پاکستان اور افغان طالبان میں مذاکرات کا تیسرا دن بھی تعطل کا شکار رہا

09:38 AM, 28 Oct, 2025

استنبول :  پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا تیسرا دن بھی مشکلات کا شکار رہا، اور افغان طالبان کی جانب سے حوصلہ افزا جواب نہ مل سکا۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان اپنے مطالبات پر مضبوطی سے قائم ہے، لیکن افغان طالبان انہیں مکمل طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پاکستانی وفد کا موقف مضبوط اور امن کے قیام کے لیے ضروری ہے، جسے میزبان ممالک بھی جائز سمجھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغان طالبان کا وفد بھی ان مطالبات کو درست سمجھتا ہے، مگر کابل سے جاری کنٹرول کی وجہ سے عملدرآمد میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ افغان طالبان بار بار کابل انتظامیہ سے رابطہ کر کے انہی کے احکامات کے مطابق مذاکرات میں آگے بڑھ رہے ہیں، مگر کابل کی جانب سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں آ رہا، جس سے مذاکرات میں تعطل آ رہا ہے۔

پاکستان نے یہ بات بار بار واضح کی ہے کہ ان مطالبات کو تسلیم کرنا سب کے مفاد میں ہے اور میزبان ممالک نے بھی افغان وفد کو اس بات کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں ہوا تھا، جس میں سیز فائر پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دوسرا دور استنبول میں چند روز قبل ہوا تھا، جس میں پہلے دور میں طے پانے والے نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان نے افغان حکام کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا تھا، اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے پاس دو راستے ہیں: یا تو وہ امن کے ساتھ رہیں، یا پھر پاکستان ان کے ساتھ کھلی جنگ کرے گا۔

مزیدخبریں