پی ٹی آئی بیانیوں کی اموات

09:20 AM, 28 Oct, 2025

عمران نیاز ی کی دوستی کوئلے کی مانند ہے گرم ہو تو ہاتھ جلا دیتی ہے اور سرد ہو تو ہاتھ گندے کردیتی ہے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو گزشتہ تقریبا تیس سال سے میں نے دیانتداری سے دیکھی ٗ سنی اور محسوس کی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا گلہ یہ ہے کہ ایک اسٹیبلشمنٹ نے (موجود ہ نہیں)عمران نیازی کے اقتدار کا راستہ ہموار کرنے کیلئے ان کے مینڈیٹ کوناصرف شدید نقصان پہنچایا بلکہ ایک آئی ایس آئی چیف مسٹر فیض حمید کے ذریعے عمران مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ہر طرح کے انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے قید و بند ٗ مقدمات ٗ میڈیا پر پابندیاں ٗ عمران نیازی کی جھوٹی ہیرو شپ بنانے کیلئے ہرمنفی پروپیگنڈا اور پارلیمان کو بے توقیر کرنے تک ہر کام کیا ۔ لیکن اس سارے کھیل میں ’’ اصول پسند عمران نیازی ‘‘ تمام غیر آئینی اقدمات ٗ غیر جمہوری اعمال ٗ عدلیہ کا استعمال ٗ سول انتظامیہ کو دھمکیوں کے ہر عمل کا حصہ رہا ۔ شاید یہی وہ مغرب کی جعلی سیاست تھی جو عمران نیازی وہاں سے سیکھ کر آیا جبکہ یہ ہماری مروجہ سیاست میں بھی قابل ِ مذمت افعال تھے ۔ مگر اُس وقت عمران نیازی جنگل کا بادشاہ بنا تھا سو انڈہ دیتا یا بچہ اُسے کون پوچھنے والا تھا ۔پھر ایک کامیاب سازش کے ذریعے اُسے وزیر اعظم بنایا گیا تو دنیا بھر کے لطیفے پاکستان میں سننے کو ملنے لگے ۔ جاپان اور جرمنی کی سرحدیں راتوں رات مل گئیں ۔ پاکستان میں یکلخت بارہ موسموں کا سال ہو گیا لیکن اُن موسموں کے نام کسی کو معلوم نہیں تھے ۔ مرغیوں ٗ کٹوں اور انڈوں کی افادیت پر وزیر اعظم کے لیکچر سنائی دینے لگے ۔ قوم کیلئے لنگر خانے کھول دیئے گئے تاکہ سفید پوش بھکاریوں کو مزید غربت کے نتیجہ میں روٹی دستیاب کی جاسکے ۔ آئی ایم ایف کے مذاکرات میں تاخیر ہوئی تو ملک میں مہنگائی کاسیلاب امڈآیا اور جب مذاکرات ہوئے تو آئی ایم ایف سے طے شدہ شرائط کے بجائے بجلی پر بڑا ریلیف دے کر پاکستان کو دیوالیہ کرنے کی ابتدائی سازش کی گئی۔ جو شخص کہا کرتا تھا کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کروں گا وہ اُسے تاحیات آرمی چیف بنانے پر رضا مند ہو گیا لیکن و ہ تو آرمی چیف نہیں مانا ۔اقتدار کے دنوں میں نیازی نے اپنے مخالفین کو انسان ہی نہیں سمجھا اوراُن کے ساتھ وہ سلوک روا رکھے جو کسی جمہوری سوچ رکھنے والوں کو زیب نہیں دیتے ۔اُس نے عدلیہ ٗ انتظامیہ اورمقننہ کو شوکت خانم کے اداروں سے بھی زیادہ کمتر درجہ دیا ۔ میڈیا پر بد ترین پابندیاں یورپ پلٹ نیازی کا ایک اور بڑا کارنامہ تھا ۔پارلیمان کو بے آبرو کرنااُس کے طرز ِ حکمرانی کی حقیقی شکل تھی ۔نیازی کے دور کی عدلیہ کو یاد کریں تو معلوم پڑتا ہے کہ جیسے وہ ہٹلر کی عدلیہ تھی اور سیاسی مخالفین کا ’’ ہولوکاسٹ ‘‘ کیا جا رہا تھا ۔ ایک چیف جسٹس ڈیم کے پیسے اکھٹے کررہا تھا اور دوسرا اُسے بطور ملزم عدالت میں دیکھ کر ’’ گڈ ٹو سی یو‘‘ کہا کرتا تھا ۔ نیازی کیلئے اُن مقدمات میں بھی ضمانتیں منظور ہوتی رہیں جو جرم ابھی اُس نے کرنا تھے۔ نیازی کے مخالفین کیلئے کسی جج کے دل میں کوئی رحم اور انصاف نامی شے نہیں تھی ۔ اُس عہد کے ججز جانتے تھے کہ کس کو کس جرم میں بے گناہ بند کررکھا ہے اور جیل میں کس کو کیا سہولتیں دی جا رہی ہے لیکن ’’ قید عدلیہ‘‘ اُس وقت نیازی مخالفین کیلئے کچھ بھی کرنے کیلئے تیار نہ تھی ۔جن جمہوری آزادیوں کی باتیں نیازی آج کل کر رہا ہے یہ اُس وقت کہاںتھیں جب نیازی نے قومی اسمبلی خود توڑی ٗ آئین شکنی کا مرتکب ہوا اور اپنے ڈنٹیسٹ صدر سے اسمبلی تحلیل کرنے کا غیر آئینی فیصلہ بزور ِحکم کرایا۔ یہ کہنا کہ نیازی ’’ سینہ تان کر کھڑا ہے ‘‘ میرے نزدیک بدترین فراڈ اور غلط بیانی ہے اصل میں اُس کے آقائوں کا ابھی فرمان ہی جاری نہیں ہوا کہ وہ اپنی رہائی کا معافی نامہ پیش کرسکے ۔ ورنہ عمران نیازی نہ تو ضدی ہے اور نہ ہی اتنا انا پرست کے وہ اتنی دیر تک جیل میں رہ سکے کیونکہ میں نے اُسے دو بار زندگی میں ایسی جگہوں سے دوڑ لگاتے دیکھا ہے جہاں معمولی دل گردے کا سیاسی ورکر بھی کھڑا ہوسکتا تھا جیسے کہ اُس کے ساتھی وہیں کھڑے رہے ۔ نہ تو ابھی عمران نیازی کو اجازت ہے کہ وہ کوئی معافی نامہ پیش کرے اور نہ ہی موجودہ ریاستی اور سیاسی قیادتیں اس موڈ میں ہیں کہ کوئی اشٹام پیپر لے کر اُسے رہا کردیا جائے ۔ اُسے پاکستان کی جیلوں میں بند دوسرے شہریوں کی طرح اپنی جرائم کی قانونی جنگ لڑنا ہو گی جس کیلئے سب سے پہلے اُسے اپنا رویہ قانونی کرنے کے ساتھ ساتھ آئینی ڈھانچے کا غیر مشروط احترام کرنا ہو گا جیسے دوسرے پاکستانی شہری کرتے ہیں ۔ نیازی کا اسمبلی سے نکل کر ایک ناکام تحریک چلانے کا تجربہ اُس کے بہادر نہیں بیوقوف ہونے کی نشاندہی کر رہا ہے ۔پارلیمان ہی اُس کا بہترین فورم تھا جہاں اُس کی بات ساری دنیا میں سنی جا سکتی تھی لیکن دنیا کو بتانے کیلئے اُس کے پاس چند اپنی ہی سازشوں کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔پھر اقتدارکے دنوں میں جو کچھ اُس نے اپنے سیاسی ساتھیوں کے ساتھ کیا اُس سے تحریک انصاف کی تنظیم تو برباد ہو ہی چکی تھی ٗ نئے موقع پرست بھی اپنے اپنے گھونسلوں میں جا چکے تھے ۔ سو اِن حالات میں تشدد ٗ سائفر ٗ ریاست مدینہ ٗ ابسیلیوٹلی ناٹ ٗاینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے بناکر ریاستی اداروں پر حملہ کرنا سوائے اپنی سیاست چمکانے کا چانس لینا ٗاپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے اور لوگوں کے بچوں کا مستقبل برباد کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ آپ مکہ اور مدینہ سے جج بلا لیں لیکن عمران نیازی کو صرف وہی عدلیہ قابل ِ قبول ہو گی جو اُس کی سوچ میں لکھے فیصلے سنائے ۔کیونکہ اُس کے نزدیک آزاد عدلیہ صرف وہ ہے جو عمران نیازی کے کہے کو سچ مانے ورنہ عدلیہ بوگس ہے، کینگرو کورٹس ہے اور ریاست بنانا ریپبلک قرار دی جاتی رہے گی ۔ آج قوم ان ججوں کو بھی تلاش کر رہی ہے جنہوں نے نیازی کو صادق اورامین کی کلغی لگا کر میدانِ سیاست میں چھوڑ تھا لیکن یہاں جو طاقت سے باہر ہوتا ہے وہ خبر سے بھی باہر ہو جاتا ہے ۔ہر پاکستانی جانتا ہے کہ آج عمران نیازی صرف اور صرف اپنے قانونی مقدمات سے نجات چاہتا ہے اور اِس کیلئے اُسے شیخ مجیب بننا پڑے ٗ نریندر مودی یا پھر طالبان وہ کسی بھی شے سے دریغ نہیں کرئے گا ۔جھوٹا بیانیہ تھوڑی دیر کیلئے لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے لیکن ایسا ہمیشہ کیلئے نہیں ہوتا ۔ حالات آپ کے سامنے ہیں ۔اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اُسی دن مر گیا جس دن نیازی نے اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ انٹی امریکہ بیانیہ ٹرمپ سے مدد کی آس نے نگل لیا ۔ ریاست ِ مدینہ کا بیانیہ چوری چکاری کے کیسوں ٗاسرائیل اوربھارت کی دوستی میں کہیں گم ہو چکا ہے ۔اب جس عدلیہ کی عمران نیازی کو تلاش ہے وہ تاحال دستیاب نہیں سو ابھی نیازی کے مذاکرات یا رہائی کی ہر خبر سوائے پاکستانی عوام کوورغلانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ 

مزیدخبریں