بعض اوقات مجھے اپنے بچوں پر بڑا رشک آتا ہے، کسی پر یہ اللہ کا بڑا ہی خاص فضل کرم اور ترس ہوتا ہے اْس کی اولاد نیک نکل آئے اور اپنے بزرگوں کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پاسدار بھی ہو، مجھے یاد ہے اور میں یہ شاید پہلے بھی لکھ چکا ہوں ایک بار میں اپنے والد محترم کے پاس بیٹھا تھا اْنہوں نے مجھے کسی شخص کے بارے میں بتایا ’’وہ فراڈ کے ایک کیس میں گرفتار ہو گیا ہے‘‘، میں نے کہا ’’ابو جی اْس کا باپ بھی تو ساری عمر یہی کچھ کرتا رہا ہے‘‘، میری یہ بات ابو جی کو ناگوار گزری، وہ کہنے لگے’’بیٹا میں نے بڑے بڑے نیک لوگوں کی اولادوں کو بڑا بڑا بد اور بڑے بڑے بدوں کی اولادوں کو بڑا بڑا نیک دیکھا ہے، بس دعا کرنی چاہیے اللہ ہمیں اور ہماری اولادوں کو اْس رستے پر چلائے جو اللہ کا پسندیدہ راستہ ہو‘‘، مجھے اس بات پر بڑی عاجزی ہے میری اولاد دینی و اخلاقی اقدار کی پاسداری میں مجھ سے آگے ہے، سو میں نے جب اپنے بیٹے راحیل سے کہا ’’احمد جاوید تو اب واپس نہیں آ سکتا، ہمیں آپ کی بیٹی اور اپنی پوتی آرمینہ کی پہلی سالگرہ کی تقریب ملتوی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس مقصد کے لیے آپ کے ’’نانکے‘‘ کینیڈا سے بطور خاص پاکستان آئے ہوئے ہیں، علاوہ ازیں لالے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی، نصیبو لال، عارف لوہار اور عذرا جہاں نے بھی اندرون و بیرون مْلک اپنے پروگراموں کو اس تقریب کے لیے ری شیڈول کیا ہے‘‘، راحیل نے کہا’’ابو احمد جاوید ہمارے گھر کا فرد تھا، اْس کا قتل کوئی معمولی واقعہ نہیں، وہ میرا بہترین دوست بھی تھا، میرا جی نہیں چاہتا ہم ایسی بڑی تقریب کا اہتمام کریں جس میں ڈھول ڈھمکا بھی ہو‘‘، مجھے اْس کی بات سن کر بڑی خوشی ہوئی، میں نے سوچا جو بات ہم بزرگوں کے سوچنے کی تھی وہ ہمارے بچے نے سوچی، اخلاقی اقدار کی پاسداری کا یہ ماحول اب نہیں رہا، مادی سوچ نے پوری سوسائٹی کی گردن دپوچی ہوئی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کچھ انسانوں کا دین ایمان ہی اب پیسہ ہے، جو جانوروں کا نہیں ہے، اشفاق احمد نے فرمایا تھا’’اصل درد دوسروں کا ہوتا ہے، ورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی ہوتا ہے‘‘، ایک بار میں اْن کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ’’سر جانوروں کو دوسروں کا درد بھی ہوتا ہے‘‘، اْنہوں نے پوچھا وہ کیسے؟ میں نے اس ضمن میں اْنہیں ایک واقعہ اپنی والدہ کی وفات کا سنایا، وہ صبح اْٹھ کر روزانہ گھر کے لان میں بیٹھ کر پہلے قرآن پاک پڑھتیں پھر پرندوں کو دانہ ڈالتی تھیں، یہ کئی برس سے اْن کا معمول تھا، جس رات اچانک ہارٹ فیل سے اْن کا انتقال ہوا اْن کی میت ہمارے گھر کے لان میں پڑی تھی، صبح ہوئی میں نے اْسی طرح پرندوں کو دانہ ڈالا جس طرح میری ماں ڈالتی تھیں، یقین کریں کسی پرندے نے دانہ نہیں کھایا، گھر میں رکھے پالتو جانوروں کی بھی یہی حالت تھی کسی نے اْس روز دل سے کچھ نہیں کھایا، میں آج بھی بڑے پختہ یقین سے یہ کہنا چاہتا ہوں احساس کے معاملے میں کچھ جانور اور پرندے انسانوں سے بہتر ہوتے ہیں، ہمارے معاشرے سے دید لحاظ، شرم و حیا، محبت، مروت، احساس وغیرہ اب سب ماضی کے قصے ہو گئے ہیں، معمولی معمولی باتوں پر لوگ ایک دوسرے کی جان لے لیتے ہیں، گولی چلا دیتے ہیں، اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے لوگوں کو پتہ ہے پاکستان میں انصاف قانون سب برائے فروخت ہیں، اپنے جرموں کی سزا صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو انصاف اور قانون خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، یا جن کے پاس تگڑی سفارشیں نہیں ہوتیں، اس بات کا زیادہ شدت سے احساس ان دنوں مجھے اس لیے بھی ہو رہا ہے مقتول احمد جاوید کے والد میاں عادل رشید کو انصاف کے حصول میں سخت دشواریوں کا سامنا ہے، مگر وہ بڑے باہمت انسان ہیں، میں نے اپنی زندگی میں اتنا ہمت والا انسان نہیں دیکھا، نہ ایسا شْکر والا دیکھا ہے،’’صبر والا‘‘ میں نے اس لیے نہیں کہا اللہ کے کچھ خاص بندے صرف شْکر کے مقام پر ہی رہتے ہیں، صبر کا مقام بعد کا ہے جس پر وہ نہیں آتے، احمد جاوید کی موت ’’شْکر کا مقام‘‘ نہیں تھا، میاں عادل رشید نے اْسے شْکر کا مقام اللہ کی رضا کی خاطر بنا لیا ہے، بلڈ کینسر کے جان لیوا مرض کا دو بار جس ہمت اور شْکر سے اْنہوں نے سامنا کیا وہ بھی بے مثال ہے، اْن کا دل مشین سے دھڑکتا ہے، میں سوچ رہا تھا اکلوتے جواں سال بیٹے کی موت کے صدمے سے یہ مشین کہیں بند ہی نہ ہو جائے، یہ مشین اس لیے چلتی رہی اس سانحے کو اللہ کی رضا سمجھ کر اْنہوں نے صدق دل سے قبول فرما لیا تھا، ایسے شاکر لوگ اللہ کے بہت نزدیک ہوتے ہیں، وقت کے فرعون ہرگز یہ نہ سمجھیں وہ اپنی اندھا دْھند طاقت، ناجائز دولت یا سیاسی و اصلی حکمرانوں کی کاروباری قْربتوں سے ایک مظلوم باپ کو پچھاڑ لیں گے، عبرتناک انجام بالآخر ظالموں کا مقدر ہے، اس میں دیر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں، ایسے ہی عذاب یا انجام کا شکار اْن کے وہ ’’سہولت کار‘‘ بھی ہوں گے جنہیں اْنہوں نے اپنے قاتل بھتیجے کے خلاف آنے والی وڈیوز ڈیلیٹ کرانے کا آج کل ’’ٹھیکہ‘‘ عطا کر رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’روز قیامت آواز دی جائے گی کہاں ہیں ظالم لوگ اور اْن کے مددگار؟ یہاں تک کہ وہ لوگ جنہوں نے ظالموں کے قلم دوات کو درست کیا ان سب کو لوہے کے ایک تابوت میں جمع کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘، میں نے کسی جگہ پڑھا تھا حضرت اوس بن شرجیلیؓ سے روایت ہے ایک بار اْنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ’’جو شخص ظالم کے ساتھ چلتا ہے تاکہ وہ اْس کو تقویت پہنچائے حالانکہ وہ جانتا ہے وہ ظالم ہے تو ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے‘‘، کچھ لوگ اتنے لالچی، بے شرم، بے حس اور ڈھیٹ ہوتے ہیں ظالم کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی مسلمانیت کو بھی خاطر میں نہیں لاتے، ارشاد باری تعالیٰ ہے، ‘‘تم ہرگز یہ خیال نہ کرو اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں، وہ اْنہیں صرف اْس دن کی مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی‘‘۔
یہ سب باتیں، یہ ساری احادیث، یہ ساری آیات صرف اْن پر ہی اثر کر سکتی ہیں جن کے ضمیر تھوڑے بہت زندہ ہوں، جن کے ضمیر مکمل طور پر مردہ ہو چکے ہوں، جن کی سوچیں کسی اور کے پاس گروی رکھی ہوں، ان آیات یا احادیث کو خاطر میں لانا تو دْور کی بات ہے انہیں پڑھنا یا سننا بھی وہ پسند نہیں فرماتے، البتہ مقتول احمد جاوید کا باہمت باپ اس پختہ یقین میں مبتلا ہے اْس کے جواں سال بیٹے کے قاتل کسی جج کو خرید سکتے ہیں، کسی ’’کمینے پولیس افسر‘‘ کو خرید سکتے ہیں، نظام قدرت کو نہیں خرید سکتے، بالکل بھی نہیں خرید سکتے۔
لوگ بڑے ظالم ہیں
09:23 AM, 28 Oct, 2025