افغان پاوندوں سے افغان طالبان تک …!

09:20 AM, 28 Oct, 2025

یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو پاکستان اور افغانستان کی طالبان رجیم کے نمائندوں کے درمیان ترکی کے شہر استنبول میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کے فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں واضح مئوقف اختیار کر رکھا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم ان کی سہولت کاری اور معاونت کاری ختم کر کے انہیں پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال کرنے سے روکے ورنہ پاکستان اپنے دفاع میں افغانستان کے اندر دہشت گردی کے مراکز کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان مذاکرات کا جو بھی نتیجہ سامنے آتا ہے فی الحال یہ مذاکرات کسی حد تک تعطل کا شکار ہیں ۔ بتایا جا رہا ہے کہ استنبول میں 30 گھنٹے کی دو نشستوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پاکستان نے فتنہ الخوارج کے خلاف کوئی لچک نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح لفظوں میں کہہ رکھا ہے کہ افغانستان سے معاملات طے نہ پائے تو کھلی جنگ ہو گی۔ دریں اثنا استنبول میں پاکستان نے افغان رجیم کے نمائندوں اور ثالث کا کردار ادا کرنے والے ترکی اور قطر کے نمائندوں کے سامنے تحریکِ طالبان پاکستان کے فتنہ الخوارج کی طرف سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے افغان سرزمین استعمال کرنے کے دستاویزی ثبوت سامنے رکھ دئیے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی ہٹ دھرمی اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں عدمِ تعاون دیگر فریقین پر واضح ہو گیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوحا میں پاکستان افغان طالبان رجیم کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے دوران پاکستان کے پیش کردہ مطالبات واضح طور پر شواہد پر مبنی اور مسئلے کا حقیقی حل ہیں لہٰذا افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ ان مطالبات کو سنجیدگی کے ساتھ لے۔ ترکیہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ طالبان وفدزمینی حقائق اور شواہد کو سمجھنے کی کوشش کرے تاکہ مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکیں۔پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کیا صورت اختیار کرتے ہیں جلد ہی اس بارے میں حقائق سامنے آ جائیں گے تاہم میرے ذہن میں ماضی کے کچھ حالات و واقعات تازہ ہو رہے ہیں کہ ہم افغانوں کے ساتھ ہر سطح پر کتنی محبت، مہربانی ، مروت اور لگائو کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اور وہ آگے سے ہمیشہ ہی ہمارے ساتھ غیروں کا اور دُشمنوں جیسا سلوک کرتے رہے ہیں۔
 یہ تقریباً کوئی سات عشرے قبل کی بات ہو گی ۔ میں پانچویں ، چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا تو سکول میں معاشرتی علوم کے مضمون میں اسلامی تاریخی کہانیوں کی کتاب پڑھنے کو ملی ۔ اس میں مشہور مسلمان فاتح اور حکمران سلطان محمود غزنوی کے بارے میں مضمون بھی تھا جس میں سلطان محمود غزنوی کے ہندوستان پر 17 حملوں اور گجرات کاٹھیا واڑ کے ساحل پر سومنات کے مندر پر اُس کے آخری حملے کا ذکر بھی موجود تھا۔ اس طرح سلطان محمود غزنوی کا ایک مسلمان جرنیل اور فاتح کے طور پر نقش جو ایک نو عمر لڑکے کے ذہن میں سما سکتا تھا وہ بھر پور طور پر میرے ذہن میں سما ہی نہ گیا بلکہ اُس کے ساتھ سلطان محمود غزنوی کے دارالحکومت غزنی سمیت پشاور، لاہور، ملتان، بٹھنڈہ اور سومنات جیسے مقامات اور شہروں کا جہاں سلطان محمود غزنوی حملہ آور ہو کر فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتا رہا کا تذکرہ بھی کچھ کچھ ذہن میں سما گیا۔ اُسی دور کی بات ہے کہ سردیوں کے موسم میں ہمارے دیہات کی مساجد میں گاہے گاہے کچھ مخصوص قسم کے مسافر راتیں گزارنے کے لئے قیام کیا کرتے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے گائوں میں اپنے محلے کی مسجد میں اس طرح کے کئی اِکا دُکا مسافروں کو مختلف اوقات میں راتیں گزارتے دیکھا ہو گا۔ یہ مسافر کون تھے اور انہیں کس نام سے پکارا جاتا تھا ؟ یہ افغانستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے پٹھان ہوا کرتے تھے جو پشتو بولتے تھے اور اُردو بھی تھوڑی بہت سمجھ لیتے تھے۔ یہ سردیوں کے موسم میں افغانستان کے انتہائی سرد علاقوں سے نکل کر پاکستان کے نسبتاً کم ٹھنڈے علاقوں میں دو چار ماہ کے لئے آ جاتے تھے۔ انہیں ’’افغان پاوندے ‘‘ کہا جاتا تھا اور شاید انہیں پاکستان میں داخلے اور یہاں کچھ عرصہ قیام کے لئے عارضی اجازت نامے یا پرمٹ بھی جاری ہوا کرتے تھے۔ 
سُرخ و سفید رنگت ، لمبے سیاہ بالوں اور بھاری جسم اور قد و قامت کے مالک یہ افغان پاوندے دن بھر اپنے سامان کے گٹھڑ میں سے جو انہوں نے چادر میں بندھے ایک بڑے گٹھڑ کی صورت میں اپنے بازوئوں اور کمر کے ساتھ لٹکا رکھا ہوتا تھا، میں سے چھوٹی موٹی چیزیں بیچا کرتے تھے ۔ رات کو قیام کرنے کے لئے کسی مسجد میں آ کر بسیرا کر لیا کرتے تھے۔ ان کے سامان میں چھوٹے چھوٹے گول آئینے ،کنگھے ، کنگھیاں، سرمہ دانیاں، صابن کی ٹکیاں، سستی خوشبو کی شیشیاں ، مہندی اور بناوٹ اور سجاوٹ کی اسی طرح کی کچھ اور چیزیں شامل ہوتی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے سامان میں ایک خاص چیز بھی ہوتی تھی جس کی اُن دنوں دیہات میں کچھ زیادہ ہی مانگ تھی ۔’’یہ ہینگ‘‘ ہوتی تھی جسے ہمارے ہاں خواتین اپنی لسی کی کڑھی اور سرسوں کے ساگ جیسے سالنوں میں جو اُس دور میں دیہات میں عام پکوان ہوا کرتے تھے ، گندم کے دانے کے برابر ڈال دیا کرتی تھیں کہ اس سے ان سالنوں کا بادی پن ختم ہو جاتا تھا۔ ہینگ کی ایک مخصوص تیز بو ہوتی تھی جو ان پاوندوں کے سامان کے گٹھڑ کھولنے پر ہر طرف پھیل جاتی تھی بلکہ ان پاوندوں کے کپڑوں سے بھی یہ بو آیا کرتی تھی۔ 
مجھے یاد آتا ہے کہ اس طرح کا کوئی افغان پاوندہ یا پاوندے میں نے کئی سال تک سردیوں کے موسم میں اپنے محلے کی مسجد میں رات گزارتے دیکھے ہونگے۔ یہ پاوندے جیسے میں نے اُوپر کہا دن بھر اپنی چیزیں وغیرہ بیچتے پھرتے ۔ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں آ جاتے تاکہ وہاں رات ہی نہ گزار سکیں بلکہ انہیں وہاں محلے کی طرف سے کھانا بھی مل جائے۔ ہم لڑکے بھالے اس طرح کے پاوندوں کے کھانے کے لئے اپنے گھروں اور دوسرے گھروں سے روٹیاں جو زیادہ تر مکئی کی ہوتی تھیں اور سالن دال ، ساگ یا کڑھی وغیرہ لے آتے تھے ۔ دن بھر کے بھوکے پیاسے کسی ایک پاوندے کے لئے دو تین آدمیوں کا کھانا کھا جانا ایک عام سی بات تھی۔ عشاء کی نماز کے بعد میں اور میرے ہمجولی لڑکے اس طرح کے پاوندوں کے اِرد گرد جمع ہو جاتے۔ مسجد کے فرش پر خشک گھاس کی تہہ بچھی ہوتی اور سرسوں کا دیا جل رہا ہوتا ۔ اُس کی مدہم روشنی میں ، میں اکثر اس طرح کے پاوندوں سے ضرور یہ سوال کیا کرتا کہ اُس کا تعلق افغانستان کے کس شہر یا علاقے سے ہے ۔ پھر میں پوچھ لیا کرتا کہ کیا وہ غزنی اور سلطان محمو دغزنوی کو جانتا ہے ۔ اکثر پاوندے اس طرح کے سوالوں کا کوئی جواب نہ دے پاتے لیکن میری آنکھوں سے افغان پاوندوں اور اُن کے وطن افغانستان اور وہاں کے شہروں، کابل ، قندھار اور غزنی کے لئے محبت ، عقیدت اور احترام کا پرتو جھلکتا رہتا۔ سچی بات ہے یہ پر تو میری زندگی کا حصہ رہا ہے کہ اگلے کم از کم چھ عشروں کے دوران میں افغانیوں کے لئے ہمیشہ محبت اور احترام کے جذبات کا اظہا رکرتا رہا۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ اگلے کسی کالم میں۔  (جاری ہے)

مزیدخبریں