دنیا کی سیاسی تاریخ میں بہت کم ایسے تعلقات ملتے ہیں جن میں اعتماد، امید اور مفاد ایک ساتھ پروان چڑھیں اور پھر اچانک بداعتمادی، بے ثباتی اور دھوکے میں بدل جائیں۔ امریکہ اور افغانستان کا تعلق انہی تلخ مثالوں میں سے ایک ہے۔ بظاہر یہ دو قومیں اپنی تاریخ، تہذیب اور طرزِ زندگی میں مختلف ہیں، مگر گہرائی میں دیکھا جائے تو ان کی فطرت میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں خودپسند، ضدی، طاقت کے دلدادہ اور وقتی مفاد پرست ہیں۔ یہی مشترکہ خصلتیں ان کے رشتے کی بنیاد بھی بنیں اور انہی خصوصیات نے اسے تباہ بھی کر دیا۔ نتیجتاً یہ تعلق ایک ایسی دوستی ثابت ہوا جو آغاز میں امید کی علامت تھی مگر انجام پر دھوکے میں بدل گئی۔
1979 میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا تو امریکہ نے اسے اپنے عالمی مفادات کے لیے ایک سنہری موقع سمجھا۔ سرد جنگ کے تناظر میں افغانستان امریکہ کے لیے روس کے خلاف ایک مورچہ بن گیا۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے افغان مجاہدین کو مالی، عسکری اور نظریاتی امداد فراہم کی۔ مذہب، جہاد اور آزادی کے نعروں کے ذریعے افغان عوام کو روس کے خلاف ابھارا گیا۔ اس وقت امریکہ کے نزدیک افغان ہیرو تھے کیونکہ وہ روس کے خلاف اس کی جنگ لڑ رہے تھے۔ مگر جیسے ہی سوویت یونین شکست کھا گیا اور امریکہ کا مقصد پورا ہوا، اس نے افغانستان کو یکسر فراموش کر دیا۔ وہی مجاہدین جو کل تک آزادی کے سپاہی تھے، آج دہشت گرد کہلانے لگے۔ یہ دوستی کے لبادے میں پہلا دھوکہ تھا۔ امریکہ نے جنگ کے بعد تباہ حال افغانستان کی تعمیر نو میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، نتیجتاً ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا اور طالبان کا ظہور ہوا۔
2001 میں نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ دوبارہ افغانستان لوٹا، مگر اس بار ایک نئے نعرے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ۔ طالبان حکومت کا خاتمہ کر کے وہاں جمہوریت، انسانی حقوق اور ترقی کے خواب دکھائے گئے۔ مگر حقیقت میں یہ خواب صرف ایک فریب ثابت ہوئے۔ امریکہ کی موجودگی نے افغانستان کو استحکام دینے کے بجائے مزید انحصار، انتشار اور غلامی کی طرف دھکیل دیا۔ اربوں ڈالر کی امداد چند
سیاستدانوں کی جیبوں میں گئی، جبکہ عوام غربت، بے روزگاری اور خوف میں مبتلا رہے۔ امریکی فوجی طاقت پر انحصار نے افغان حکومت کو کمزور کر دیا۔ یوں دوستی ایک بار پھر مفاد کی بنیاد پر چلتی رہی۔
امریکہ کی فطرت ہمیشہ سے مفاد پر مبنی رہی ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی اخلاقی اصولوں کے بجائے وقتی ضرورتوں پر استوار ہے۔ جب تک افغانستان اس کے لیے روس، چین یا ایران کے خلاف دبا کا ذریعہ تھا، وہ وہاں موجود رہا۔ مگر جیسے ہی اس کی ضرورت ختم ہوئی، 2021 میں اچانک انخلا کر کے اپنے اتحادیوں کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ یہ انخلا امریکی تاریخ کی سب سے بڑی اخلاقی شکست کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ بیس سال تک جمہوریت، خواتین کے حقوق اور امن کے نام پر وعدے کرنے والا امریکہ ایک رات میں ان سب خوابوں کو روند کر رخصت ہو گیا۔
تاہم افغان قوم بھی اس انجام میں برابر کی شریک ہے۔ افغان اپنی غیرت، بہادری اور خودداری پر فخر کرتے ہیں، مگر یہی خصوصیات جب ضد، انتقام اور عدم برداشت میں بدل جائیں تو تباہی مقدر بن جاتی ہے۔ صدیوں سے افغان معاشرہ قبائلی تقسیم کا شکار ہے، جہاں ہر گروہ اپنی بالادستی چاہتا ہے۔ احمد شاہ ابدالی کے بعد سے یہ تقسیم کبھی ختم نہ ہو سکی۔ افغان قیادت نے ہمیشہ جذباتی فیصلے کیے، کبھی بیرونی طاقتوں پر اندھا اعتماد کیا، کبھی مکمل بغاوت اختیار کی۔ ان کے اسی غیر مستقل رویے نے امریکہ جیسے ممالک کو اپنے مفاد کے لیے کھیل کھیلنے کا موقع دیا۔
اس سارے پس منظر میں بھارت کا کردار بھی انتہائی منافقانہ اور موقع پرستانہ رہا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ افغانستان میں اپنے مفاد کے مطابق پالیسی اپنائی۔ بظاہر وہ افغان عوام کی ترقی اور امن کا حامی دکھائی دیا، مگر درحقیقت اس کا مقصد صرف خطے میں پاکستان کو کمزور کرنا اور امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ بھارت نے امریکی موجودگی کے دوران افغانستان میں سرمایہ کاری، تعلیمی منصوبے اور سفارتی تعلقات قائم کر کے ایک نرم طاقت کی تصویر پیش کی، مگر پسِ پردہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف سازشوں کے اڈے کے طور پر استعمال کرتا رہا۔ جیسے ہی امریکہ نے انخلا کیا، بھارت کی تمام سرمایہ کاری اور سفارتی پالیسی زمین بوس ہو گئی۔ یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی افغان دوستی بھی دراصل مفاد پر مبنی ایک دوغلا کھیل تھی۔ بھارت نے کبھی افغان عوام کے دکھ کو حقیقی معنوں میں محسوس نہیں کیا بلکہ اسے اپنے جیو پولیٹیکل مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اسی منافقانہ فطرت نے نہ صرف افغانستان کو مزید غیر مستحکم کیا بلکہ خطے میں عدم اعتماد کو بھی جنم دیا۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو امریکہ، افغانستان اور بھارت تینوں کی فطرت میں ایک مشترک کمزوری پائی جاتی ہے: طاقت کا زعم، موقع پرستی اور حقیقت سے انکار۔ تینوں نے اپنے مفادات کو اصولوں پر فوقیت دی، اور تینوں نے آخرکار نقصان اٹھایا۔ امریکہ نے اپنی اخلاقی ساکھ کھوئی، افغانستان نے اپنی خودمختاری اور بھارت نے اپنی ساکھ گنوا دی۔امریکہ اور افغانستان کی یہ کہانی دراصل انسان کی فطری کمزوریوں کی کہانی ہے۔ جب طاقت، انا اور مفاد عقل پر غالب آ جائیں تو دوستی بھی دھوکے میں بدل جاتی ہے۔ امریکہ نے اپنے مفاد کے لیے افغانوں کو استعمال کیا، بھارت نے اپنے فائدے کے لیے افغان سرزمین کو ہتھیار بنایا، اور افغانوں نے اپنی ضد اور انتقامی مزاج کے باعث خود کو تباہ کیا۔ تینوں نے سمجھوتے کی راہ اختیار نہ کی، اور تینوں نے نقصان اٹھایا۔آج اگر دنیا کو اس تلخ تجربے سے کچھ سیکھنا ہے تو اسے یہ ماننا ہوگا کہ دوستی مفاد سے نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور مساوات سے قائم ہوتی ہے۔ امریکہ کو اپنی دوغلی پالیسیوں سے باز آنا ہوگا، بھارت کو اپنے منافقانہ کردار سے توبہ کرنا ہوگی، اور افغانوں کو اپنی ضد اور قبائلی تقسیم سے اوپر اٹھ کر قومی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ تاریخ خود کو دوبارہ دہراتی رہے گی ایک نئی دوستی، ایک نیا دھوکہ، اور ایک نیا زوال۔
بالآخر یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ، افغانستان اور بھارت کا رشتہ ایک آئینہ ہے جس میں دنیا دیکھ سکتی ہے کہ جب طاقت، مفاد اور منافقت عقل و انصاف پر غالب آ جائیں تو دوستی زہر بن جاتی ہے۔ اگر انسانیت کو ترقی اور امن کی راہ پر آگے بڑھنا ہے تو اسے ان غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ قومیں تبھی کامیاب ہوتی ہیں جب وہ اپنی فطرت کو عقل، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور کے تابع کر لیں۔ بصورتِ دیگر، سب سے بڑی طاقت بھی، سب سے بہادر قوم بھی اور سب سے پرانی تہذیب بھی آخرکار اپنے ہی دھوکے کا شکار ہو جاتی ہے۔
امریکہ اور افغان: مشترکہ فطرت!
09:21 AM, 28 Oct, 2025