اس وقت جبکہ ازلی دشمن آپریشن سندور کی شرمناک و عبرتناک شکست کا داغ دھونے کے لیے پاکستان کے خلاف فوج کشی کرنے پر تلا بیٹھا ہے ۔ جس میں اس کو پس پردہ اپنے آقائوں کی مکمل آشیر باد بھی حاصل ہے۔ ان نازک ترین حالات میں قوم کو ایک بیانیہ دینا قومی و ملی فریضہ سمجھتا ہوں ۔ تاریخ انسانی میں کوئی بھی قوم اپنی بقا کی جنگ اس وقت تک نہیں لڑ سکتی ۔ جب تک اس کے پاس کوئی مثبت بیانیہ نہ ہو۔ بہ حیثیت مسلمان یہ فریضہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے تاکہ ہم اپنے بچوںاور نظریات کو دشمنوں کی ہاتھوں استعمال ہونے سے بچا سکیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان خطے کے مسلمانوں کی امیدوں کی آخری کرن ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اچھی ادراک کرنا ہو گا، کہ ریاست کیا ہے ؟ ۔ ’’ ریاست درحقیقت وطن عزیز اور اس میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی سلامتی کا بیانیہ ہے‘‘ ۔اسی بیانیے کے تناظر میں دیکھنا پڑے گا کہ پاک فوج کیا ہے؟ ۔’’ کسی بھی بیرونی ننگی جارحیت کی صورت میں یا پھر اندرون ملک دہشت گردیوں ، تحریب کاریوں، شورشوںکی شکل میں 24 کروڑ عوام کی سلامتی کے بیانیے کا نام پاک فوج ہے ‘‘۔ آج جو افغان آزادی کا سانس لے رہے ہیں یہ اسی بیانیے کی مرہون منت ہے ۔تمام تر اختلافات کے باوجود افغان طالبان لیڈرشپ کو اس زمینی حقیقت کا ادراک اچھی طرح ہے، اگر وہ نہیں مانتے تو یہ الگ بات ہے ۔ورنہ ساری دنیا اس کھلی حقیقت کو تسلیم کرتی ہے‘‘۔
یہی وہ واحد مسلم عسکری بیانیہ( پاک فوج ) ہے جو گذشتہ 46سال سے مختلف نوعیت کی دہشت گردیوں و ننگی جارحیت کے خلاف برسرپیکار ہے ۔ اس دوران پاک مائوں کے ہزاروں بیٹے ، سہاگنوں کے سہاگ اور بہنوں کے دلارے بھائی اپنے بچوں کو یتیم کرتے ہوئے فقط اس جذباتی و ناسمجھ قوم اور ملک خداداد کی خاطر جان آفریں کے سپرد کر گئے ہیں
۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہاہے کہ اس کے باوجود بعض عاقبت نااندیشوں کی جانب سے ا س بیانیے کو ہدف تنقید بنانا لسانی وسیاسی خدمت سمجھا جا رہا ہے ۔ وائے اے قوم پاکستان تو کب سدھرے گی ، کب راہ راست پر آئے گی ؟ ۔ ’’ میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح ‘‘۔ کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ خامیاں ہیں۔ لیکن کیا دنیا میں کوئی ایک ایسا انسان بھی ہے جو خامیوں سے مبرا ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خامیوں کو بنیاد بنا کر دشمنوں کا آلہ کاربن کر اپنے ہی کلمہ گو مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا جائے۔
اے میری سادہ لوح و جذباتی قوم اس بیانیہ کو ہر لمحہ سینے سے لگا کر رکھنا ۔ کہیں دشمنوں کی عیاریوں ، مکاریوں ، میڈیائی وار، ہائبرڈوار اور AI کا شکار ہو کر شعوری یا پھر لاشعوری پر اپنے ہاتھوں اور زبان سے کہیں ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچا بیٹھنا ۔دشمن اور اس کے حواری پاکستان کو سوڈان ، لیبیا، شام ، عراق اوریمن بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑرہے بسا اوقات معمولی سی لغزش کا بھی صدیوں تک خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ اس بیانیے کے خلاف جب دشمن کا بس نہیں چلتا ، وہ لاچار ہو جاتا ہے ۔ تب وہ مذہبی و مسلکی جذبات کا استحصال کرتے ہوئے سوچ، فکرو نظریات کو منتشر کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ شدید نفرتوں کی بنیاد پر اذہان پر قابض ہو جاتا ہے ۔ پھر اسی فکری ومنتشر شدت پسندی کو اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ تب مسلمان ، مسلمان کو قتل کرنا ، اس کا مثلہ کرنا ہی شرعی فریضہ سمجھتا ہے ، نعوذ باللہ جہاد سمجھتا ہے ۔ پوری ذمہ داری سے برملا کہتا ہوں کہ یہی فساد فی الارض ہے ، فتنہ ہے، جہنم میں لے جانے والا راستہ ہے ۔ جو سراسر قرآن کی ا س آیت سے متصاد م ہے ، ترجمہ (اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ ڈالو)۔ اللہ واضح انتباہ کر رہا ہے کہ خبردار، دشمنوں و منافقین کے بہکاوے میں آکر کہیں اپنی سوچوں و فکروں کو دشمنوں کے قبضے میں نہ دے دینا ۔ وہ تمہیں ایک دوسرے کے ذریعے چیر پھاڑ کر رکھ دینا چاہتے ہیں ۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کے دوران جب بھی مسلمان اس آیت کریمہ میں دیئے گئے واضح پیغام سے غافل ہوئے تب تب ان کی ہوا اکھڑی اور دشمن غالب آیا ۔
پاک فوج کیا ہے ؟ ۔ دراصل یہی وہ بیانیہ ہے، جو کائنات میں مسلمانوں کے دو مقدس ترین مقامات ( الحرمین الشریفین ) کی سلامتی کا ضامن ہے ۔ اللہ نہ کرے اگر کعبۃ اللہ و حجرہ نبویؐ کو کچھ ہو گیا یقین کریں رہی سہی بچی کھچی امت مسلمہ کو تباہ و برباد ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکے گی ۔ اسی لیے جب آپریشن طوفان الاقصیٰ لانچ کیا گیا ۔ تو راقم نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ ’’ آپریشن طوفان الاقصیٰ تو ایک بہانہ ہے ، شام ٹھکانہ اور الحرمین الشریفین و پاکستان نشانہ ہے ‘‘۔
ساڑھے چودہ صدیاں قبل جب دشمنوںو منافقین نے اپنے شیطانی منصوبوں کی آبیاری کے لیے ضرار مسجد تک بنا لی تھی۔ جسے سپہ سالار اعظم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جلانے کا حکم صادر فرمایا تھا۔لامحالہ آج انہی خطوط پر کلمہ توحید کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی مملکت اسلامیہ پاکستان کے خلاف ایک جانب مشرک ہندئووں نے تو دوسری جانب پس پردہ گریٹر اسرائیل کے سرغنوں نے تمام وسائل جھونک دیئے ہیں ۔ دوست نما بعض دشمن ممالک کی جانب سے خوارج ، تکفیری و علیحدگی پسندکے ٹولز کااستعمال اپنی آخری حدوں کو چھونے لگا ہے ۔ بہ حیثیت قوم کے ہم پر قومی و ملی فرض ہے کہ تمام تر اختلافات و مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اندرون وبیرون ملک ہر سطح پر دشمنوں اوران کے حواریوں کی دہشت گردیوں ، تحریب کاریوں اور شورش کو بے نقاب کرتے رہیں ۔ قرآن وسنت کی ہدایت کی روشنی میں قوم کو شعور دیناہی درحقیقت نظریہ پاکستان ہے ۔اور نظریہ پاکستان کا محافظ یہی بیانیہ( پاک فوج ) ہے ۔ ہمیں ہمہ وقت یہ زمینی حقیقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ پاکستان کا قیام قدرت الٰہی کی جانب سے ایک عالمی ایجنڈہ ( محمدی ڈاکٹرائن ) ہے۔ جس کی حفاظت کرنا ہم سب کا قومی و ملی فرض ہے ۔
آخر پاکستان و پاک فوج ہی نشانہ کیوں؟
09:21 AM, 28 Oct, 2025