ماں بھی رخصت ہوئیں

08:59 AM, 29 Apr, 2025

دو کنال کی اسی حویلی کے عین درمیان میری ماں کی میت رکھی تھی جہاں وہ برسوں پہلے دلہن بنا کر لائی گئی تھی اور میت کے گرد وہ تمام رشتہ دار اور شناسا خواتین بھیگ چکی آنکھوں کے ساتھ زمین پر بچھی اسی دری پر بیٹھی تھیں جسے مرحومہ نے اپنے ہاتھوں سے سیا تھا۔ صحن میں لہلہاتے پھول، سبزیاں اور پھل دار درخت جیسے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد کی زندہ کہانی کے کردار تھے اور مٹی جو اطراف میں سلیٹی رنگت میں ڈھل چکی تھی اسے ماں کے ہاتھوں نے کئی بار گوندھا تھا اور نہ جانے کس سلیقے سے لیپا تھا کہ وہ سنگ مرمر سے بہتر لگتی تھی۔ نصف صدی سے زائد بیت چکے زمانوں میں یہاں پر صرف اتنی تبدیلی آئی تھی کہ کچے مکانوں کی جگہ پختہ در و دیوار ایستادہ تھے اور لکڑی کے شہتیروں کی جگہ آہنی گارڈروں نے لے لی تھی۔ چھوٹے داخلی راستے پر گیٹ لگ چکا تھا اور نلکا موٹر پمپ کی شکل میں ڈھل گیا تھا۔ گھر کے سامنے لگا پیپل کا وہ بڑا پیڑ بھی نئی تعمیرات کی زد میں آ کر کٹ چکا تھا جسے ماں نے ڈھلتے سورج کی تپش سے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے لگوایا تھا۔ گزر چکے زمانوں میں سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی تھی کہ ہجرت اور موت کے سبب رہ گئے کم مکینوں کی وجہ سے یہ حویلی کچھ زیادہ کھلی لگتی تھی۔ ماں اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہمیشہ صابر و شاکر تھیں کہ اس گھر میں گزرے ستاون برس کے دوران ترک سکونت کی ضد، ہجرت کی خواہش، شہر منتقلی کی تمنا اور سرکشی کا ایک بھی لمحہ ان کے لب اظہار تک نہیں آیا تھا۔ ساس سسر، تین دیوروں اور چار نندوں سے آباد اس گھر کی بڑی بہو نے کئی دہائیاں گزار کر بھی صبر اور شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ ماں کی میت عین اسی جگہ پر پڑی تھی جہاں پر صرف ایک گھنٹہ بیس منٹ قبل یعنی شام پانچ بج کر پنتالیس منٹ پر وہ میرے ساتھ محو گفتگو تھیں اور اس گفتگو میں اس وقت خاندان کے تمام دستیاب لوگ شامل تھے۔ میں گزشتہ تین ماہ سے ایک نامعلوم خوف میں مبتلا تھا اور آج اس خوف کے تمام دریچے کھل چکے تھے۔ کئی دنوں سے ماں کی گود میں سر رکھ کر رونے کی خواہش اور ماں کی صحت و درازی عمر کے لیے دعاؤں میں شدت آ چکی تھی۔ مجھے علم ہی نہ تھا کہ یہ دعائیں، گفتگو اور چار سو پھیلی ممتا اپنا دامن سمیٹنے کو تیار ہے۔ چاند رات کی مبارک بادوں کی بھرمار میں ایک فون کال ایسی تھی جس کا ہر پل میرے سر سے دعاؤں کی چادر سرکاتا جاتا تھا، ہاتھ قسمت کی لکیروں سے خالی ہو چکے تھے اور گزشتہ تین ماہ سے پھیلے انجانے خوف نے میرے اطراف میں دکھ کی دیوار اس طرح کھڑی کر دی تھی جیسے مجھے اس میں چن دیا جانے والا ہو اور پھر مجھے واقعی وہ خبر ملی جس نے میرے وجود کو زندگی سے خالی کر دیا۔ میرے پاؤں کے نیچے سے ریت سرکتی ہوئی محسوس ہوئی اور عید الفطر ہمیشہ کے لیے ایک تلخ یاد بن کر رہ گئی۔ بچپن سے لے کر آج تک کی بیتی زندگی کا لمحہ لمحہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ بجلی کے بغیر گرمی کی شدت میں پنکھا جھلتے ہاتھ، شدید سردی میں حدت بھری گود، تہی دامنی کے باوجود ہمیشہ امیری کا احساس، میکے تک کے سفر کی یادیں، دیسی گھی کی روٹیوں میں رکھا مکھن اور شکر، چاٹی کی لسی، گھڑے کا پانی اور زیرلب عطا ہوتی دعائیں۔ ملتان سے اس آبائی حویلی کے درمیان رکھی میت تک پہنچتے پہنچتے کتنے زمانے مجھ پر بیت رہے تھے جنہیں ہر صورت ضبط کرنا تھا کہ ماں کی موت ایک ایسی موت تھی جو قسمت والوں کو نصیب ہوتی تھی۔ درد، تکلیف، محتاجی اور کسی سنبھالنے والے کے ماتھے پر نفرت کی شکنوں کے بغیر باوقار رخصتی ان کے حصے میں آئی تھی۔ شکر کے اعادے کے عوض یہ اعزاز کسی عورت کے لیے نیک بختی کا سبب ہوتا ہے کہ اس کی میت اس کے شوہر کے گھر سے اٹھائی جائے اور یہ میت اب اٹھائی جانے والی تھی۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو شام ڈھلنے سے ذرا پہلے گاؤں کی بچیوں کو ماں سے 
قرآن پاک پڑھتے، گرم دوپہروں کو کپڑے سیتے اور رات کو دیے کی روشنی میں چرخہ کاتتے دیکھا تھا اور میرے نزدیک ہر ماں کی مصروفیات ایسی ہی ہوتی تھیں۔ مجھے یاد ہے اپنی ماں کے سئیے ہوئے سکول یونیفارم کلاس میں میرے لیے مذاق کا سبب بنتے تھے کہ وہ کپڑے کھلے اور لمبے ہوتے تھے۔ میرے جھگڑنے پر ماں کہتی پورے کپڑے تو اگلے سال چھوٹے ہو جاتے ہیں اس لیے یہی پہنو جب تک چاچا نے مداخلت کر کے درزی تک معاملہ نہیں پہنچایا میرا مسئلہ برقرار رہا اور یہی لمبے کپڑے میرے اور ماں کے درمیان اولین لڑائی کا سبب بھی بنتے تھے۔ اردو کے قاعدوں کی سلائی اور کاپیوں کے پلاسٹک کور، کتابوں کے لیے بستہ میری ماں سیتی تھی۔ ماں کو کیسے بتاتا کہ آج میں بڑا ہو گیا ہوں، اگر اپنے ہاتھوں سے سئیے ہوئے کپڑے اپنے کسی ٹرنک میں رکھے ہیں تو مجھے اٹھا کر پہنا دو اور دیکھو وہ سوٹ آج مجھے پورے ہیں۔

مزیدخبریں