پیچیدہ مذاکرات سفارتی موقع بھی اور امتحان بھی

08:33 AM, 30 Apr, 2026

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امن مذاکرات نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ خطے میں پاکستان کی سفارتی اور امن کے کوششوں کیلئے کوشاںملک کی طرف مبذول کرائی ہے۔ پاکستان نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے جو پیچیدہ عالمی تنازعات میں ”ثالثی اور رابطے کا پل“ بن سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوششیں واقعی کسی پائیدار امن کی طرف بڑھ رہی ہیں یا یہ صرف وقتی سفارتی سرگرمیوں تک محدود رہیں گی؟امریکہ کی ہٹ دھرمی اور دھمکیوں کے سائے میں اپنی بات کو منوانے کی سوچ نے مذاکرات کو غیر سنجیدہ بنا دیا ہے ، کوئی مذاکرات ہوں ، کسی بھی مسئلے پر ہوں وہ کچھ دو اور کچھ لو کی بنیا د پر ہوتے ہیں ، دوران مذاکرات دھمکیوںاور مد مقابل کی تذلیل مذاکرات کو غیر سنجیدگی کی طرف لے جاتے ہیں ، جنگی طور پر ایران نے اپنا لوہا منوالیا ہے جو امریکہ کے بغل بچے اسرائیل کیلئے خوف کی علامت بن چکا ہے اسلئے سخت شرائط سامنے آتی ہیں ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے دھمکیاںاپنی جگہ ۔ دنیا بھر کے صاحب الرائے لوگ ایک گو مگو کی صورتحال سے دو چار ہیں ، میرے گزشتہ کالم کو مزید تقویت ملتی ہے کہ یہ گومگو کی صورتحال عالمی سٹے بازوں خاص طور مبینہ طور نامزد لوگوںکی دولت کے اضافہ کا سبب بن رہی ہے ، دوسری جانب تیل کی بڑھتی ، گرتی قیمتوں نے دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رکھا ہے ، معیشت کو پہنچنے والے آج کے اثرات آنے والے برسوں تک ترقی پسند ممالک ہوں یا دولت مند ممالک سب کیلئے نقصان دہ ہوگا ۔ موجودہ مذاکرات کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ”اعتماد کا فقدان“ بنیادی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
فریقین ایک دوسرے کے م¶قف کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اور ہر قدم پر سیاسی و سکیورٹی خدشات مذاکرات کو سست روی کا شکار کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بات چیت جاری تو ہے، مگر پیش رفت محدود ہے۔مذاکراتی ماحول میں اسرائیل کا کردار ایک ایسے فریق کا ہے جو جنگ کو بطور پالیسی ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ نیتن یاہو کی سیاست ہمیشہ سے داخلی دباﺅ، سلامتی کے خوف اور عسکری برتری کے بیانئے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایران کے معاملے میں بھی وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دباﺅکم نہ ہو، کیونکہ ان کے نزدیک نرمی کا مطلب کمزوری ہے۔جس دہشت گردی کو اسرائیل کامیابی سمجھتا ہے، وہی بیانیہ امریکا کے لیے بوجھ بن جاتا ہے، اور ایران کے لیے مذاکراتی سودے بازی کا موقع پیدا کرتا ہے۔ یہی تضاد اس بحران کو الجھاتا ہے۔ ایران کی داخلی اور علاقائی پوزیشن بھی اس وقت پیچیدہ ہے۔ ایک طرف اس کی قیادت سخت مو قف رکھتی ہے، دوسری طرف اسے معلوم ہے کہ مکمل جنگ اس کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے تہران ایک دوہری حکمت ِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے: مذاکرات میں سختی اور میدان میں مزاحمتی صلاحیتوں میں آگے بڑھ جانا۔ اس کی یہی دوہری پالیسی اسے یہ موقع دیتی ہے کہ وہ دشمن کو یہ احساس دلائے کہ اگر اس کے مطالبات نہ مانے گئے تو قیمت بڑھے گی۔ یہ قیمت صرف فوجی نہیں ہوگی، بلکہ تیل، تجارت، سمندری راستوں اور سیاسی استحکام پر بھی پڑ سکتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی حیثیت اس سب کے درمیان ایک نئے تناظر میں سامنے آتی ہے۔ اسلام آباد مذاکرات نے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان محض ایک خاموش تماشائی نہیں بلکہ خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ کردار محدود اور نازک ہے، مگر اس کے اثرات غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔ اگر یہاں کوئی جزوی سمجھوتا نکلتا ہے تو پاکستان کی سفارتی ساکھ بڑھے گی؛ اور اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو بھی پاکستان اس بحران کے اہم سفارتی مراکز میں شمار ہوگا۔ اس لحاظ سے اسلام آباد اب صرف ایک شہر نہیں، بلکہ خطے کی اس سالمیت کا ایک عالمی علامت بن چکا ہے۔ اسرائیل جنگ کو دباﺅکے ہتھیار کے طور پر رکھنا چاہتا ہے، ٹرمپ اس سے نکلنا چاہتے ہیں، اور ایران اسی کھینچا تانی میں اپنی قیمت بڑھا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی بھی فریق مکمل طور پر فاتح نظر نہیں آ رہا۔ ایران بھی اپنی شرائط منوانے کے سخت ہے۔ یہی صورتِ حال اس بحران کو سب سے زیادہ خطرناک بناتی ہے، کیونکہ جب سب فریق خود کو جزوی طور پر مضبوط سمجھتے ہیں، تو سمجھوتے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کی اس نئی کشیدگی میں اصل امتحان ہتھیاروں کا نہیں، بلکہ اعصاب کی مضبوطی کا امتحان ہے۔ اگر اسلام آباد مذاکرات سے کوئی جزوی پیش رفت نکلتی ہے تو وہ شاید وقتی سکون دے، مگر بنیادی تنازع حل نہیں کرے گی۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو خطہ ایک بار پھر ایسی کشیدگی میں داخل ہو سکتا ہے جس میں کسی بھی لمحے کوئی حادثہ پورے نقشے کو بدل دے۔امریکہ اسوقت اسرائیل کی جنگ لڑ رہا ہے جس سے اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے جسکا ذکر امریکی دانشور بھی کررہے ہیں ، جہاں دنیا میں اس جنگ میں مہنگائی کا جن اپنا مقام بنارہا ہے جس سے امریکی عوام بھی محفوظ نہیں یہ وہی وجہ ہے کہ دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ٹرمپ جنگ کی قیمت سے بچنا چاہتے ہیںامریکہ اپنی معیشت کو لگام دینے کیلئے آبنائے ہرمز میں کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے ، آج دنیا میں جنگیں معاشی جنگیں ہیں ہر فریق قیمتی اسلحہ کے نقصانات کے ساتھ آنے والے دنوں میں اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہے پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک ”سفارتی موقع بھی ہے اور امتحان بھی“۔ ایک طرف اسلام آباد کی میزبانی اسے 
عالمی سفارت کاری میں اہم مقام دے رہی ہے، تو دوسری طرف اگر یہ مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچے تو مایوسی کا تاثر بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ دنیا پہلے ہی ایسے کئی مذاکرات دیکھ چکی ہے جو شور شرابے سے شروع ہوئے مگر خاموشی پر ختم ہو گئے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کی عالمی سیاست میں امن کے بیانات تو بہت ہیں، مگر عملی فیصلے کمزور ہیں۔ یوکرین جنگ سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی تک، ہر جگہ یہی نظر آتا ہے کہ میدان میں طاقت اور مذاکراتی میز پر اپنا معاشی فائدہ، سرحدوںکی حفاظت کی یقین دہانی ایجنڈے کی پہلی شرط نظر آتی ہے اسلام آباد مذاکرات میں اگر فریقین لچک دکھائیں تو یہ عمل کسی ابتدائی معاہدے تک پہنچ سکتا ہے۔پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ صرف میزبان نہیں بلکہ ”موثر سہولت کار (facilitator)“ ہے ، قابل اعتماد کردار جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت کا ہے وہاں سب سے زیادہ اہم اور مخلصانہ اور امن کی کوششوں میں نہ تھکنے والا کردار ہمارے نڈر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ہے ۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد امن مذاکرات ایک نازک مگر اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ امید اور خدشہ دونوں ساتھ چل رہے ہیں، اسلام آباد مذاکرات میں پاکستان کے کردار کوعالمی ادارے اور شخصیات تسلیم کررہے ہیں جبکہ پڑوس کی منافقانہ جمہوریت ، منافقانہ سفارت کاری کو کاری ضرب لگی ہے جس پر پاکستان کے عوام خوشی کا اظہار کررہے ہیںاور پاکستان کی ترقی کی دعائیں کررہے ہیں اس کامیاب سفارت کاری کو مستقبل میں آزادی کشمیر کیلئے بھی سود مند سمجھتے ہیں۔

مزیدخبریں