پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے 27 ستمبر کی لانگ مارچ کی کال موخر کر دی۔ حیرت ہے تین چار دن سر کھپانے کے بعد نتیجہ صفر نکلا، کھایا پیا گلاس توڑا اور بس۔ مارچ کب کرنا ہے بال ٹک ٹاک وزیر اعلیٰ کی کورٹ میں پھینک دی گئی۔ سیانے باتیں بنانے لگے سیاسی کمیٹی سہیل آفریدی کو قربانی کا بکرا بنا کر بری الذمہ ہوگئی، چڑھ جا بچے سولی رام بھلی کرے گا، ٹک ٹاک وزیر اعلیٰ نے کچھ دیر سوچا اور 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ شیر افضل مروت خفا ہوئے، تیاری نہ فنڈز، کوئی حکمتِ عملی نہ موبلائزیشن عوام تیار نہیں۔ 4 اکتوبر کو کون سا تیر مار لیں گے، وزیر اعلیٰ کے ہاتھ میں کون سی جادوئی چھڑی آجائے گی، کیا پہاڑوں سے جناتی لشکر مدد کو اتریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی دوڑ لگا گئی۔ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ آخری کیل ثابت ہوگا۔ ایک زندہ دل لاہوریے نے کہا ”لانگ مارچ نہیں لونگ (نک دا کوکا) مارچ کہو لونگ گواچ (گم) گیا ہے اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسلام آباد آئیں گے، سیانوں کی سیانی باتیں، یادش بخیر چند روز قبل خیبر پختونخوا کی ٹک ٹاکر حکومت کے سربراہ نے (شاید بھنگ کے کھیتوں میں کھڑے ہو کر) وفاقی دارالحکومت پر حملے کی دھمکیاں دی تھیں ان کے دستِ راست بلکہ ان سے تیز رفتار وزیر اطلاعات کی بڑھکیں بھی سنائی دیں، پشاور سے چلیں گے گھومتے پھرتے موج مستی کرتے کھاتے پیتے وفاق کو خوفزدہ کرتے اور عوام کا بلڈ پریشر اوپر نیچے کرتے آٹھ دس دن میں اسلام آباد پہنچیں گے اور خان کی رہائی تک وہیں بیٹھے رہیں گے گویا حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے۔ نعروں، دھمکیوں اور بڑھکوں کا نتیجہ اسلام آباد کو پندرہ سو پچاس کنٹینروں میں ڈھک دیا گیا، پولیس کے مسلح دستے رینجرز استقبال کے لیے تیار، چشمِ براہ تشریف لائیے ونس فار آل (ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے) کارروائی کر کے طبیعت صاف کر دیں گے۔ فرار کے بعد جوتے، چپلیں اسلام آباد کے اتوار بازاروں میں دستیاب ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ نے بات بنائی کہ سیاسی کمیٹی کو لانگ مارچ کے لیے وقت درکار تھا میں نے وقت دے دیا میں اپنی نااہلی کی باتیں سن رہا ہوں نااہل کر دیا گیا تو زیادہ خطرناک ہو جاوں گا۔ مرشد نے بھی یہی کہا تھا تین سال سے اڈیالہ جیل میں ہیں اور 9 ماہ سے عشاق کی شکل دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔ نااہلی نوشتہ دیوار، آپ سے پہلے جو اک شخص یہاں کرسی نشین تھا اس کو بھی اپنی خطرناکی کا اتنا ہی یقین تھا۔ تین بار وفاقِ پر حملہ آور ہوا دو سال قبل بی بی صاحبہ کو بھی ساتھ لے آیا، ڈی چوک بھی پہنچ گئے مگر رات کے گیارہ بجے روشنیاں گل ہوتے ہی سر پر پاو¿ں رکھ کر بھاگے۔ گاڑیاں پولیس لے گئی، جوتے غریبوں کے کام آئے۔ سابق وزیر اعلیٰ بی بی صاحبہ کو لے کر 12 اضلاع کی خاک چھانتے پشاور پہنچ گئے۔ بی بی صاحبہ فرار پر ناراض ہوئیں تو جواب ملا، جان بچی سو لاکھوں پائے، لوٹ کے رات کو واپس آئے۔ بی بی صاحبہ اپنے صاحب کے پاس اڈیالہ جیل پہنچ گئیں، خیر خیریت سے ہیں ہر منگل کو صاحب سے ملاقات ہوجاتی ہے، سابق وزیر اعلیٰ دو سال سے تنی گردن کا علاج کروا رہے ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ کالی پگڑیوں والے دہشتگردوں کے پڑوسی ہولناک واقعات سے عبرت نہیں پکڑتے۔ موسلوں سے ڈرتے ہیں لیکن اوکھلی میں سر دینے سے باز نہیں آتے۔ خان 9 ماہ کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے، انہوں نے گزشتہ ماہ اپنی بہن عظمیٰ خان کے ذریعہ پیغام بھیجا، 30 دن میں عوام کو سڑکوں پر نہ لائے تو نیا وزیر اعلیٰ نامزد کر دوں گا۔ دونام مینا خان اور غنی آفریدی بھی بتا دیے، ٹک ٹاکر وزیر اعلیٰ نے افرا تفری میں 40 لاکھ جانثاروں کے ساتھ وفاق پر چڑھائی کا اعلان کر دیا چند دن بعد 20 لاکھ رہ گئے۔ 24 ستمبر کو انکشاف ہوا کہ 20 ہزار بھی دستیاب نہیں۔ ارکان اسمبلی اور وزراءنے فرمائشی گرفتاریاں دینا شروع کر دیں تو مایوسی میں اضافہ ہوا۔ 27 ستمبر پر مٹی پاو¿، جو ہونا ہے اسے یاد رکھ جو نہیں ہوا اسے بھول جا۔ 4 اکتوبر کو کیا ہوگا؟
حکومت لانگ مارچ کی کال کی واپسی تک مذاکرات پر آمادہ نہیں دونوں طرف رسی تنی ہوئی ہے، رفتِ گ±زشت لیکن اب کے سرگرانی اور ہے محافظ شہر نے دل میں ٹھانی اور ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے وارننگ دے دی اس بار پولیس مار نہیں کھائے گی یعنی روشنیاں نہیں بجھیں گی، چشم چراغ گل ہوں گے۔ عسکری جتھے لے کر آنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے کہ اب کے کہانی مختلف ہوگی بلکہ ختم ہو گی۔ ممکن ہے یہ آخری لانگ مارچ ثابت ہو، ٹک ٹاکر وزیر اعلیٰ سے کان میں پوچھا جائے کہ دنیا کے کسی ایسے ملک کا نام بتائیں جہاں ایک صوبہ اعلانِ بغاوت اور لاشیں گرانے کی دھمکیاں دیتے ہوئے وفاق پر حملہ آور ہوا ہو۔ عالمی انسائیکلوپیڈیا میں ایسے لانگ مارچ کو بغاوت قرار دے کر سختی سے کچل دیا جاتا ہے۔ ایسا ہو تو اسٹیٹ ہارڈ ہو جاتی ہے۔ 4 اکتوبر کی کال یا نعرہ مستانہ آزادی یا موت، ملک سے آزادی یا مرشد کی آزادی۔ ملکی دفاع کے لیے شہادت باعثِ فخر، شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ سڑکوں پر لاحاصل موت لواحقین بھی سرعام مرنے والوں کا نام نہ لیں۔ سومنات والے صوبائی صدر کا ذکر بھول گئے جنہوں نے عالم سکر میں اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی دے ڈالی۔ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ ایک ہزار سال بعد صوابی سے جعلی محمود غزنوی کا ظہور، قربِ قیامت کی علامتِ کبریٰ۔ اصلی محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 حملے کیے اور مندر کے سب سے بڑے بت کو توڑا۔ حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا: ”قوم اپنی زر و مال جہاں پر مرتی، بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی۔ ہمارے دور کے جعلی محمود غزنوی نے خواہشات اور اقتدار کی ہوس کے بت توڑنے کی بجائے اپنے من مندر میں بسنے والے بڑے بت کو جیل توڑ کر اقتدار کے خیالی سنگھاسن پر بٹھانے کے ارادے سے اسلام آباد کو سومنات بنانے کا اعلان کر دیا لیکن صبح ہوتے ہی ندامت ہوئی بولے میرا یہ مطلب تو نہیں تھا، سومناتی پجاریوں سے ایک ہی گلہ ہے کہ دوچار سو افراد کو سامنے پا کر ان کی عقل واک کرنے چلی جاتی ہے، آئیں گے تو دیکھا جائے گی۔ ملک کا 10 ارب کا نقصان کر کے بھی بدلے کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوگی۔ انتظامات مکمل ہیں، گورنر راج، گورنر راج پلس یا صرف ایمرجنسی کا نفاذ، وزیر اعلیٰ سمیت 58 ارکان کے خلاف کارروائی، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
لانگ مارچ موخر، سومناتی پجاری مایوس
09:37 AM, 28 Sep, 2026