یہ منطقی امر ہے جس ملک میںمستقل سیاسی استحکام نہ ہووہاں سیاسی منظر نامہ میں غیرمتوقع اور تیزی سے تبدیلیاںباعث تعجب نہیں ہوتیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی جو آصف زرداری کے منہ بولے بیٹے ہونے کی شہرت رکھتے ہیں نے کراچی میں بلاول زرداری سے ملاقات کے بعد یہ بیان دیا ہے کہ ’’پیپلزپارٹی کے بغیر یہ نظام نہیں چل سکتا‘‘ وہ کوئی عام آدمی نہیں کہ وزیراعظم ہاؤس کے سامنے سے بھی نہ گزرسکے وہ جب جس لمحے چاہیں وزیراعظم سے ملاقات کرسکتے ہیں اس لئے یہ پیغام بالمشافہ ملاقات میں بھی دیا جاسکتا تھا میڈیا کے ذریعہ دینا کیوں ضروری سمجھا گیا بلاول سے ملاقات پیپلزپارٹی کی جانب سے (ن) لیگ حکومت کو اس دھمکی کے بعد ہوئی ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کے مطالبات نہ مانے گئے تو ایک ماہ بعد نہ صرف (ن) لیگ سے اتحاد ختم کردیاجائے گا بلکہ قومی اسمبلی کی نشستوں سے بھی استعفے دے دیئے جائیں گے پھر پیپلزپارٹی کے ہرچھوٹے بڑے کی جانب سے مسلسل اس تڑی کی تکرار شہباز شریف ہماری وجہ سے وزیراعظم ہیں (ن)لیگ کی حکومت پر دباؤ کی شدت میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی ہے بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق متذکرہ دھمکی کے بعد محسن نقوی وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام لے کر اور دھمکی کے بعدمحسن نقوی کا یہ بیان’’پیپلزپارٹی کے بغیر موجودہ نظام نہیں چل سکتا‘‘ان کی زبانی دراصل بلاول کا جواب ہے سکینہ سومرو نے سوال کیا انکل، یہ ایک ماہ کی مہلت حکومت سے اتحاد ختم کرنے کی دھمکیاں آخر بلاول چاہتا کیا ہے ؟ بیٹا بلاول اگلی مدت میں وزیراعظم بننا چاہتا ہے، انکل یہ تو کوئی جواب نہ ہوا کھل کر بتائیں۔ دیکھو یہ سیدھی سی بات ہے بلاول تب ہی وزیراعظم بن سکتا ہے جب قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کو اکثریت حاصل ہو جائے سندھ اوربلوچستان کے ووٹوں سے ممکن نہیں، خیبرپختونخواہ سے زیادہ نشستیں مل نہیں سکتیں اس لیے لے دیکر پنجاب ہی رہ گیا ہے جہاں سے اتنی نشستیں مل جائیں کہ سندھ بلوچستان اور کے پی کے سے کچھ یہ سب مل کر قومی اسمبلی کے ایوانوں میں اکثریت بن جائے تب ہی بلاول کا خواب اور آصف زرداری کی خواہش پوری ہوسکے گی۔ آصف زرداری نے وفاق میں دوسری مرتبہ بھی شہبازشریف کو وزیراعظم کی مسند پر بٹھا کر بڑی ہوشیاری سے ایسی پوزیشن حاصل کرلی ہے کہ شہباز شریف کو کئی معاملات قانون سازی بالخصوص آئینی ترمیم کے سلسلے میں پیپلزپارٹی پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ میرا خیال ہے یہاں تک بات سمجھ میں آگئی ہوگی اب آؤ پنجاب کی طرف، پنجاب خاص طورپر جنوبی پنجاب میں سیاسی جڑیں پیدا کرنے اور وہاں سے زیادہ سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے کیلئے شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی سوغات پیش کرتے وقت آٹھ نکاتی مطالبات کی فہرست بھی تھما دی گئی تھی جو تمام ترپنجاب کے حوالے سے ہے یہی وہ مطالبات ہیں جو بلاول اور پیپلزپارٹی کی جانب سے دھمکیوں کی بنیاد ہیں۔ ہوا یہ کہ مریم نواز نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کیلئے پنجاب میں جس زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا یہ جہاں عمومی طور پر غیر متوقع ہے وہاں پیپلزپارٹی کیلئے خطرہ کی گھنٹی ثابت ہوا کیونکہ اس کارکردگی کے بعد پیپلزپارٹی کا پنجاب میں پاؤں پھیلانے کا خواب بے تعبیر ہونا لازمی تھا چنانچہ (ن) لیگ سے اتحاد کے ذریعہ پنجاب میں جگہ حاصل کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی ساتھ ہی شہباز شریف سے یہ منوایا گیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کے گورنر اور سندھ وبلوچستان میں (ن) لیگ کے گورنر ہوں گے بڑی ہوشیاری سے پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں اپنے گورنر لگوائے مگر سندھ میں ایم کیوایم کو اکسا کر مصطفیٰ کمال کے ساتھی اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ (کم ازکم مشرف کے دورتک) اور بینظیر بھٹوسے ایسا قریبی تعلق کہ جنرل مشرف سے این آراو کروا کر پاکستان آنے کی راہ ہموار کی جناب کامران ٹیسوری کو سندھ کا گورنر بنوا کر سندھ میں (ن) لیگ کے گورنر کا راستہ ہمیشہ نہیں تو کافی مدت کیلئے روک دیا گیا۔ اس کے بعد پنجاب میں مریم نواز حکومت پر پہلا حملہ پیپلزپارٹی کے گورنر سلیم حیدر کے ذریعہ حکومتی امور میں رکاوٹیں ڈالنے کے عمل سے شروع کیا گیا وائس چانسلرز کی تقرریوں سمیت کئی معاملات اس کی مثال ہیں، ٹھیک ہے انکل بات سمجھ میں آگئی وہ آٹھ مطالبات کیا ہیں جن کے ذریعہ مریم نواز حکومت کو دباؤ میںلاکر پنجاب میں آپ کے بقول پاؤں پھیلانے ہیں، ہاں، بالکل ٹھیک ۔یہ آٹھ مطالبات یوں ہیں۔ پنجاب کے ترقیاتی فنڈز میں اس طرح حصہ دار بنایا جائے کہ پیپلزپارٹی کے وہ امیدوار جو گزشتہ انتخابات میں شکست کھا گئے تھے ان کو بھی منتخب ارکان کے مساوی فنڈز دیئے جائیں تاکہ وہ ان فنڈز سے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کروا کر آئندہ الیکشن میں اپنی کامیابی کو یقینی بناسکیں، پورے پنجاب میں عشروزکوٰۃ کمیٹیوں بشمول بیت المال میں پیپلزپارٹی کے وابستگان کو نمائندگی دی جائے۔ ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹیوں کی ازسرنو تشکیل کرکے پیپلزپارٹی کے لوگوں کو شامل کیا جائے۔ صوبے بھرمیں مختلف اتھارٹیز مثلاً لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی مختلف کمپنیوں اور بورڈز مثلاً پنجاب ایجوکیشن بورڈ،مارکیٹ کمیٹیوں کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز پیپلزپارٹی سے لیے جائیں، پنجاب بھر کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری کیلئے صلاح ومشورہ کی غرض سے پیپلزپارٹی کے نامزد ارکان کو شامل کرکے سرچ کمیٹیاں ازسرنو تشکیل دی جائیں، مختلف اضلاع میں لاء آفیسرز کی تقرریوں کے سلسلے میں پیپلزپارٹی کو حصہ دار بنایا جائے۔ اسی طرح ڈویلپمنٹ پروگرام کے فنڈز میں بالکل کٹوتی نہ کی جائے جس سے مریم نواز کے بجلی کے بلوں میں پنجاب کے عوام کو ریلیف دینا چاہتی تھیں اس دوران خفیہ ذرائع نے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا اور اس کے دباؤ پر اس فنڈز میں کٹوتی رک گئی۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے اس کی مخالفت کا ثبوت یہ ہے کہ بلاول نے وزیراعظم شہباز سے مل کر مطالبہ کیا کہ مریم نواز نے پنجاب کے عوام کو پانچ سو یونٹس تک چودہ روپے فی یونٹ ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ دیگر صوبوں کو بھی دیا جائے نہ جانے وزیراعظم نے بلاول سے یہ کیوں نہ کہا کہ مریم یہ ریلیف وفاقی حکومت کے فنڈز سے نہیں بلکہ پنجاب کے اپنے فنڈ سے دے رہی ہے سندھ بھی اپنے فنڈسے جس مد میں چاہئے ریلیف دینے میں آزاد ہے بلکہ مریم کا یہ پروگرام ہی سبوتازہوگیا البتہ مریم نواز کو عوام کی حمایت میں جو مزید اضافہ ہوسکتا تھا وہ نہیں ہوسکا دوسرے سندھ کے عوام کو باور کرادیا گیا کہ وفاقی حکومت پنجاب کیلئے غلط سلوک کا مظاہرہ کررہی ہے غور کیا جائے یہ مطالبات مان لئے جائیں تو کیا پیپلزپارٹی پنجاب میں مریم کو ایک قدم چلنے دے گی کیونکہ اس کے ارکان کے پاس مداخلت کا کھلا میدان ہوگا ۔ وہ بھی ہرمعاملے میں۔
ایک ماہ کی مہلت، ماجرہ کیاہے؟
09:22 AM, 28 Oct, 2025