نسلی اور خاندانی طور پر ایک کسان اور کاشتکار گھرانے سے تعلق رکھنے کی بنا پر جبلی طور پر کھیتی باڑی سے لگاؤ اور ایک طرح کا رومانس میرے خون میں رچا بسا ہے ، یہ اس کا نتیجہ ہے یا میرے مولا کے مجھ پر خصوصی کرم کا اعجاز ہے کہ پنڈی سے گاؤں آتے جاتے ہوئے سڑک کے اطراف میں یا گاؤں کے نواح میں ربیع اور خریف کی فصلوں اور سبزیوں کے لہلہاتے اور شاداب کھیتوں کو دیکھتا ہوں تو میری خوشی کی انتہا نہیں رہتی۔ میں سوچتا ہوں کہ اس مہربان ذات کا خصوصی کرم اور فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایسی زمین، موسم، آب و ہوا، ماحول اور دوسرے قدرتی وسائل وافر مقدار میں عطا کر رکھے ہیں کہ یہاں کے محنت کش کسان ، کاشتکار اور زرعی زمینوں کے مالک چھوٹے بڑے زمیندار ان سے استفادہ کرتے ہوئے ہر گام اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ زرعی اجناس کے ساتھ سبزیاں اور پھل اتنی مقدار میں پیدا کریں اور اُگائیں کہ نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہو سکیں بلکہ ان کو بیرونِ ملک برآمد کرکے قیمتی زرِ مبادلہ بھی کمایا جا سکے۔ یقینا یہ ربِ کریم کا احسانِ عظیم ہے کہ اُس پاک ذات نے ہمیں دریائوں ، ندی نالوں، چشموں اور برفانی گلیشیئروں سے بہہ کرآنے والا میٹھا پانی جہاں وافر مقدار میں عطا کر رکھا ہے وہاں گرم موسم اور سورج کی تپش اور حرارت جیسی قدرتی نعمتوں سے بھی نواز رکھا ہے۔ اس کے ساتھ انسانی محنت، جدوجہد اور ہر گام آگے بڑھنے کا جذبہ اور کھیتی باڑی اور زراعت کے شعبوں کو ترقی دینے اور آب پاشی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دریائوں، بیراجوں اور ڈیموں کی تعمیر اور ان سے نکالی جانے والی نہریں اور ان کے ساتھ کنویں، ٹیوب ویل، کھادیں اور جدید زرعی آلات وہ وسائل اور ذرائع ہیں کہ جن کی بناء پر زراعت کی ترقی ہی ممکن نہیں ہوئی ہے بلکہ ہر موسم میں مختلف طرح کی فصلوں کے لہلہاتے کھیت اور سرسبز و شاداب باغ قدرت کی صناعی اور انسانی عظمت کا نقش ابھارتے نظر آتے ہیں۔
اُوپر میں نے جیسے ذکر کیا کہ کھیتی باڑی اور کاشتکاری سے ایک طرح کا رومانس میرے اندر رچا بسا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمت اور حصولِ معاش کے تقاضوں کے تحت گاؤں سے باہر رہنے کے باوجود کھیتی باڑی اور کاشتکاری سے تعلق کسی نہ کسی صورت میں ضرور جڑا ہوا ہے۔ والدِ گرامی محترم لالہ جی مرحوم و مغفور زندہ تھے تو کھیتی باڑی کی محنت و مشقت اُنھوں نے اپنے کندھوں پر اُٹھا رکھی تھی ۔ اپنی طویل عمر کے دوران اکیلے محنت و مشقت کا اتنا بوجھ اُٹھانا بلا شبہ اُن کی ہمت کی بات تھی ۔ تاہم بڑے بھائی میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد فوج میں بھرتی ہو گئے اور حتی الوسع کھیتی باڑی میں لالہ جی مرحوم و مغفور کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاید یہ پچھلی صدی کی ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کی بات ہوگی۔ لالہ جی بیل اور گائے کی جوڑی کے ساتھ ہل چلانے کے لیے صبح صادق کے وقت ہی کھیتوں کا رُخ کر لیا کرتے تھے میں گھر پر ہوتا تو سورج طلوع ہونے کے وقت اُن کے لیے چائے وغیرہ لے کر جاتا۔ وہ چائے پینے اور حقے کے کش لگانے کے لیے بیٹھتے تو میں ہل چلانے لگتا۔ وہ مجھے روک دیتے کہ توُ صحیح نہیں چلا سکے گا اور ہل کی ہر گہری نالی (جسے ہم اپنی زبان میں "سیاڑ" کہتے ہیں) کے درمیان خالی جگہ (پاڑہ) چھوڑ دے گا۔ میرا خیال ہے کہ میں ہل چلانے سے اتنا بھی نابلد نہیں تھا۔ لیکن والدِ مرحوم شاید اس لیے مجھے ہل چلانے سے روک دیتے تھے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مجھے ہل چلانے کی مشقت اُٹھانا پڑے ۔ ہائے شفقتِ پدری میں تجھے کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں؟ ویسے محترم والد صاحب لالہ جی مرحوم و مغفور کو ہل چلانے میں بے پناہ مہارت حاصل تھی۔ لوگ اُن کے ہل چلائے ہوئے کھیت کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ ہل سے زمین پر بنی ہر گہری نالی یا "سیاڑ"آپس میں اتنا متوازی ہوتا تھا کہ لگتا تھا کہ کسی نے بے زبان جانوروں کی مدد سے ہل کی یہ گہری نالیاں یا "سیاڑ"نہیں لگائے ہیں بلکہ باقاعدہ پیمائش کرکے کہ سیاڑ یاایک طرح کی گہری نالیاں بنائی گئی ہیں۔
میں گندم اور دوسری فصلوں کے کھیتوں کا ذکر کرنے کی بجائے پتہ نہیں کن سہانے زمانوں اور پیاری اور محترم ہستیوں کا ذکر کرنے لگ پڑا۔ ویسے یہ ذکر مجھے بہت عزیز ہی نہیں ہے بلکہ میرے لیے ہمیشہ اس میں انسپائریشن Inspirationرہی ہے۔ خیر میں واپس کھیتوں کی طرف آتا ہوں ۔ میرے گاؤں کے مشرق اور مغرب میں گاؤں سے متصل اور شمال مشرق اور جنوب مغر ب میں گاؤں سے ہٹ کر دور تک کھیت پھیلے ہوئے ہیں ۔ ان میں جابجا کنویں ، راہٹ اور چھوٹے موٹے پانی کے بور یا ٹیوب ویل موجود ہیں۔ انہی میں میرے گھرانے کے کھیت بھی پھیلے ہوئے ہیں جن میں ہم تینوں بھائی الگ الگ کھیتی باڑی یا فصل کاشت کرتے ہیں۔ ان میں ٹیوب ویل بھی ہے اور ایک پرانا کنواں جس میں چار پانچ انچ کی پانی کھینچنے والی بجلی کی موٹر بھی نصب ہے۔ افسوس کہ ہم پانی کے ان وسائل سے پورا فائدہ نہیں اُٹھا پا رہے۔ یہ ہماری نالائقی ، نا اہلی ، عدیم الفرصتی یا افرادی قوت کی کمی ہے کہ ہم اپنے ان کھیتوں اور اپنی اس مزروعہ زمین سے وہ کچھ پیداوار حاصل نہیں کر پا رہے ہیں جو ہمیں حاصل کرنی چاہیے۔ لے دے کے ایک گندم کی فصل ہے جسے ہم بڑی مشکل سے کاشت کرنے کا بندوبست کر پاتے ہیں۔اب یہ سلسلہ بھی بہت محدود ہو گیا ہے کہ ہم نے قابلِ کاشت زمین کا بڑا حصہ ٹھیکے پر دے دیا ہے۔تاہم کھیتوں کھلیانوں میں گھومنے پھرنے اور کھیتی باڑی سے میرا ایک طرح کا روما نس اسی طرح قائم ہے ۔ اگلے دن گاؤں گیا تو اپنے کھیتوں کا بھی چکر لگایا۔ ہمارے لئے ہر سال گندم کی کٹائی ، کٹی ہوئی فصل کو اکٹھا کرنے اور پھر اس کے گاہنے کے وقت کچھ مسائل بنتے ہیں۔ کٹائی میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ بیچ میں موسم خراب ہو جاتا ہے اس طرح فصل کو سنبھالنے میں کچھ زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ اس سال بھی اگرچہ گندم کی کٹائی کے لئے کچھ بندوبست کر لیا ہے لیکن پھر بھی نظر آتا ہے کہ شاید کچھ تاخیر ہو جائے اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔ پھر پچھلے دنوں خِطہ پوٹھوہار میں جو طوفانی بارش ہوئی اور بعض جگہوں پر ژالہ باری بھی ہوئی اس سے مختلف سبزیوں کے کھیتوں کے ساتھ گندم کی کھڑی فصل کو بھی بہت نقصان پہنچا۔ اب کٹائی شروع ہے۔ اللہ کرے خیر خیریت سے تمام معاملات پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں۔
گندم کی تیار فصل…!
09:00 AM, 29 Apr, 2025