امریکا سے کشیدگی ختم کرنا چاہتے ہیں، جنگ مسلط ہوئی تو جواب دیں گے، عباس عراقچی

11:12 AM, 28 Sep, 2026

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کا خواہاں ہے، تاہم اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو ایران اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

 امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال انتہائی سنگین مرحلے تک پہنچنے کے باوجود ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایران کے امن منصوبے کی شرائط بھی دہرائیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے، تاہم ایران کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا۔

 عباس عراقچی نے مطالبہ کیا کہ ایران کے وہ اثاثے جو تہران کے مطابق غیر قانونی طور پر منجمد کیے گئے ہیں، انہیں بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی مذاکرات میں اہم معاملہ ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سفارتی راستے سے کشیدگی کم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی معاہدے میں ایران کے مفادات، حقوق اور خودمختاری کا احترام ضروری ہوگا۔

 انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر دوبارہ جنگ مسلط ہوئی تو تہران جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ان کے بقول موجودہ صورتحال کا سفارتی حل تلاش کرنا ہی ترجیح ہے۔

مزیدخبریں