وزیر اعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب!

11:05 AM, 28 Sep, 2026

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کو محض ایک رسمی سفارتی کاروائی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ سب سے زیادہ رکنیت کے حامل ممالک کی سب سے بڑی عالمی تنظیم ہے۔ اس جگہ خطاب کا مطلب ہے کہ اقوام عالم کے سامنے اپنے ملک اور ریاست کا مختلف امور پر موقف اور بیانیہ پیش کرنا۔ہر سربراہ مملکت یہاں تقریر کے ذریعے اپنی خارجہ پالیسی، قومی مفادات ، اپنی ترجیحات اور حکومتی موقف دنیا کے سامنے رکھتا ہے۔ اس موقف کو دنیا ایک ریاستی بیانیے کے طور پر سنتی اور ریکارڈ کرتی ہے۔ جنرل اسمبلی میں خطاب کے ذریعے اپنے دشمنو ں تک پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ انہیں تنبیہ کی جاتی ہے۔ دشمن بھارت جیسا ہو تو اس کا چہرہ بے نقاب کیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اپنے دوستوں کو بھی پیغام دیا جاتا ہے۔بسا اوقات ان کی محبت اور مدد کا اقرار کیا جاتا ہے۔ جنرل اسمبلی میں ہونے والی تقاریر کو ابلاغیات، عالمی سیاست اور سفارت کاری کے پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے اور اس کے کئی کئی معنی اخذ کئے جاتے ہیں۔ دیکھا جاتا ہے کہ کس ریاست کے سربراہ نے اپنی تقریر میں کس کس مسئلے کا ذکر کیا۔ کس مسئلے یا معاملے کو نظر انداز کیا۔ کس ایشو پر کتنی دیر بات کی۔ کس معاملے سے آغاز کیا اور کس پر اختتام، وغیرہ وغیرہ۔ اقوام متحدہ میں تقریر کو آپ کسی ریاست کی agenda setting ہی سمجھئے۔ لازمی نہیں کہ ایک تقریر سے دنیا آپ کے موقف کی قائل ہو جائے گی۔یا آپ کا بیان کردہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ کسی ریاست نے اپنا موقف دنیا تک پہنچایا اور اپنا مقدمہ لڑا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لئے اس فارم کی اہمیت دو چند ہے۔ پاکستان سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بڑی طاقتوں، کمزور ممالک، مسلم دنیا اور اپنے حریفوں کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرئے۔ وزیر اعظم شہبا ز شریف کی تقریر کو بھی اس زاویے سے دیکھیں اور پرکھیں تو ایک دلچسپ سفارتی architecture دکھائی دیتا ہے۔ وزیر اعظم کی تقریر میں فلسطین، کشمیر، پانی، موسمیاتی تبدیلی ، دہشت گردی، مشرق وسطیٰ جیسے معاملات پر بات ہوئی۔ 
لب لباب وزیر اعظم کی تقریر کا یہ تھا کہ پاکستان امن کا خواہشمند ہے۔ اس کے لئے ہر طرح کے تعاون کیلئے بھی تیار ہے۔ تاہم اپنے قومی مفادات کی قیمت پر نہیں ۔ 
وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں جنگ کے بجائے مذاکرات کا ذکر کیا۔ تصادم کے بجائے مکالمے کی اہمیت بیان کی۔ جھگڑے کے بجائے سفارتکاری کے پلڑے میںاپنا وزن ڈالا۔ تاہم امن اور مذاکرات کی خواہش کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نے بھارت ، کشمیر اور پانی کے مسئلے پر دوٹوک انداز میں بات کی۔ افغانستان اور دہشت گردی کی بات کرتے وقت ان کا لہجہ پختہ تھا۔ یعنی اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے انہوں نے ریاست پاکستان کی سرخ لکیر واضح کی۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی اور جنگی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان کے سفارتی کردار کو نمایاں کیا۔ انہوں نے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جو عالمی یا خطے میں جاری تنازعات میں فریق بننے کے بجائے مذاکرات اور سہولت کاری کرنے والا ملک ہے۔ سعودی عرب کا ذکر آیا تو وزیر اعظم پاکستان نے مکہ مکرمہ کی تقدیس اور پاکستان کی سعودی عرب سے وابستگی اور دوستی کا ذکر کیا۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو علاقائی استحکام کے تناظر میں دنیا کے سامنے رکھا۔ 
وزیر اعظم کی تقریر پر جو تبصرے اور تجزیے ہو رہے ہیں اس میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ امن، مذاکرات، تصادم گریز پالیسی کی بات کرنے والے وزیر اعظم نے جب کشمیر کا تذکرہ کیا تو ان کا لہجہ یکسر بدل گیا۔ کشمیر ہمیشہ سے ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اقوام عالم کے سامنے اقوام متحدہ ہی کی قراردادوں کا ذکر کیا۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا حوالہ دیا۔ وزیراعظم نے جب بھارت کے ساتھ پانی کے تنازعے کا ذکر کیا تو ان کا لب ولہجہ سخت اور تنبیہی تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کا پانی روکنے، محدود کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستا ن بھارت کے جنگی اقدام کے طور پر دیکھے گا۔ اس موقف کی ایک خاص اہمیت ہے۔ عمومی طور پر پانی کو ایک موسمیاتی، ماحولیاتی یا آبی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مرتبہ وزیر اعظم نے اسے قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر پیش کیا۔ 
وزیر اعظم نے نہایت درد مندی سے فلسطین اور غزہ میں ہونے والے غیر انسانی سلوک کا ذکر کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے عین مطابق انہوں نے اسرائیل کی ظالمانہ کاروائیوں پر اظہار تشویش کیا۔ اقوام عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔وزیر اعظم نے آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی ۔ القدس کو اس کا دارلحکومت بنانے کا پاکستانی موقف دہرایا۔اپنی تقریر میں وزیراعظم نے افغانستان اور دہشت گردی کا ذکر کیا اور پاکستان کو دہشت گردی سے متاثرہ ملک کے طور پر پیش کیا۔ افغانستان کی طرف سے ہمیں جو قومی سلامتی کے خدشات لاحق ہیں وزیر اعظم نے اقوام عالم کی توجہ اس طرف مبذول کروائی۔ ان اہم عالمی امور کے علاوہ وزیر اعظم نے معیشت پر بھی بات کی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا ذکر کیا۔ دنیا کو یاد دلایا کہ اس عالمی نظام میں ترقی پذیر ممالک کیسے قرضوں کے بوجھ اور مالیاتی دباو کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کر رہے ہیں۔ اس بات پر زور دیا کہ ان ممالک کی مالی معاونت زیادہ بہتر اور منصفانہ طریقے سے ہونی چاہیے۔ آخر میں انہوں نے اقوام متحدہ کی ساخت پر بھی سوال اٹھایا۔ عالمی اداروں میں طاقت اور نمائندگی کا ڈھانچہ بدلنے کی بات کی۔ 
عمومی طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے بعد ہر سال یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس ساری تقریر کا حاصل کیا ہے۔ جواب سادہ ہے۔ تقریر کا اصل مقصد دنیا کے سامنے اپنا موقف رکھنا تھا۔ سو وزیر اعظم نے یہ کام نہایت عمدگی اور خود اعتمادی سے کیا۔ بھارت کو اس کا اصل چہرہ دکھایا۔ اس کو تنبیہ کی کہ اپنی حد میں رہے۔ دنیا کے سامنے اہل غزہ کی حالت زار بیان کی اور اسرائیل کے مظالم پر اظہار تشویش کیا۔ افغانستان کو بھی ایک واضح پیغام دیا۔ دنیا کو اہم معاملات پر پاکستان کا موقف بیان کیا اور بتایاکہ پاکستان ڈٹ کر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے کھڑا ہے۔ 

مزیدخبریں