جب بیانیہ دشمن کی زبان بولنے لگے

09:23 AM, 28 Oct, 2025

قوموں کی زندگی میں وہ وقت سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جب دشمن باہر سے نہیں، اندر سے وار کرے بدقسمتی سے پاکستان اس وقت اسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کی چنگاریاں ایک بار پھر بھڑکنے لگی ہیں، مگر ان سے بھی زیادہ خطرناک وہ دھواں ہے جو اندر سے اُٹھ رہا ہے ۔وہ دھواں جو جھوٹ، منافقت اور پراپیگنڈے کے ایندھن سے بھرا ہے۔ اس آگ کو ہوا دینے والے وہی عناصر ہیں جو خود کو ’’پشتون تحفظ‘‘کے نام پر پیش کرتے ہیں، مگر درحقیقت پاکستان کے قومی تحفظ کے دشمنوں کی زبان بولتے ہیں۔
پی ٹی ایم کا بیانیہ ایک عرصے سے اس ملک کی وحدت کو چیلنج کرتا آیا ہے۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ ریاست پشتونوں کو نشانہ بنا رہی ہے اورکبھی یہ شور مچاتے ہیں کہ سرحدی کارروائیاں عوام کے خلاف ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کی سرحدی کارروائیاں کسی قوم، قبیلے یا نسل کے خلاف نہیں، بلکہ ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہیں جو افغانستان کی زمین سے آ کر پاکستانی عوام کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ مگر پی ٹی ایم کی عادت ہے کہ وہ حقائق کو مسخ کر کے دکھاتی ہے اور دہشت گردوں کو پشتونوں کا نمائندہ اور محافظوں کو ظالم بنا کر پیش کرتی ہے۔یہ بیانیہ نادانی نہیں بلکہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے۔ یہ وہی داستان ہے جو کابل، دہلی اور اُن میڈیا نیٹ ورکس میں لکھی جاتی ہے جن کی خواہش ہے کہ پاکستان اندر سے ٹوٹ جائے، اور پشتون اپنے ہی محافظوں سے بدگمان ہو جائیں۔ پی ٹی ایم کے چند رہنما اسی بیانیے کے سفیر بن چکے ہیں۔ ان کے جلسوں میں پاکستان کے پرچم کی جگہ افغان جھنڈا لہرانا اور سوشل میڈیا پر دشمن خفیہ اداروں کے بیانات کو دہرانا، یہ سب محض اتفاق نہیں — یہ دوغلہ پن اور کھلی سازش کی نشانی ہے۔
اگر تاریخ کی گواہی لی جائے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ خون پشتونوں نے دیا ہے۔ یہ وہی بہادر قوم ہے جس کے بیٹے سوات، باجوڑ، وزیرستان اور خیبر میں امن کے قافلے کے سپاہی بنے۔ پاکستانی فوج کی صفوں میں ہزاروں پشتون شہید ہوئے، جنہوں نے اپنی مٹی اور اپنے ہم وطنوں کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کیں۔ مگر افسوس کہ آج انہی شہیدوں کی قربانیوں کو پی ٹی ایم کے جلسوں میں متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ وہی سپاہی تھے جو پشتون بھی تھے اور پاکستانی بھی ۔خون سے پشتون مگر دل سے وطن پرست۔ ان کی وفاداری کا ثبوت اُن کی قبروں کے سرخ پھول ہیں، نہ کہ کسی نعرے کی گونج ۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے دوہرے معیار کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ جب پاکستان نے فاٹا کے انضمام کے بعد ان علاقوں میں سڑکیں، سکول، ہسپتال اور ترقی کے منصوبے شروع کیے، تو شکریہ ادا کرنے کی بجائے انہی کوششوں کو ’’ریاستی مداخلت‘‘کہا گیا۔ ترقی کی بات زبان سے کرتے ہیں مگر نفرت کے بیج دل میں بوتے ہیں۔ یہی وہ منافقت ہے جو دشمن کو مسکرانے پر مجبور کرتی ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے رہنماؤں کا ہمیشہ سے المیہ رہا ہے کہ وہ ایک ایسے بیانیے کے اسیر ہیں جس کی جڑیں وطن میں نہیں، باہر کی سرزمینوں میں پیوست ہیں۔ وہ پشتونوں کی بات تو کرتے ہیں مگر ان دہشت گرد گروہوں پر خاموش رہتے ہیں جنہوں نے پشتونوں کے بازاروں، سکولوں اور مساجد کو خون میں نہلایا۔ وہ مظلوموں کے لیے روتے ہیں مگر محافظوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے آنسو سیاسی ہیں جبکہ خاموشی مجرمانہ، اور جب یہ خاموشی دشمن کے نعرے سے ہم آواز ہو جائے، تو یہ صرف غفلت نہیں رہتی بلکہ غداری بن جاتی ہے۔پاکستان ایک حقیقت ، ایک نظریے اور ایک قربانی کا نام ہے۔ اس کی سرزمین ان شہیدوں کے خون سے سرخ ہے جنہوں نے قوم کے لیے مسکرا کر موت کو گلے لگایا۔ یہ وہ لوگ تھے جو نہ لسانی تھے نہ نسلی، بلکہ خالصتاً پاکستانی تھے ۔ان کے لیے مٹی، زبان یا نسل سے زیادہ اہم پاکستان تھا۔ پی ٹی ایم کے چند رہنماؤں کو اگر اپنے ضمیر میں جھانکنے کی توفیق ہو تو وہ دیکھیں گے کہ جن فوجیوں پر وہ الزام لگاتے ہیں، وہ بھی انہی کے قبیلے کے بیٹے ہیں ۔ وہی پشتون جن کی شناخت پر یہ سیاست کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سپاہی اپنی وفاداری کو عمل سے ثابت کرتا ہے، اور پی ٹی ایم کے رہنما اپنی منافقت کو نعرے سے۔ریاست کا دفاع دہشت گردی کے خلاف ہے۔
افسوس کہ یہ وطن زخمی ضرور ہے مگر شکستہ نہیں۔ ہر جھوٹ کے مقابلے میں سچ کا ایک قافلہ موجود ہے۔ ہر فریب کے مقابلے میں شہیدوں کے خون کی خوشبو ہے۔ پاکستان نے اپنے دشمنوں کے بڑے بڑے طوفان جھیلے ہیں ۔ یہ چند نعرے، یہ چند جھوٹ، اس کے ایمان کو نہیں ہلا سکتے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس بیانیے کو پہچانیں جو ہمیں بانٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ دشمن کبھی براہِ راست حملہ نہیں کرتا، وہ ہمارے اندر شکوک پیدا کرتا ہے، ہمارے اعتماد کو مجروح کرتا ہے، اور ہمیں آپس میں لڑا دیتا ہے۔ پی ٹی ایم اسی سازش کی ایک شکل ہے — ایک اندرونی محاذ، جو دشمن کی گولی سے زیادہ خطرناک ہے۔لیکن تاریخ ہمیشہ گواہ رہے گی کہ پاکستان کی وفاداری کسی پروپیگنڈے سے کمزور نہیں ہو سکتی۔ اس ملک کے سپاہی، کسان، مزدور، طالب علم اور استاد، سب ایک ہی پرچم کے محافظ ہیں۔ یہ سبز ہلالی پرچم اُن کے ایمان کی علامت ہے، اور اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز انجامِ عبرت تک پہنچے گی۔پاکستان قائم تھا، قائم ہے، اور قائم رہے گا ۔کیونکہ یہ زمین اُن شہیدوں کے خون سے سینچی گئی ہے جن کی وفاداری کسی سازش، کسی بیانیے، کسی پروپیگنڈے سے بہت بڑی ہے۔

مزیدخبریں