امریکہ کی بقا کی جنگ شروع ہو چکی، ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا اولین ترجیح ہے: پیٹ ہیگستھ

08:29 PM, 29 Apr, 2026

واشنگٹن : امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بعد پہلی بار کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر تہلکہ خیز بریفنگ دی ہے۔ امریکی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشن محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ امریکا کے وجود کی جنگ ہے۔
کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایران کے خلاف برسرِ پیکار ہوئے ابھی صرف دو ماہ ہوئے ہیں اور صدر ٹرمپ کے حکم کے مطابق ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر ختم کرنا ہمارا ہدف ہے۔ جنرل ڈین کین نے اس موقع پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا
    "ہماری پیشہ ور فوج ایران میں اپنے مقررہ اہداف حاصل کر چکی ہے اور ہم امریکا کو محفوظ بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات سے گریز نہیں کریں گے۔
انتظامیہ نے کانگریس سے 1.5 ٹریلین ڈالرز کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔ جنرل ڈین کین کے مطابق     یہ سرمایہ کاری محض اسلحے کے لیے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کی جنگوں میں برتری حاصل کرنے کے لیے ہے۔    میدانِ جنگ اب تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو چکا ہے، جس کے لیے خطیر رقم درکار ہے۔
بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگستھ نے سیاسی محاذ پر بھی سخت حملہ کیا۔ انہوں نے ڈیموکریٹس اور شکست خوردہ ذہنیت رکھنے والے سیاست دانوں کو ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف ہم بیرونی دشمن سے لڑ رہے ہیں، وہیں ہمیں اندرونی طور پر ڈیموکریٹس کے "مایوس کن پروپیگنڈے" کا سامنا ہے۔
وزیرِ دفاع نے معاشی پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی اخراجات میں اضافے سے امریکی نوجوانوں کے لیے محکمہ دفاع میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف دفاع بلکہ ملکی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔
 اس بریفنگ سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے معاملے پر کسی قسم کی لچک دکھانے کے موڈ میں نہیں ہے اور وہ دفاعی بجٹ میں بھاری اضافے کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی فوجی بالادستی کو دوبارہ قائم کرنا چاہتی ہے۔

مزیدخبریں