لاہور : لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں اس وقت فضائی آلودگی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں آج بھی پہلے نمبر پر ہے، جہاں کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) صبح کے وقت 410 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح انتہائی بلند ہے، جیسے ساندہ روڈ پر AQI 767، ٹاؤن شپ میں 758 اور ماڈل ٹاؤن میں 574 ہے۔
فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور جیسے دیگر شہر بھی فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں پارٹیکیولیٹ میٹرز کی تعداد 600 سے 250 کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور باہر نکلتے وقت احتیاطی تدابیر اپنائیں تاکہ صحت کے خطرات سے بچا جا سکے۔
فضائی آلودگی کی شدت میں اضافے کی بڑی وجہ کم ہوا کی رفتار اور کم درجہ حرارت ہے، جس کی وجہ سے آلودہ ذرات زمین کے قریب جمع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دھند اور حدِ نگاہ میں کمی آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح اور رات کے اوقات میں آلودگی کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
حکومت کی جانب سے آلودگی کے اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے 16 مکینیکل واشرز اور 50 واشر رکشے سڑکوں کی صفائی اور پانی چھڑکاؤ کے لیے میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب پولیس نے سموگ کی روک تھام کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں، اور مختلف خلاف ورزیوں کے خلاف 14 مقدمات درج کیے ہیں۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ اگر باہر جانا ضروری ہو تو حفاظتی ماسک کا استعمال کریں۔اس وقت، فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔