پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ کبھی دنیا کے بڑے ممالک سے تعلقات میں کشیدگی رہی اور کبھی ایسے مواقع آئے جب پاکستان کی خارجہ پالیسی کو عالمی سطح پر بہت پذیرائی ملی۔ آج کے حالات میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی سفارت کاری ایک نئے عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔ اب اس کو ہائیبرڈ نظام کا نتیجہ کہیں یا کچھ اور لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس دور میں پاکستان نے نہ صرف اپنے خطے کے بڑے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا ہے بلکہ عالمی قوتوں کے ساتھ بھی تعلقات کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ امریکہ، چین، سعودی عرب، ایران اور آذربائیجان کے ساتھ تعلقات میں جو گرمجوشی نظر آ رہی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے اپنے قومی مفاد کے مطابق ایک متوازن اور موثر خارجہ پالیسی ترتیب دی ہے۔ماضی میںامریکہ کے ساتھ تعلقات کبھی سرد مہری کا شکار رہے اور کبھی بہت قریبی۔ لیکن موجودہ حالات میں دیکھا جائے تو امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی مثبت روش نظر آتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں دیکھنے کو ملی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو خاص اہمیت دی۔ پاکستان کے وفد کو جس عزت اور احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کی طاقتور قیادت اب پاکستان کو ایک اہم شراکت دار سمجھ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے خصوصی استقبال نے نہ صرف پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کیا بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ پاکستان اب عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا رہا ہے۔
چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے خصوصی نوعیت کے رہے ہیں۔ سی پیک کے منصوبے نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے اور قریب کر دیا ہے۔ لیکن موجودہ وقت میں تعلقات صرف اقتصادی منصوبوں تک محدود نہیں رہے بلکہ دفاعی، سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کی حمایت کر رہے ہیں۔ چین نے ہر عالمی فورم پر پاکستان کا مؤقف سنا ہے اور اسے تقویت دی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین کا تعلق ایک ایسی شراکت داری میں بدل چکا ہے جسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان کی سفارت کاری نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ ایک ہی ملک پر انحصار کرنے کے بجائے تمام بڑے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی بنیاد مذہبی، ثقافتی اور جذباتی رشتوں پر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دفاعی، سیاسی اور اقتصادی تعلقات بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ سعودی قیادت نے پاکستان کو ایک قریبی دوست اور برادر ملک کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ پاکستان کے رہنماؤں کو سعودی عرب میں جو پروٹوکول اور عزت دی گئی وہ بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا نتیجہ تھا۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی پیشکش اور دیگر منصوبوں پر تعاون اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔سب سے بڑھ کر دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے دفاعی تعاون کے معاہدہ کی وجہ سے دونوں ممالک بھائی چارے کے ایک اٹوٹ بندھن میں بندھ گئے ہیں اور اس کی وجہ سے دشمن ممالک کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔ ایران کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ایک پیچیدہ معاملہ رہے ہیں۔ جغرافیائی قربت اور ثقافتی رشتوں کے باوجود کئی مرتبہ دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں اور کشیدگیاں پیدا ہوئیں۔ لیکن حالیہ عرصے میں پاکستان نے اپنی حکمت عملی سے ایران کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی راہ دکھائی ہے۔ ایران کے ساتھ سرحدی سلامتی، تجارتی تعلقات اور توانائی کے منصوبوں میں بات آگے بڑھی ہے۔ یہ پاکستان کی سفارتکاری کی ایک اور بڑی کامیابی ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مثبت رخ دیا ہے اور کشیدگی کے بجائے تعاون کی راہ ہموار کی ہے۔
آذربائیجان ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں حالیہ عرصے میں غیر معمولی بہتری آئی ہے۔ آذربائیجان نے ہر موقع پر پاکستان کی حمایت کی ہے، خاص طور پر مسئلہ کشمیر پر۔ پاکستان نے بھی آذربائیجان کی مشکلات اور مسائل میں ہمیشہ اس کا ساتھ دیا ہے۔ دونوں ممالک میں دفاعی، تجارتی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہے۔ یہ تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان نے نہ صرف بڑے ممالک بلکہ خطے کے ابھرتے ہوئے ممالک کے ساتھ بھی اپنی پالیسیوں کو کامیابی سے آگے بڑھایا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کو جو مقام اور عزت ملی وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ ماشل عاصم منیر اور دیگر رہنماؤں کو جو پذیرائی ملی، ملاقاتوں میں جو گرمجوشی دیکھنے میں آئی اور عالمی میڈیا پر جس طرح پاکستان کا تذکرہ ہوا وہ کامیاب سفارت کاری کا ایک روشن پہلو ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے خصوصی استقبال نے اس موقع کو مزید یادگار بنا دیا۔ یہ صرف ایک پروٹوکول نہیں تھا بلکہ ایک علامت تھی کہ پاکستان اب دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کر رہا ہے۔
پاکستان کی سفارت کاری کی کامیابیوں کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی پالیسیوں میں توازن پیدا کیا ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا تو دوسری طرف چین کے ساتھ بھی اپنا قریبی تعلق برقرار رکھا۔ سعودی عرب اور ایران جیسے دو بڑے اور بعض اوقات متضاد مفادات رکھنے والے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات کو خوش اسلوبی سے سنبھالا گیا۔ اسی طرح آذربائیجان جیسے دوست ملک کے ساتھ تعلقات کو مزید آگے بڑھایا گیا۔ یہ سب کچھ اس بات کی نشانی ہے کہ پاکستان اب ایک متحرک اور خود اعتمادی سے بھرپور خارجہ پالیسی اختیار کر رہا ہے۔ پاکستان کی یہ کامیابیاں صرف وقتی نہیں ہیں بلکہ مستقبل کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کریں گی۔ ایک طرف عالمی سرمایہ کار پاکستان کی طرف متوجہ ہوں گے، دوسری طرف پاکستان کے مؤقف کو عالمی فورمز پر زیادہ سنجیدگی سے سنا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور ترقی کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ اگر پاکستان اسی تسلسل کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھاتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جائے گا۔ برادر نجم ولی خان کا بالکل درست کہنا ہے کہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ نے اپنی اعلیٰ حکمت عملی کی بدولت تین اہم وکٹیں اڑا دی ہیں۔ پہلی تو بھارتی حکومت اور اس کے جارح مزاج میڈیا کی ، دوسری افغانستان کی جانب سے آنے والے در اندازوں کی اور تیسری اس سیاسی جماعت اور اس کے میڈیا سیل کی جو نو مئی جیسے واقعات اور ملک کی دفاعی اور اقتصادی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے درپے تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں کوئی ملک اکیلا آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پاکستان نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ اسے تمام بڑے اور اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ہی اپنے مقاصد حاصل کرنے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی موجودہ سفارت کاری کو ایک کامیاب حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے رہنما اور مبصرین اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو درست سمت دی ہے اور یہی پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
بہترین خارجہ پالیسی اور سفارتکاری!
09:23 AM, 28 Sep, 2025