اگلے روز معروف شاعرہ محترمہ صائمہ آفتاب کی دعوت پر ایک تقریب میں جانا ہوا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ تقریب کی نوعیت کیا، کوئی بھی تقریب پروقار کی ڈیکوریشن اور منظرنامے سے نہیں ہوتی۔ میرا خیال یہ ہے کہ باوقار اور باشعور انسانوں کا تقریب میں موجود ہونا اس کو باوقار بناتا ہے لہٰذا باوقار لوگوں میں کلیات ’’کوئے ملامت‘‘ کی تقریب پذیرائی قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن میں سید آفتاب احمد شاہ کے بھائی جناب اقتدار جاوید کی میزبانی، صدارت جناب اصغر ندیم سید، محترم حسین مجروح، محترم نجیب جمال اور محترمہ صوفیہ بیدار نے دوران اظہار خیال چولستان اور دریا ڈرامہ سیریل سے متعلق یادوں کے چراغ روشن بھی کیے۔ نعت خوانی کے فرائض حسنین مظہری نے ادا کیے اور کلام باہو اقبال باہو کے فرزند نے پڑھ کر سماں باندھا۔ ولایت فاروقی نے منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ آخر میں جناب طارق شریف زادہ نے دعائیہ اختتام فرمایا۔ عائشہ عظیم، شبیر حسن، خالد ندیم شانی، طاہر فاروق بلوچ، رانا عامر لیاقت اور انتظار گجر بطور مہمان اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ شازیہ مفتی، فرح خان، وقاص احمد اور مراتب گوندل بطور خاص شریک رہے۔ محمد اشرف گوجرانوالوی نمایاں طور پر موجود تھے۔ میں جا کر ایک طرف بیٹھ گیا کہ دانشوروں، شاعروں اور نامور قلم کاروں کی محفل ہے اور پھر سلسلہ کلام بھی انہی کا سامنے سٹیج پر جو ایک تصویر (بینر) لگا ہوا تھا اس میں سید آفتاب احمد شاہ ایک گہری شام پینٹ، شرٹ اور بھٹو صاحب جیسی کیپ زیب تن کیے جا رہے ہیں۔ ویران اور سنسان راستے میں شام مگر روشنی کا امتزاج ہے۔ مقررین نے سید آفتاب احمد شاہ جو ایک معروف بیوروکریٹ، ممتاز ادیب اور شاعر تھے اس سے کہیں زیادہ وہ بڑے انسان تھے۔ کوئے ملامت ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جس پر یہ فوٹو سرورق پر ہے۔
مقررین نے ان کی زندگی، شاعری، سرکاری خدمات پر بات کی مگر مجھے ضیا الحق جو ظلم و استبدادیت کا موجودہ استعارہ ہے کے دور میں
ڈاکوؤں کے جتھے پر فقر کی رِدائیں ڈال
رہزنی کی کوشش میں رہبری کی باتیں کر
آفتاب تُو بھی تو منصفوں میں شامل ہے
ساتھ دے بُرائی کا راستی کی باتیں کر
جیسے اشعار کہنے والی شخصیت، اس دور میں عوامی حقوق کی بات کرنے اور غریبوں کی مدد کرنے والے سرکاری آفیسر کے متعلق لگا کہ وہ جتنا دنیا کے سامنے آئے وہ ان کی شخصیت کے مثبت پہلو کا صرف دس فیصد تھا اور 90فیصد وہ اپنے ساتھ لے گئے کیونکہ ضیا کے وقت میں عوام کی بات کو ظاہر کرنا بہت مشکل نہیں ناممکن بھی ہے۔ جس طرح سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل جناب گلزار احمد بٹ نے سیاسی حوالاتیوں اور قیدیوں کی خدمت کی کیا وہ ضیا دور میں کسی کو بتایا جا سکتا ہے، یقینا نہیں۔ اسی طرح شاہ صاحب جو DMG گروپ کے اعلیٰ آفیسر تھے، نے جو کیا اس کی بات نہیں کی جا سکتی تھی ورنہ آفیسر خود مشکل میں پڑ جاتا اور اگر کوئی رحم دل افسر نیک عمل کی بات کرتا تو خود ہی زیر عتاب آ جاتا۔ محترمہ صائمہ آفتاب یوں تو کلکٹر کسٹم ہیں مگر ان کی باقی رہنے والی کہانی ان کی شاعری ہی ہو گی جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔ انسان فانی ہے الفاظ فانی نہیں ہوا کرتے۔
سبھی کے صبر کا میٹھا نہیں ہے پھل بتایا تھا
کسی نے شاخ اوپر کھینچ کر یہ کل بتایا تھا
اصولوں پر ڈٹے رہنے کی بیماری نہیں چھوٹی
وگرنہ مصلحت کوشوں نے کیا کیا حل بتایا تھا
جنوں پیشہ، ضروری تو نہیں، سب دشت جا پہنچیں
کئی افسر بھی لگ جاتے ہیں یاں پاگل بتایا تھا
(صائمہ آفتاب)
میں چونکہ وکالت کرتا ہوں اور دیگر مقدمات کے ساتھ مجھے کسٹم کے پینل پر جو کسٹم کے مقدمات ملیں ان کی پیروی کرنا بھی ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ایک ممبر کسٹم کی نوکری کے آخری مہینے چل رہے تھے وہ اپنی آئندہ منزلوں کی آسانی کیلئے انصاف کو انتہائی سستے داموں اور ارزانی سے فراہم کر رہا تھا۔ میں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ کلکٹر صائمہ آفتاب نے اس پر عدم اعتماد کی درخواست کا کہا اور پھر رات میں تقریباً چار مرتبہ اور صبح اٹھ کر دو مرتبہ پوچھا کہ آپ نے درخواست بنا لی ہو گی۔ میں نے درخواست واٹس ایپ کر دی لیکن متعلقہ ممبر کے ہمیں یقین دلانے پر جمع نہ کرائی مگر وہ جوہر دکھانے سے باز نہ آیا اور قومی خزانہ کو نقصان پہنچا گیا۔ ایک مرد ڈائریکٹر اس کے بالکل برعکس نکلا۔ اب میں سوچتا تھا کہ یار یہ عورت ہو کر اتنی بہادر کیوں ہے۔ حق پر قائم کیوں ہیں جب اس تقریب میں سید آفتاب شاہ کی زندگی اور سرکاری نوکری میں شاہی کے واقعات سنے تو احساس ہوا یہ حق کی خاطر کھڑے ہونا دراصل محترمہ صائمہ آفتاب کے جینز میں شامل ہے۔
وطن عزیز کی معاشرت مِس فِٹ miss fit افراد کا مجموعہ ہے، کافی زندگی بسر کرنے کے بعد بندے کو احساس ہوتا ہے کہ یہ اس کا شعبہ ہی نہیں تھا۔ پھر اس کو گزرا ہوا وقت ’’کُوئے ملامت‘‘ سے گزرنے کے مترادف لگتا ہے۔ جناب آفتاب احمد شاہ آسودہ لحد ہوئے مگر ان کا سفر حریت و حق گوئی، ان کی شاعری اور ان کی بیٹی محترمہ صائمہ آفتاب کی صورت جاری ہے۔
کلیات ’’کوئے ملامت‘‘! آفتاب احمد شاہ
08:59 AM, 29 Apr, 2025