دہشت گردی، لانگ مارچ اور آرٹیکل 234 کی بازگشت....

09:33 AM, 28 Sep, 2026

صوبہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی کی ایک نئی اور خطرناک لہر کی زد میں ہے، جس نے امن و امان کی صورتحال کو انتہائی مخدوش کر دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کوہاٹ ، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، بنوں، کرم اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سکیورٹی فورسز، پولیس اورشہریوں پر حملوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم قیمتی جانوں کا ضیاع مسلسل جاری ہے۔ اس کی وجہ صوبائی حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ اور ترجیحات ہیں۔ ایک طرف صوبہ بد ترین دہشت گردی کے عفریت کا شکار ہے اور دوسری طرف صوبائی حکومت لانگ مارچ اور وفاق پر چڑھائی کی تیاری کر رہی ہے ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی پی ٹی آئی ریاست مخالف کوئی تحریک چلانے کی بات کرتی ہے تو براہ راست اس کی حمایت بھارت اور افغانستان سے شروع ہو جاتی ہے ۔ حالیہ برسوں میں 9 مئی جیسا ریاست اور ریاستی اداروں پر سنگین نوعیت کا حملہ ہو، پھر 26 نومبر ہو یا پاک بھارت جنگ ہو جب اور جہاں تحریک انصاف نے ریاست مخالف بیانیہ بنایا تو اس کا تانابانا بھارت اور افغانستان سے ہی ملا ہے۔ 9 مئی کو تحریک انصاف کے بلوائیوں نے جب ریاست پر حملہ کیا تو بھارت کے نیشنل ٹیلی ویژن پر یہ مناظر براہِ راست دکھائے گئے، اور خوشی کا عالم یہ تھا کہ بھارتی ریٹائرڈ فوجی افسر اور دفاعی امور کے ماہرین یہ کہتے پائے گئے کہ بھارت سات دہائیوں سے وہ نہ کر پایا جو تحریک انصاف نے کر دیا۔ پی ٹی آئی سوشل میڈیا دہشت گردوں نے باہر بیٹھ کر بھارتی موقف کے عین مطابق عمل درآمد کرتے ہوئے تمام حدیں پار کیں، کیونکہ بھارت اور اس کی افغان پراکسیز کی طرف سے بلوائیوں کو اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ اور یہ یقین دہانی فیض حمید اور ٹی ٹی پی کی طرف سے بھی تھی کہ کسی بھی طریقے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تختہ الٹ دو باقی کام ہمارا ۔ اسی طرح 26 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی نے ایک مرتبہ پھر افغان طالبان اور بھارت کی مکمل حمایت کے بعد ملک میں سیاسی بحران اور نقص امن پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور ایک مرتبہ پھر بلوائیوں، مسلح جتھوں، بھارت کی فنڈنگ طالبان اور ٹی ٹی پی کی حمایت سے آخری کوشش کی کہ کسی طرح عاصم منیر اور شہباز حکومت کا تختہ الٹ جائے تاہم ریاست نہ صرف تیار تھی بلکہ ان کے عزائم کو جدید ٹیکنالوجی کے توسط سے زیر زبر کے ساتھ جان چکی تھی ۔ یوں پی ٹی آئی کو منہ کی کھانا پڑی۔ فارن فنڈنگ کیس ایک کھلی تصویر ہے کہ تحریک انصاف کو کہاں کہاں سے حمایت حاصل تھی اور یقینا اب بھی ہے۔ برطانیہ اس وقت تحریک انصاف کی حمایت میں ہر حد پار کر رہا ہے برطانیہ میں یہودی لابی، بی ایل اے کی مفرور قیادت اور بھارت براہ راست 
اس تگ و دو میں ہے کہ کسی بھی طرح ان کی انویسٹمنٹ اور امید جو کہ عمران خان سے وابستہ ہے وہ باہر آئے۔ بھارت یہ سمجھتا ہے اور اسرائیلی اس بات پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ عمران خان وہ واحد شخص ہے جو پاکستان کی اساس کو تباہ کر سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چالیس سالہ انویسٹمنٹ جب ضائع ہوتے دیکھتے ہیں تو ان پاکستان دشمنوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں ۔ ایک مرتبہ پھر بلوائیوں نے ریاست پاکستان پر حملہ آور ہونے کی تاریخ دی ، مکمل تیاری کی مگر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے اس کی سب سے بڑی وجہ فنڈز کی منتقلی کے تمام دروازے بند تھے اور ان دروازوں کے ساتھ ساتھ افغانستان کا بارڈر بھی سیل ہے۔ افغان مہاجرین کیمپ بھی ویران ہیں کیونکہ ماضی میں تحریکِ انصاف جو بھی جلسہ جلوس کرتی تھی اس میں کثیر تعداد افغان مہاجرین کیمپوں سے آتی تھی ۔ چند سو روپوں میں پشتو بولتے افغان مہاجرین کو دکھا کر خیبرپختونخوا سے مکمل حمایت کا پراپیگنڈہ کیا جاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو نکالا گیا تو ٹی ٹی پی سمیت صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت کی بھی چیخیں نکل گئیں، تحریک انصاف نے ہر فورم پر اس بات کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اسے انسانی حقوق کی آڑ میں پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ آج بھی فلور آف دی ہاس پر سب سے بڑا مطالبہ یہی ہوتا ہے کہ افغان مہاجرین کو واپس نہ بھیجا جائے اور بارڈر کھول دیں ۔ کیونکہ ان کو اب افغانیوں کی صورت تازہ کمک نہیں پہنچ رہی۔ تمام دروازے جو فیض حمید نے کھولے تھے وہ اب آہستہ آہستہ بند ہوتے جا رہے ہیں، یہ دروازے بند ہو رہے ہیں تو تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومت بھی اسی طرح غیر فعال یا دوسرے لفظوں میں معزولی کی طرف رواں دواں ہے۔ عملی طور پر خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت اپنا اثر و رسوخ اور وجود کھو چکی ہے۔ پولیس اور سرکاری مشینری کا سیاسی استعمال بند ہونے پر سہیل آفریدی صاحب سمیت ساری تحریک انصاف اس وقت سر پکڑ کر بیٹھ گئی ہے ۔ کیونکہ ان کے پاس صوبہ خیبرپختونخوا کی غریب عوام کا ترقیاتی فنڈ ہی تو تھا جس کے بل بوتے پر یہ اپنے سیاسی شدت پسندانہ شو کیا کرتے تھے ۔ جب ان سے سوال ہوتا تھا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کیا کارکردگی ہے تو یہ کہتے تھے ہمیں مینڈیٹ خان کی رہائی کا ملا ہے صوبے کی ترقی کا نہیں ملا اور نہ کوئی یہ سوال کرسکتا ہے ۔ اگر خیبرپختونخوا میں کوئی سیاسی شعور رکھنے والا ان سے اپنے حق کی بات کرتا ہے تو اس کے گھر ٹی ٹی پی کا خط آ جاتا ہے ۔ ایک خوف اور گھٹن زدہ ماحول ہے لوگ سہمے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ سب کو علم ہے کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کا عملی گٹھ جوڑ ہے۔ اگر کسی نمائندے سے بات کریں گے تو جواب خودکش حملے یا گولی کی صورت ملے گا ۔ ایسے ماحول میں ایک مرتبہ پھر 27 ستمبر کی ناکامی کو 4 اکتوبر کی امید کے ساتھ پھر بلوائیوں کو از سر نو تیار کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے ۔ لوگ نہیں نکلنا چاہتے اور نہ اس بار صوبائی حکومت کے اختیارات کا استعمال ممکن ہے۔ اور دوسری طرف ریاست نے بھی حتمی اور فیصلہ کن کارروائی کا براہ راست پیغام دیا ہے۔ یہ ناکامی صرف تحریک انصاف کی ناکامی تصور نہیں ہوگی بلکہ افغانستان، ٹی ٹی پی ، بی ایل اے ، اسرائیل اور بھارت کی مجموعی ناکامی ہے۔ چنانچہ نتیجتاً صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی مذموم مقاصد کے تحت کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔ جن طالبان اور ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو عمران خان اور فیض حمید نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر پاکستان میں بسایا تھا انہوں نے اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے پھر سے خون کی ہولی کھیلنا شروع کر دی ہے۔ پہلے کوہاٹ اب ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے المناک سانحے نے صوبائی حکومت کی ترجیحات کا پول کھول دیا ہے ۔ سہیل آفریدی اینڈ کمپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ویسے بھی بقول ان کے ان کا مینڈیٹ صوبائی تعمیر و ترقی یا وفاق پاکستان کو مضبوط کرنا تو ہرگز نہیں ہے وہ صرف خان کو جیل سے چھڑانے کا مینڈیٹ لیکر آئے ہیں چنانچہ ان کی بلا سے صوبہ تباہ ہو جائے، عوام کی جان و مال و عزت داو¿ پر لگ جائے۔ اب یہاں ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ آئینی بندوبست کے ذریعے خیبرپختونخوا کے عوام کو ان نالائق، نا اہل اور مفاد پرست عناصر سے محفوظ کریں۔ آرٹیکل 232 اور 234 آئین کا حصہ ہے اور اس میں وضاحت موجود ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے یا آئینی تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہی ہو، تو گورنر راج کے ذریعے وفاق کا براہِ راست کنٹرول قائم کر کے صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ آئین کے تحت کسی بھی صوبے میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی اہم اور حساس آئینی قدم ہوتا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 234 صدرِ مملکت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ صوبے کے گورنر کی رپورٹ پر یا صوبائی اسمبلی کی جانب سے آئین کے مطابق کام نہ کر پانے کی صورت میں گورنر راج نافذ کر سکیں۔ خیبرپختونخوا میں وہ تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں ۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کس بات کا انتظار ہے کیا جا رہا ہے ، ماضی میں سوات ، باجوڑ ، میران شاہ اور یہاں تک کہ بنوں اور کوہاٹ کا حال سب کے سامنے نہیں ہے۔ کیا ایک مرتبہ پھر انتظار کیا جا رہا ہے کہ پشاور تک نوگو ایریا بن جائے کیا پھر صوبہ خیبرپختونخوا کی بیٹیوں پر زمین تنگ ہونے کا انتظار ہے۔ ابھی وقت ہے کہ طاقتور حلقوں کو اس نازک صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے ۔ بصورت دیگر جس طرح صوبائی حکومت کا طرز عمل ہے اور دہشت گردی پھر سے سر اٹھا چکی ہے تو معاملات کو سنبھالنا آسان نہ ہوگا۔

مزیدخبریں