سیول:جنوبی کوریا میں چین کی آرٹیفیشل اینٹیلجنس سروس "ڈیپ سیک" دو ماہ کی معطلی کے بعد دوبارہ دستیاب ہو گئی ہے۔ تاہم، ایپ کی واپسی کے ساتھ کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں، خاص طور پر پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے۔ جنوری میں اس ایپ کو لانچ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس نے صارفین کا ذاتی ڈیٹا بغیر اجازت کے منتقل کیا تھا، جس پر حکام نے اس کو معطل کر دیا تھا۔
ایپ نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے کہ اب وہ کوریا کے ذاتی معلومات کے تحفظ کے قانون کے مطابق عمل کرے گی، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب ہوں گے؟ "ڈیپ سیک" نے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ کورین صارفین کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ چین اور امریکا کی کمپنیوں کو اپنی ذاتی معلومات کی منتقلی سے انکار کر سکیں، لیکن اس کے باوجود عالمی سطح پر ڈیٹا کی منتقلی پر خدشات قائم ہیں۔
یہ قدم جنوبی کوریا کی حکومت کی جانب سے ایک ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ ڈیٹا کی حفاظت اور صارفین کے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے، لیکن ایپ کی واپسی کے بعد اس پر نظر رکھنے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔