پاکستان میں غربت کوئی نئی حقیقت نہیں مگر عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر اس زخم کو ہرا کر دیا ہے جسے "سب اچھا ہے" کے پردے میں اکثر چھپا دیا جاتا ہے۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان کا موجودہ معاشی ترقی کا ماڈل غربت میں کمی کرنے میں معاون نہیں ہے جس کے باعث آمدن میں اضافہ رک گیا ہے جبکہ غربت 2024 میں آٹھ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ پنجاب میں غربت کی شرح 16.3 فیصد ہے مگر اصل تصویر اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہے کیونکہ صوبے کی تقریباً 40 فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں غربت کا شکار ہے۔ بلوچستان کی حالت تو اس سے بھی زیادہ کربناک ہے جہاں 42.7 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سندھ میں یہ شرح 24.1 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 29.5 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اگر ان اعداد کو محض اعداد ہی سمجھا جائے تو شاید دل پر اتنا بوجھ نہ ہو مگر جب یہ سوچ آتی ہے کہ ان اعداد کے پیچھے کروڑوں خاندانوں کی کہانیاں ہیں، خالی چولہے ہیں، سکول چھوڑنے پر مجبور بچے ہیں اور بیمار ماں باپ ہیں جن کے پاس دوا خریدنے کے پیسے نہیں تو یہ رپورٹ ایک بے رحم نوشتہ دیوار لگنے لگتی ہے۔
2020 کے بعد پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ تیز رفتاری سے ہوا۔ پہلے کورونا وبا نے معاشی سرگرمیوں کو جمود کا شکار کیا، مزدور طبقے کو بے روزگار کیا اور شہروں کے کناروں پر روز کمانے اور روز کھانے والوں کو ننگی حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ابھی معیشت اس صدمے سے نکل بھی نہ پائی تھی کہ 2022 کا تباہ کن سیلاب آیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ تین کروڑ تیس لاکھ افراد اس آفت سے متاثر ہوئے، لاکھوں گھر، کھیت اور مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے اور کروڑوں لوگ بے یار و مددگار خیموں میں جا بسے۔ عالمی بینک کے مطابق صرف اس ایک سانحے نے غربت کی شرح میں 5.1 فیصد اضافہ کیا اور ایک کروڑ تیس لاکھ افراد مزید خط غربت سے نیچے چلے گئے۔ جب ملک میں مہنگائی کی شرح 2022-23 میں 29.2 فیصد تک
پہنچ گئی تو یہ کمزور طبقہ سب سے پہلے کچلا گیا۔ اجرتیں وہیں کی وہیں رہیں مگر آٹا، چاول، تیل اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ یوں ایک عام خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی ایک روزانہ کی جنگ بن گیا۔
غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں۔ یہ بھوک، بیماری، ناخواندگی اور محرومی کا پورا سلسلہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو کبھی اپنی پوری جسمانی اور ذہنی صلاحیت نہیں پائیں گے، جو کلاس روم میں بیٹھ کر بھی بھوکے پیٹ الفاظ کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ اسی رپورٹ کے مطابق ایک تہائی بچے سکول ہی نہیں جاتے اور جو جاتے بھی ہیں ان میں سے 75 فیصد پرائمری کے بعد بھی پڑھنے اور لکھنے کی بنیادی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ صرف تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ مستقبل کی تباہی کی دستاویز ہے۔ اگر ایک قوم اپنے بچوں کو بھوکا اور ناخواندہ چھوڑ دے تو وہ کیسے آنے والے کل میں ایک بہتر معاشرہ یا مضبوط معیشت کی امید کر سکتی ہے؟حکومت نے غربت کے خاتمے کے لیے مختلف فلاحی پروگرام متعارف کرائے، جن میں سب سے بڑا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے۔ مگر عالمی بینک کی رپورٹ اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس پروگرام کے باوجود غربت کی شرح میں وہ کمی نہیں ہو سکی جس کی توقع تھی۔ نقد امداد وقتی سہارا تو فراہم کر دیتی ہے مگر اس سے نہ تو مستقل روزگار پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی کسی خاندان کو غربت کے دائمی چکر سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ جب تک معاشی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں ہوں گی، زراعت، صنعت، تعلیم اور صحت میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی اور لوگوں کو باعزت روزگار نہیں دیا جائے گا، تب تک امداد کے یہ ماڈل صرف وقتی تسلی کا سامان رہیں گے۔
پاکستان میں غربت کی اصل جڑ کمزور معاشی ماڈل ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم اپنی فصلوں کو عالمی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہے ہیں۔ صنعتیں پرانی ٹیکنالوجی اور مہنگی توانائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ تعلیم کا نظام طبقاتی خلیج کو بڑھا رہا ہے اور صحت کا شعبہ اکثر عام انسان کی دسترس سے باہر ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کروڑوں افراد ایسی نوکریوں میں جکڑے ہیں جو ان کے خاندان کے بنیادی اخراجات پورے نہیں کر سکتیں۔ غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والے مزدور، گھریلو ملازمائیں، رکشہ ڈرائیور، دیہاڑی دار مزدور ،یہ سب لوگ وہ چہرے ہیں جو اعداد و شمار کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر آج بھی غربت کو محض ایک معاشی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کیا گیا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے بحران میں پروان چڑھیں گی جہاں غربت، بھوک، ناخواندگی اور بے روزگاری ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو کر پورے معاشرے کو کھا جائیں گی۔ یہ صرف معیشت کی کہانی نہیں بلکہ انسانی وقار کی لڑائی بھی ہے۔ ہر وہ بچہ جو سکول سے باہر ہے، ہر وہ باپ جو اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں دے پا رہا، ہر وہ نوجوان جو روزگار کے در پر دھکے کھا رہا ہے، وہ اس نظام کے خلاف ایک زندہ ثبوت ہے جس نے اسے غربت کے اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کرے۔ غربت کا مقابلہ صرف نقد امداد بانٹنے سے نہیں ہوگا، اس کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ زراعت کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر منڈیوں کی ضرورت ہے۔ صنعت کو توانائی اور پالیسی کے استحکام کی۔ تعلیم کو یکساں معیار اور سب کے لیے مساوی مواقع چاہیے۔ صحت کو ایسا ڈھانچہ چاہیے جو ہر شہری کو بنیادی سہولت فراہم کر سکے۔ جب تک یہ سب اقدامات نہیں ہوں گے، غربت کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی رہے گی۔
عالمی بینک کی رپورٹ ہمیں صرف آئینہ دکھا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس آئینے کو دیکھنے کے لیے تیار ہیں یا پھر ہمیشہ کی طرح آنکھیں بند کر لیں گے؟ اگر ہم نے اس آئینے میں جھانک کر اپنی کوتاہیوں کو نہ پہچانا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی کیونکہ غربت صرف ایک اقتصادی اصطلاح نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ ایک ایسا المیہ جو ہر دن ہمارے گلی محلوں میں زندہ حقیقت کے طور پر چلتا پھرتا ہے اور شاید یہی پاکستان کا سب سے بڑا بحران ہے کہ ہمارے پاس وسائل موجود ہیں مگر ہم اپنی ہی قوم کو غربت کے اندھیروں سے نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
پاکستان کا کمزور معاشی ماڈل اور غربت
09:25 AM, 28 Sep, 2025