہ روز بعد چھ اور اب انہوں نے اس تعداد کو سات تک پہنچا دیا ہے۔ یہ سات تازیانے جو صرف مودی اور اس کے سروسز چیفس کے تن پر ہی نہیں بلکہ بھارت کے تن پر برستے ہیں تو پورے بھارت سے چیخوں کی آواز بلند ہوتی ہے۔ مودی نے اپنی درد کی ٹیسوں کو کم کرنے کے لئے اپنی فوج کے جرنیلوں کو اشارہ کیا جنہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی قوم کو پیغام دیا کہ ہم پاکستان پر بدلہ لینے کے لئے حملہ کرنے والے ہیں لہٰذا پورا بھارت اس کے لئے تیار رہے۔ عرض کیا تھا ٹرمپ سارا کھیل بگڑتا دیکھ کر مودی کے قدموں میں لیٹ جائے گا، اس کی طرف سے مودی کو کئے گئے چار فون دراصل اسے یہ اطلاع دینے کے لئے کئے گئے تھے کہ ٹرمپ ا ب اس کے قدموں میں لیٹنے کے لئے تیار ہے۔ یہ نوبت شاید نہ آتی لیکن روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ٹرمپ سے ملاقات اس کے اندر جھانک کر اندازہ کر لیا تھا کہ ٹرمپ کے پلے اب کچھ نہیں، الاسکا سے واپس آکر پیوٹن نے چین، ایران اور بھارتی قیادت کو اعتماد میں لیا اور بتایا کہ اس کا مخالف بہت جلد گھٹنے ٹیک دے گا۔ مودی نے ٹرمپ کی فون کال کو جوتے کی نوک پر رکھا تو اس کے پیچھے وہی اعتماد تھا جو اسے پیوٹن نے دیا اور اس اعتماد کے ساتھ چین نے بھی اس کا حوصلہ بڑھایا کہ ہمارے ہوتے ہوئے امریکہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ بھارت دنیا کے مختلف ممالک کو نوسوارب ڈالر کا مال برآمد کرتا ہے۔ اس میں سے وہ امریکہ کو صرف اپنی کل برآمدات کا فقط سات فیصد ایکسپورٹ کرتا ہے۔ امریکہ اگر بھارت سے چونی کی چیز خریدنا بند کر دے تو بھارت کو اس سے اب کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ایران، روس اور چین نے بھارت کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی مارکیٹوں میں بھارتی مال کی کھپت کرا دیں گے یوں بھارت کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔
چند روز قبل جب بھارتی وزیر خارجہ چین کے دورے پر تھے تو چین نے ان کے ذریعے مودی کو پیغام بھیجا کہ بھارت اس کٹھن دور میں پاکستان پر حملے کا خیال دل سے نکال دے جو ہونا تھا وہ ہو چکا بات بڑھانے سے اسے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو گا کیونکہ پاکستان حملے کی صورت میں زیادہ طاقت سے جواب دے گا۔
روس، بھارت اور چین سے مختلف محاذوں پر شکست کھانے اور بے عزتی کرانے کے بعد ٹرمپ چاہتا ہے کہ بھارت، پاکستان پر حملہ کر کے مزید رسوا ہو اس حملے کے لئے وہ بھارت کو غیر محسوس طور پر اکسا رہا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے متعدد بار سات بھارتی لڑاکا طیاروں کے گرائے جانے کا بار بار تذکرہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ مودی اور بھارتی فوج اپنی بے عزتی محسوس کریں۔ بھارتی میڈیا اور عوام برانگیخت ہوں اور بھارت میں پاکستان پر حملے کا ماحول بنے۔ پاکستان میں سیلابی صورتحال ہے۔ صوبہ خیبر، صوبہ پنجاب کے بعد بارشوں نے کراچی ا ور ملحقہ علاقوں میں تباہی مچا دی ہے۔ بھارت نے ضرورت سے زیادہ پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیا ہے گو اس امر کی اطلاع بھی دی گئی لیکن جس مقدار میں پانی بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے عزائم کیا ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک دریائے ستلج میں بھارت کی طرف سے آنے والا پانی دریا کے پل کے اوپر سے بہہ کر پاکستان کی طرف آرہا ہے دیگر دریا بھی بپھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی طرف دریائوں کے کارے خالی کرائے گئے ہیں۔ ریڈالرٹ کی سی کیفیت ہے۔ پانی خطرے کے نشانوں سے بہت اوپر جا چکا ہے۔ آبادیوں سے انخلاء جاری ہے، بعض علاقوں میں بند ٹوٹ گئے ہیں اور پانی بستیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج صورتحال کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کر رہی ہیں کیونکہ بھارت کی طرف سے مہم جوئی کا خطرہ موجود ہے۔ آنے والا ایک ہفتہ متعدد اعتبار سے بہت پُرخطر ہے، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں