پاکستانی ثالثی سے ایران امریکا جنگ بندی برقرار، ہفتہ وار پٹرولیم بل 80 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا: وزیراعظم

08:11 PM, 29 Apr, 2026

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے پاکستان پر اثرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں کامیابی ملی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے ملکی معیشت پر جنگ کے سنگین سائے اور سفارتی کامیابیوں کا تذکرہ کیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔11 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان 21 گھنٹے پر محیط طویل ترین مذاکرات ہوئے۔اس عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انتھک محنت کی، جس کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔
 ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت کے ذریعے اپنی اعلیٰ قیادت کو پیغام پہنچانے اور رابطے میں رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔شہباز شریف نے واضح کیا کہ بیرونی جنگ نے پاکستان کے معاشی ترقی کے سفر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جنگ سے قبل جو پٹرولیم بل ہفتہ وار 30 کروڑ ڈالر تھا، وہ اب بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں بے پناہ اضافے کے باعث حکومت جمعہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لے گی۔وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ مسائل پہاڑ جیسے ہیں لیکن حکومت سرخرو ہوگی۔    "ہم نے متحدہ عرب امارات (UAE) کے قرضے واپس کر دیے ہیں، جو ہماری معاشی بہتری کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ اگرچہ جنگ نے ہماری دو سال کی محنت کو نقصان پہنچایا، لیکن ہم معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں۔

مزیدخبریں