بھارت کا جنگی جنون کھل کردنیا کے سامنے آ گیا ہے اوراِس کیلئے اُس نے اپنے شہریوں کے قتل عام سے بھی دریغ نہیں کیا لیکن معاملہ چند ہی گھنٹوں بعد دنیا پر آشکار ہو گیا۔ بھارت کی آبی اور جنگی دھمکیوں کو افواج ِ پاکستان نے کوئی اہمیت دی اور نہ ہی پاکستان عوام نے اسے سنجیدہ لیا بلکہ الٹا اس بھارتی جنگی جنون کو میلے کی طرح منایا گیا ۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے بعدپاکستانی عوام بھی یہ جان چکے ہیں کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کی جسارت کرے گا اورنہ ہی اُسے دنیا ایسا کرنے کی اجازت دے گی لیکن خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ ٗ چین اورامریکہ کی سرد جنگ نے بھارت کی خطے میں تھانیداری کے خواب کوچکنا چور ضرور کردیا ۔ پاکستان کے رکھوالوں نے جہا ں کھلے عام جنگ کی تیاری اور بھارتی عزائم کو خاک میں ملانے کا ارادہ دنیا پر ظاہر کردیا وہیں پاکستان کے سیاست دانوں نے جس دلیری سے بھارتی پروپیگنڈا کا جواب دیا ہے وہ بھی لائق تحسین ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا عندیہ دیا تو بلاول بھٹو نے دریائے سندھ میں پانی کے بجائے بھارتی خون کے بہنے کی نوید سنا دی ۔ وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل کیے بغیر بھارت سے کسی بھی قسم کے تعلقات خوشگوار ہونے کی حقیقت سے ہی انکار کردیا بلکہ انہوں نے اس جنگ کو آخری جنگ قراردیا اور ریاست پاکستان کے مفادات سے پیچھے ہٹنے کو پاکستان کے دفاع سے پیچھے ہٹنے سے تعبیر کیا۔ پاکستان کے عوام نے افواج ِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس جنگ کو خو ش آمدید کہتے ہوئے ’’ امن کو پہلی ترجیح دی لیکن اگرجنگ ضروری ہے تو پھر جنگ ہی سہی ‘‘ کا نعرہ مستاہ بلند کر دیا۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت تو ایسے ہی خیالات رکھتی ہے اورحالت ِ جنگ میں اپنی فوج پر تنقید کرنے کو دشمن کی مدد سمجھتی ہے ایسا سب کچھ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملا لیکن یہاں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ سوائے پی ٹی آئی اور ایم کیوایم لندن کے دنیا بھر کے پاکستانی اپنی دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے تو عمران نیازی کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا حالانکہ 71 ء کے بعد ہم نے جنگ میں کبھی نیازیوں کا اعتبار نہیں کیا ۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے اپنی بساط کے مطابق اس بھارتی جنگی جنون میں بھی بھارت کو ہی اپنا مسیحا سمجھا اور ایم کیوایم کے بھی کچھ الطافی و رکر ماتھوں پر تلک لگائے لندن کی سڑکوں پر بھارتیوں کے ساتھ نظر آئے ۔ جس سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ اِن ’’دو نسلیوں‘‘ کی ساری جڑیں بھارت اور اسرائیل سے ہی ملتی ہیں ۔ پاکستان کے جرنیلوں سے ہمارے بھی گلے رہے ہیں اور آج بھی ہیں لیکن وہ ہماری آئینی بالا دستی کی سیاسی جدوجہد سے وابستہ ہیں اور اُس سے ہم کسی صورت بھی دستبردار نہیں ہوں گے لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ہماری ریاست کا اندرونی معاملہ ہے کسی بیرونی دشمن کے حملہ آور ہونے کی صورت میں سب سے پہلے ہمیں اپنے اندرونی تضادات کو پس پشت ڈالنا ہوتا ہے لیکن افسوس کہ پی ٹی آئی کی قیادت ٗ جن کی ہدایت پر سوشل میڈیا اس وقت بھی چل رہا ہے ٗ اپنی روایتی بدمعاشی سے باز نہیں آیا ۔ پاکستان کے دفاعی اداروں کو اب تو یہ سمجھ لیناچاہیے کہ پی ٹی آئی ایک وطن دشمن جماعت ہے اور یہ کسی صورت بھی پاکستان کے مفاد کے ساتھ چلنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ الطاف بھائی تو اپنی سیاسی عمر پوری کرچکے ہیں سو اُن کے کسی ورکر کا ذاتی حیثیت میں کوئی ایسی حرکت کرنا یقینا ذاتی عمل ہی سمجھا جائے گا لیکن پی ٹی آئی نے اجتماعی طور پر پاکستانی سیاستدانوں کے وہ بیانات جو انہوں نے کبھی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے دئیے تھے انہیں بنیاد بنا کر بھارتی جنگی جنون میں اپنی فوج کی مخالفت کا جواز تراش لیا ۔ اِن بیوقوفوں کو اتنا بھی علم نہیںکہ سیاسی بیانات نارمل حالات میں اور جنگی حالات میں دو الگ الگ حیثیتیں رکھتے ہیں ۔بہرحال ٗ بھارت کے پہلگام کے جنگی جنون کی بساط تو سمٹ گئی کہ دنیا نے اُس کے پاکستان مخالف بیانیہ کو تسلیم ہی نہیں کیا سو اب وہ افغانستان کی جانب سے ایک پراکسی وار پورے زوروں سے لڑے گا ۔
مجھے آج تک ایک بات تو بالکل سمجھ نہیں آئی کہ محمد بن قاسم کے علاوہ جتنے حملے ہندوستان پر ہوئے وہ وسطی ایشیائی یا افغانیوں نے کیے ۔ یہ بھی ایک ازلی اور ابد ی حقیقت ہے کہ وہ حکمران مسلمان تھے لیکن فاتحین کے نزدیک پہلا مقصد علاقے فتح کرنا ہوتا ہے ریاست کی بنیاد رکھنے کے بعد وہ اپنے خیالات و تصورات کا پرچار کرتے ہیں ۔ ہندوستان کی تاریخ بھی ایسی ہی ہے ۔ پاک وہند میں اسلام مسلم صوفیاء کے ذریعے پھیلا اوراُن صوفیاء کے مزارات پر آج بھی ہندو ٗ مسلم ٗ سکھ اوردوسرے مذاہب کے لوگ ایک جیسی حاضری دیتے ہیں ٗ اُن کا احترام کرتے ہیں یعنی ہندوستان کے فاتحین کے حوالے سے تو مذاہب میں تقسیم ضرور ہے لیکن بزرگانِ دین اس خطے میں کی مشترکہ ملکیت سمجھے جاتے ہیں ۔بھارتی دانشوروں کی عقل پر بھی ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی بناتے ہوئے اُن افغانوں کو تو دوست بنا رہے ہیں جنہوں نے آنے والے کل میں اُن کے ساتھ وہی سلوک کرناہے جو ماضی میں کیا تھا ۔ یہ تخلیق پاکستان ہی ہے جس نے افغان جنگجوئوں کو دہلی پہنچنے سے روک رکھا ہے اور اس کے بدلے میں ہمیں اُن کے خلاف برسرِ پیکار رہنا پڑ رہاہے ورنہ تخلیق پاکستان سے پہلے افغان اور سینٹرل ایشین حکمرانوں نے جو مشترکہ ہندوستان کا حال کیا وہ بھی تاریخ کا اہم ترین حصہ ہے۔پاکستان تو اسلام کے سنہری اصولوں ٗ بزرگان ِ دین کی محبت ٗ رواداری اور دنیا بھر کے انسانوں سے ایک جیسی محبت کے عظیم
جذبے کی تبلیغ کے نتیجہ میں معرض وجود میں آیا تھا ۔ایک لمحے کیلئے بھارتیوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر 1947ء میں اکٹھے رہنے کی تجویز زیادہ طاقتور ہو جاتی تو آج ہم افغانوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہوتے ۔ یہ پاکستان ہی ہے جس کا مضبوط دفاع دہشتگردوں کو پاکستا ن کے میدان میں ہی شکست فاش دے رہا ہے ورنہ دوسری صورت میں اگر پاکستان انہیں ہندوستان کی راہ گزر فراہم کردے تو اُس ساری دہشتگردی کا سامنا بھارت کو کرنا پڑے جس سے افواج ِ پاکستان نبرد آزما ہے ہم نے صرف اپنی افغان پالیسی ہی نرم کرکرنی ہے۔ کاش! ہندوستانی دانشور اپنی تاریخ کو پڑھ کر خارجہ پالیسی مرتب کریں۔ پہلگام کے حوالے سے بھارت کی سفارتی شکست نے اُسے پاکستان سے جنگ لڑے بغیربدترین شکست سے دوچار کردیا ہے لیکن اس وار ہسٹریا میں ہمیں پی ٹی آئی کے کردار کو نہیں بھولناچاہیے۔
دنیا نے بھارتی ڈرامہ مسترد کر دیا
08:57 AM, 29 Apr, 2025