معاشرے صرف قوانین، سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بنتے، بلکہ وہ انسانوں کے رویّوں، جذبات اور سوچوں سے تشکیل پاتے ہیں۔ جب کسی سماج میں انتہا پسندی، جنونیت اور عدم برداشت جڑ پکڑنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہاں انسان کے اندر موجود فطری توازن بگڑ چکا ہے۔ یہ توازن صرف قانون سازی یا سختی سے بحال نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جہاں انسان اپنے جذبات کا اظہار کر سکے، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے، اور زندگی کے حسن کو محسوس کر سکے۔
میں نے اپنے کالموں اور وی لاگز میں بارہا اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اگر ہم ایک نارمل، صحت مند اور متوازن معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں لوگوں کو “کتھارسس” یعنی جذباتی اخراج کے مواقع دینے ہوں گے۔ یہ مواقع صرف کھیل، موسیقی، تھیٹر، فلم، ادب اور سیاحت کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔ جب انسان اپنی توانائی مثبت سرگرمیوں میں صرف کرتا ہے تو اس کے اندر کی شدت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں فنونِ لطیفہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہاں فلم، موسیقی، تھیٹر اور سیاحت کو صرف تفریح نہیں بلکہ سماجی توازن کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ لوگ فلم دیکھ کر، موسیقی سن کر یا کسی خوبصورت مقام کی سیر کر کے اپنے اندر کے دباو¿ کو کم کرتے ہیں، اور یہی چیز انہیں ایک بہتر انسان بناتی ہے۔
اگر ہم اپنے خطے پر نظر ڈالیں تو ہمیں واضح فرق نظر آتا ہے۔ بھارت نے اپنی فلم انڈسٹری کے ذریعے نہ صرف ثقافتی اثرورسوخ بڑھایا بلکہ اربوں ڈالر کی معیشت بھی کھڑی کی۔ سری لنکا اور مالدیپ نے سیاحت کو اپنی معیشت کی بنیاد بنا لیا، جبکہ دبئی نے ایک صحرا کو عالمی سیاحتی مرکز میں تبدیل کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان، جہاں قدرتی حسن کی کوئی کمی نہیں، جہاں تاریخی اور مذہبی مقامات کی کی کوئی کمی نہیں ہے، وہاں ہم کیوں اس میدان میں پیچھے رہ گئے؟۔
اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری پالیسیوں کا تضاد رہا ہے۔ ہم نے ایک طرف ترقی کی بات کی، مگر دوسری طرف ان شعبوں کو نظر انداز کیا جو ترقی کی بنیاد بن سکتے تھے۔ فلم انڈسٹری، جو کبھی پاکستان کی پہچان تھی، زوال کا شکار ہو گئی۔ سینما گھر بند ہوتے گئے، فنکار بے روزگار ہوتے گئے، اور ایک پوری صنعت تقریباً ختم ہو کر رہ گئی۔
لیکن اب حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں، اور اس تبدیلی کی ایک جھلک حالیہ اعلان میں دکھائی دیتی ہے جہاں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب میں 50 ایکڑ پر مشتمل فلم سٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک سوچ کی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ یہ فلم سٹی محض ایک عمارت یا اسٹوڈیو نہیں ہوگی بلکہ ایک مکمل “اینڈ ٹو اینڈ” میڈیا پروڈکشن ہب ہوگا جہاں فلم، ٹی وی، اینیمیشن اور ڈیجیٹل میڈیا کی تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوں گی۔ جدید اسٹوڈیوز، ساو¿نڈ اسٹیج، پوسٹ پروڈکشن لیبز اور وی ایف ایکس جیسی ٹیکنالوجی کی دستیابی اس صنعت کو ایک نئی زندگی دے سکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ایک فلم صرف اداکاروں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے سینکڑوں لوگ کام کرتے ہیں.... رائٹرز، ہدایتکار، کیمرہ مین، ایڈیٹرز، ٹیکنیشنز، اور بہت سے دیگر شعبے۔ اس طرح ایک صنعت درحقیقت کئی صنعتوں کو جنم دیتی ہے۔ تاہم، صرف انفراسٹرکچر بنانا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنی پالیسیوں میں بھی بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ سنسر شپ کے غیر ضروری دباو¿ کو کم کرنا ہوگا، تخلیقی آزادی کو فروغ دینا ہوگا، اور فنکاروں کو ایک محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ جب تک فنکار خود کو آزاد محسوس نہیں کرے گا، وہ وہ تخلیق نہیں کر سکتا جو معاشرے کو متاثر کرے۔
اسی طرح سیاحت کے شعبے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات، تاریخی شہر، صوفی درگاہیں اور مذہبی مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں۔ لیکن ہمیں انفراسٹرکچر، سکیورٹی اور سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ لوگ یہاں آنے میں خود کو محفوظ اور مطمئن محسوس کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ فلم اور سیاحت صرف معاشی ترقی کے ذرائع نہیں بلکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی کے ضامن بھی ہیں۔ جب لوگ مختلف ثقافتوں، خیالات اور طرزِ زندگی سے آشنا ہوتے ہیں تو ان میں برداشت پیدا ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کو سمجھنا سیکھتے ہیں، اور یہی چیز انتہا پسندی کے خلاف سب سے بڑی دیوار بنتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ شدت پسندی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آج دنیا کے کئی ممالک میں امن قائم ہو چکا ہوتا۔ اصل حل یہ ہے کہ ہم انسان کے اندر موجود سختی کو نرمی میں بدلیں، اور یہ کام صرف ثقافت، فن اور تفریح کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کتاب کے ساتھ ساتھ تھیٹر بھی دکھائیں، انہیں کھیل کے میدان بھی دیں اور موسیقی سننے کا موقع بھی فراہم کریں۔ ہم انہیں صرف ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے بجائے ایک مکمل انسان بنانے کی کوشش کریں۔ پنجاب فلم سٹی کا منصوبہ اگر صحیح سمت میں آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف فلم انڈسٹری کی بحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ یہ ایک نئے پاکستان کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے—ایک ایسا پاکستان جہاں اختلاف کو برداشت کیا جائے، جہاں تخلیق کی قدر ہو، اور جہاں زندگی کو جینے کا حق حاصل ہو۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم واقعی انتہا پسندی، عدم برداشت اور جنونیت کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں بندوق نہیں بلکہ قلم، کیمرہ، موسیقی اور سیاحت کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک نارمل، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
فلم انڈسڑی کا فروغ، انتہا پسندی کا خاتمہ
08:32 AM, 30 Apr, 2026