سیاست کا کھیل ہمیشہ سے اقتدار کی گلیوں میں اپنی چال چلتا آیا ہے۔ کبھی یہ خدمتِ خلق کا استعارہ بنتی ہے، اور کبھی ذاتی مفاد و عناد کی دلدل میں ڈوب کر انسانیت کو شرمندہ کر دیتی ہے۔ آج بھارت کی سرزمین پر، بہار کی سیاست ایک بار پھر اسی تاریخی موڑ پر کھڑی ہے ،جہاں ترقی اور روزگار کے نعرے ایک بار پھر مصنوعی قوم پرستی کے شور میں دب گئے ہیں۔ نومبر 2025 ء کے انتخابات محض ووٹوں کی جنگ نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ بن چکے ہیں، جہاں اصل سوال یہ نہیں کہ عوام کو روزگار، تعلیم یا انصاف ملا یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ’’کون زیادہ محب وطن ہے‘‘ اور ’’کون دشمن کے خلاف زیادہ نعرے لگا سکتا ہے‘‘۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے انتخابی مہم کو قومی سلامتی اور پاکستان دشمنی کے جذبات کے گرد گھما دیا ہے۔ پہلگام واقعہ ہو یا سرحد پار دراندازی کا خوف، ہر خبر کو ایک انتخابی ہتھیار میں بدلا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے بہار کی سڑکوں، سکولوں اور ہسپتالوں کے بجائے اب بیلٹ باکس کا دار و مدار ’’پاکستان مردہ باد‘‘ کے نعروں پر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بہار واقعی سرحدی جنگ کا میدان ہے یا محض ایک انتخابی تماشہ گاہ؟ جبکہ حقائق تو کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ 2020ء میں کیے گئے ’’وکاس‘‘ کے وعدے آج بھی دھول چاٹ رہے ہیں۔ سڑکوں کی حالت خستہ، ہسپتالوں میں ادویات ناپید اور تعلیمی ادارے فنڈز کے انتظار میں ہیں۔ ریاست کا سرمایہ جاتی بجٹ بڑھ کر 42 ہزار کروڑ روپے ہو چکا ہے مگر ترقی کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے جبکہ بے روزگاری کی شرح 3.9 فیصد ہے، لیکن شہری نوجوانوں میں یہ 10 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ تین کروڑ سے زیادہ نوجوان روزگار کے متلاشی ہیں، مگر نجی شعبہ صرف 1.9 فیصد لوگوں کو روزی دے رہا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو قوم پرستی کے شور میں سنائی نہیں دیتی۔
جب کارکردگی نہ ہو تو سیاست کے پاس ایک ہی سہارا بچتا ہے اور وہ ہے خوف کا سہارا۔ بی جے پی نے اسی خوف کو اپنے منشور کا حصہ بنا لیا ہے۔ نیپال سے متصل بہاری اضلاع (کشن گنج، ارریہ، پورنیہ، مدھوبنی )کو ’’انتہا پسندی کے اڈے‘‘ قرار دے کر قومی سلامتی کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔ میڈیا اس کھیل کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ ہر بریکنگ نیوز میں دشمن ’’باہر‘‘ تلاش کیا جا رہا ہے تاکہ عوام ’’اندر‘‘ کے سوالات نہ پوچھیں کہ روزگار کہاں گیا؟ کسان کیوں خودکشی کر رہے ہیں؟ تعلیم کیوں زوال پذیر ہے؟ یہی مصنوعی قوم پرستی بہار کی سماجی ساخت کو چیر رہی ہے۔ 2024ء میں فرقہ وارانہ تشدد کے صرف سات واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جب کہ 2025 ء میں یہ تعداد پینسٹھ ہو گئی ہے۔ متاثرین کون ہیں؟ وہی جو ہمیشہ ہوتے ہیں، مسلمان، دلت اور عیسائی۔ یہ تشدد کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی انجینئرنگ کا نتیجہ ہے، جس کے ذریعے ’’منڈل بمقابلہ مندر‘‘ کی پرانی لڑائی کو نئی چمک دی جا رہی ہے۔ ایک طرف مذہبی اکثریت کا اتحاد اور دوسری جانب پسماندہ طبقات کی بکھری ہوئی آوازیں ہیں۔اور بی جے پی ان سب کے بیچ چالاکی سے ووٹوں کا ریاضی اپنے حق میں گن رہی ہے۔
این ڈی اے (بی جے پی ،جے ڈی یو) کا اتحاد اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ نتیش کمار کی حکومت عوامی اعتماد کھو چکی ہے۔ صحت، تعلیم، روزگار، ان بنیادی سہولتوں کے میدانوں میں ناکامی ہے، مگر انتخابی سٹیج پر قوم پرستی کا پردہ تان دیا گیا ہے۔ چھوٹی اتحادی جماعتوں کو ساتھ رکھ کر اتحاد کو زندہ رکھا جا رہا ہے، مگر عوامی تاثر بدلنا اب آسان نہیں۔ ادھر اپوزیشن اتحاد راشٹریہ جنتا دل، کانگریس اور بائیں بازو، اگرچہ عوامی مسائل اٹھا رہا ہے، مگر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی شمولیت نے اسے تقسیم کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ اویسی کی جماعت کو بی جے پی کی ’’پراکسی‘‘ کہا جا رہا ہے، جو مسلم ووٹوں کو بانٹ کر سیکولر اتحاد کی کمر توڑ سکتی ہے۔ بہار کی 17 فیصد مسلم آبادی کم نہیں، کیونکہ تقریباً 60 حلقوں میں ان کا ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ ایک معمولی تقسیم بھی بی جے پی کے لیے جیت کی سیڑھی بن سکتی ہے۔
ذات پات کی سیاست بہار کے جینز میں رچی بسی ہے۔ اعلیٰ ذات طبقے کی گرفت آج بھی مضبوط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اور جے ڈی یو ذات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کر رہی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اس کے نتائج پسماندہ طبقات کو نئی سیاسی طاقت دے سکتے ہیں۔ مگر اقتدار کے ایوانوں میں ’’طاقت کی تقسیم‘‘ کا ذکر گناہ سمجھا جاتا ہے۔ آج بہار کا ووٹر ایک سنگین دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف خوف اور مذہبی جذبات کا سمندر ہے ،جس میں قوم پرستی کے نعرے ہیں، بلڈوزر کی دھمکیاں ہیں، اور ’’دشمن‘‘ کی شناخت پر ووٹ مانگے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب وہ خاموش مگر حقیقت پسند آواز ہے جو کہتی ہے کہ ’’محبت روٹی سے بڑی نہیں، اور وطن کی خدمت محض نعرے بازی سے نہیں ہوتی‘‘۔
یہ الیکشن صرف بہار کا نہیں، بھارت کے جمہوری مستقبل کا امتحان ہے۔ اگر عوام نے اس بار بھی جذباتی نعروں کو عقل پر ترجیح دی، تو شاید آنے والی نسلیں بھی اسی اندھے شور میں اپنی حقیقت کھو بیٹھیں گی۔ مگر اگر عوام نے اس بار اپنے ووٹ کو ’’احتجاج‘‘ کا ہتھیار بنایا، اگر اس نے خوف کی سیاست کو مسترد کر کے ترقی، روزگار اور انصاف کی بات کی، تو یہ انتخاب بہار ہی نہیں، پورے بھارت کے لیے نئی صبح کا آغاز بن سکتا ہے۔قوم پرستی اچھی بات ہے، مگر جب یہ عوام کے پیٹ پر لات مارنے لگے تو یہ محبت نہیں، مجبوری بن جاتی ہے۔ بہار کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اس مصنوعی شور کے ساتھ بہے گا، یا اپنے ضمیر کی آواز سنے گا؟ فیصلہ تاریخ لکھے گی، مگر اس کا عنوان عوام کے ہاتھوں میں ہے۔
بہار کے انتخابی افق پر ایک فیصلہ کن موڑ
09:24 AM, 28 Oct, 2025