ٹرائیکا کے درمیان جنگ کے حیران کن سٹرٹیجک پہلو

08:34 AM, 30 Apr, 2026

 ٹرائیکا کے درمیان جاری جنگ کا جب مختلف پہلوﺅں سے جائزہ لیا گیا۔ تو کچھ حیران کن زمینی سٹرٹیجک نوعیت کے نتائج سامنے آئے ۔ یہ جائزہ کسی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں بلکہ اب تک کے جنگی حقائق کے تناظر میں تمام فریقوں کی کمزوریاں ، کامیابیوں اورمنصوبوں کامختلف پہلوﺅں سے مختصراًاحاطہ کیا گیا ہے ۔اب تک کی جنگ کے بعد یہ حقیقت طشت ازبام ہوچکی ہے کہ امریکہ کی سپرمیسی کا سورج آہستہ آہستہ غروب ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ اندھی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا سپر طاقت کواس خطے میں پانچ سال کے اندر اندردوسری بار ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اسی طرح امریکہ کا بغل بچہ (اسرائیل ) کا ناقابل شکست ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ گیا ۔اس جنگ میں امریکہ سے جو ایک بنیادی ٹیکنیکل سٹرٹیجک غلطی ہوئی ۔ جس کا خمیازہ وہ اب تک بھگت رہا ہے اور پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث بنتا جارہاہے ۔ جب وہ ایران پر حملہ آور ہوا ، تو اس نے اسے تنہا سمجھا۔ اب فاش ٹیکنیکل جنگی غلطی ہو چکی تھی ۔ کیونکہ اب اس کا سامنا نہ صرف ایران سے بلکہ پس پردہ اس کے طاقتور تین حلیفوں سے بھی تھا ۔ جنہوں نے نہ صرف اسے بلکہ اس کے بغل بچے کو بھی ان کی جدید ترین ٹیکنالوجی و مہلک ترین ہتھیاروں سمیت چاروں شانے چت کر دیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جنگ بغیر کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت لڑی گئی یا امریکی و اسرائیلی جنگی منصوبہ بندی میں اناڑ ی ہیں ۔ یا پھر ان کی قیادتوں کے کچھ ذمہ داران اس جنگ کو لاحاصل سمجھتے تھے اور انہوں نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی ۔ بہرحال کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کی جارہی ہے ۔ آئے روز زبردستی عہدوں سے ہٹانا اور استعفے بہت کچھ سمجھا رہے ہیں۔ 
اس جنگ کے دوران ایک بہت ہی دلچسپ پہلو سامنے آیا ۔ یو ایس، اسرائیل اور انڈین فورسز کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں ہوا ۔ غیر متزلزل عزم نہ ہونے کی وجہ سے تینوںفورسز کا میدان جنگ میں لڑنے کا مورال بہت ہی کمزور ہے۔ درحقیقت تینوں ہی شکست خورہ ہیں ۔ جب بیانیے مختلف فوبیا کا شکار ہوں، تعصب، ضد اور توسیع پسندانہ عزائم کی بنیاد پر ہوں ۔ تو فورسز دلجمعی سے نہیں لڑا کرتیں، جنگ سے جی چرانے کے بہانے ڈھنڈتی پھرتی ہیں ۔ بزور قوت جرمن ہٹلر بیانیہ کی برتری، ہندو ازم کا پرچار، کیمونزم کی بنیاد پر روس کی محنت کشوں پر طبقاتی بالادستی، امریکہ و مغرب کی تہذب وثقافت کے تحفظ کے نام پر جنگ وجدل ، یہودیوں کا نسل پرستانہ جنون کا خواب اور اسلام کے لبادے میں خود ساختہ افکار ٹھونسنے جیسے انتہا پسندانہ بیانیے خطے ودنیا میں صرف اور صرف تباہی وبربادی لے کر آئے ۔ اس کے مقابلے میں اسلام کا تصور جہاد (محمدی ڈاکٹرائن) بلا تفریق و امتیاز رنگ ونسل ، مذہب ، خطہ ، زبان ، لوگوں کی جان ومال عزت اور عقل وشعور کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے ۔ نبوی جہادی بیانیہ کا بنیادی تصور ہی عدل وانصاف کااحیاءہے ۔ ناکہ دنیا کی بربادی ، تباہی ، بلیک میلنگ و نسل کشی ۔ اسی لیئے تو کہا گیا کہ نبوی جہادی بیانیہ میں زندگی رکھی گئی ہے ۔ خیروبرکت رکھی گئی ہے۔ 
 ٹرائیکا کے درمیان جنگ دراصل مذہبی جنونیوں، قبضہ مافیا اور سیاسی اقتدار کے حصول و مفادات کی جنگ ہے ۔ جو اپنے ہی بے گناہ شہریوں کی لاشوںپر لڑی جارہی ہے ۔ لیکن اس کی قیمت پوری دنیا چکا رہی ہے ۔ خاص کر پاکستان و امت مسلمہ ۔ یہ ایسی جنگ ہے جس میں سویلین قیادتوں اور اداروں کے پاس فیصلہ سازی کا کوئی اختیار نہیں ۔ بدقسمتی سے اس خون ریز کھیل کا ریموٹ انتہا پسندانہ و توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والوں کے پاس ہے۔ جس سے دنیا کا امن شدید خطرے سے دوچار ہو چکا ہے۔ اس جنگ میں پراکسیز کی اہمیت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے ۔کہ پراکسیز کی مدد سے دشمنوں کوکس طرح مشکلات سے دوچار کیا جا سکتا ہے؟ ۔ بلکہ بسا اوقات جو دشمن کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے اور پسپا ہونے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ خطے میں جاری خوفناک جنگوں اور غیر یقینی صورت حال کا تقاضا ہے کہ خلیجی ممالک بھی اپنی سلامتی کے لیے ایسی ہی پراکسیز کھڑی کریں ۔اور ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی اپنے ازلی دشمنوں کے مقابلے کے لیے اپنی پراکسیز کو پوری قوت سے کھڑا کرنا ہوگا ۔ 
جنگ سے نڈھال تینوں فریقوں کے درمیان اگر کوئی جنگ بندی کا معاہدہ ہو جاتا ہے ۔ تو جنگوں کی تاریخ کی یہ ایسی مہنگی ترین جنگ بندی ہو گی ۔ جس میںنہ کوئی فاتح ہو گا اور نہ ہی مفتوح ۔البتہ ہر کوئی اپنی اپنی جیت کا ڈھنڈورا ضرور پیٹے گا ۔ کوئی مانے یا نہ مانے پانچ ایٹمی اور ایک نان ایٹمی ریاستوں کے درمیان جاری ہولناک جنگ ، اب اعصابی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ کوئی فرنٹ میںلڑ رہا ہے تو کوئی پس پردہ ۔ بنے گا سکندر وہی جو اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھے گا۔(جاری ہے )

مزیدخبریں