ضمنی انتخابات کا روایتی ڈھونگ 

09:10 AM, 29 Nov, 2025


ضمنی انتخابات میں بھی نون لیگ کوہی فاتح قرار دیا گیا ، ہے ظاہرہے یہ اس کا حق بنتا تھا کیونکہ پچھلے چار پانچ برسوں سے جس قسم کی تابعداری وہ اپنے سرپرستوں کی کر رہی تھی اس کا صلہ اس سے کم کیا ملتا کہ قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی چھ نشستوں پر ضمنی الیکشن میں اسے کامیاب قرار دے دیا گیا ، ضمنی الیکشن میں تمام نشستوں پر نون لیگ کی کامیابی اس حوالے سے بھی اس کا حق بنتا تھا کہ مرکز اور پنجاب میں اس کی حکومتیں ہیں ، پاکستان میں ضمنی الیکشن وہی جماعت یا جماعتیں جیتتی ہیں جن کی حکومتیں ہوتی ہیں ، جب یہی سلسلہ چلنا ہے میں حیران ہوں ضمنی الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی ہے ؟ جہاں آئین میں اتنی ترمیمیں لائی جا رہی ہیں وہاں ایک ترمیم یہ بھی لے آئیں ”ضمنی انتخابات کروائے بغیر ہی حکومتی جماعتیں اپنے وفادار لوگوں کو قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت جاری کر سکتی ہیں ، وفاقی وزیر اطلاعات بلکہ ”غیر مصدقہ اطلاعات“ عطا اللہ تارر نے فرمایا”ہمیں پہلے ہی پتہ تھا ضمنی انتخابات میں نون لیگ کلین سویپ کرے گی “ ، ان کے پاس اندر کی ساری خبریں ہوتی ہیں ، نون لیگ میں ان کا مقام بشریٰ بی بی جیسا ہے، بشریٰ بی بی کو بھی اندر کی ساری خبریں کوئی پہلے ہی پہنچا دیتا تھا وہ یہ خبریں اپنی طرف سے ایک پیشنگوئی کے طور پر خان صاحب تک پہنچا دیتی تھیں ، بعد میں وہ خبریں درست ثابت ہوتیں ، اس بنیاد پر خان صاحب انہیں بڑی”اللہ لوکنی“ سمجھتے تھے ، جو وہ اب تک سمجھتے ہیں حالانکہ اب وہ اندر کی خبریں خان صاحب تک اس لیے نہیں پہنچا سکتیں کہ اب وہ خود اندر ہیں ، سو اگر یہ کہا جائے غلط نہ ہوگا عطا اللہ تارڑ نون لیگ کے ”اللہ لوگ“ ہیں ، اہیں وہ باتیں بھی معلوم ہوتی ہیں جو وزیراعظم شہباز شریف کو بھی شاید معلوم نہیں ہوتی ہوں گی اور اگرہوتی بھی ہوں گی عطاءاللہ تارڑ کے ذریعے ہی ہوتی ہوں گی ، ضمنی انتخابات میں نون لیگ کی کامیابی کی پیشگی معلومات کا معاملہ اس شخص جیسا ہے جس کی بیٹی گھر سے بھاگ گئی اس نے اپنے دوستوں کو بتایا وہ بڑی اللہ لوکنی تھی ، اس نے ایک دن پہلے ہی مجھے بتا دیا تھا ابو جی کل گھر کا ایک فرد گھر سے غائب ہوگا“، سو ہمارے اکثر وفاقی وزیروں کو پہلے سے پتہ تھا ضمنی انتخابات میں نون لیگ قومی و صوبائی اسمبلی کی ساری نشستیں جیت جائے گی ، الیکشن جیتنے کے لیے عوام کی حمایت کا تصور اب تقریبا ًختم ہوتا جا رہا ہے ، حکومتی یا سرکاری امیدواروں کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے وہ جیتے جتائے ہیں ، ان کی مہربانی اس کے باوجود وہ الیکشن کے دنوں میں اپنے حلقوں کے عوام سے ملنے ملانے کا عارضی سلسلہ شروع کر دیتے ہیں ، اپنے ڈیروں کو کچھ دنوں کے لیے آباد کر دیتے ہیں ، جلسے وغیرہ کر لیتے ہیں یہ ، سارے کام وہ نہ بھی کریں ان کی جیت کے لیے یہی کافی ہوتا ہے ان کا تعلق حکومتی جماعت سے ہے ، اس موقع پر پوری ریاستی مشینری ان کے قدموں میں گری ہوتی ہے ، وہ جتنا چاہیں ا±س کا غلط یا ناجائز استعمال کریں کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوتا ، حالیہ ضمنی الیکشن میں ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر روزانہ صبح دفتر جانے سے پہلے ضمنی الیکشن لڑنے والے ایک حکومتی امیدوار کے گھر حاضری دے کر جاتے تھے ، الیکشن کے آخری دنوں میں انہوں نے اپنا دفتر ہی اس سرکاری ا میدوار کے گھر شفٹ کر لیا تھا ، جن اضلاع میں ضمنی انتخابات ہو رہے تھے وہاں کے ڈی پی اوز اور دیگر اعلیٰ افسران کو بھی یہی ہدایات تھیں سرکاری امیدواروں کو جتوانے کا پورا بندوبست کیا جائے ، پاکستان کی مقبول سیاسی جماعت پی ٹی آئی نےالیکشن کا بائیکاٹ کیا ، وہ الیکشن لڑتی بھی ا±س کے صرف وہی امیدواران کامیاب ہوتے جن کی ا±وپر سیٹنگ ہونی تھی ، جیسا کہ گزشتہ عام انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کے بے شمار وہی ا±میدواران کامیاب ہوئے تھے جن کی اوپر سیٹنگ ہوگئی تھی ، جو سیٹنگ کے بغیر کامیاب ہوگئے انہیں بعد میں سیٹنگ کی آفر کی گئی ، جنہوں نے کر لی ان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کر دئیے گئے ، جنہوں نے نہیں کی وہ فارم فورٹی سیون کی زد میں آگئے ، پچھلے عام انتخابات میں اپنی مرضی کے امیدواروں کو جتوانے کا جو ماحول بنا دیا گیا تھا اس کے بعد حکومت مخالف کسی شخص نے ضمنی الیکشن لڑنے کا تصور بھی نہیں کیا ، اس بار بھی میدان خالی تھا اور جیتنے والے سرکاری امیدواران انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے یہ بڑھکیں لگا رہے تھے ا±نہوں نے میدان مار لیا ہے ، حالیہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے ایک ایسے سرکاری امیدوار کو میں جانتا تھا جس کے مقابلے میں جب کسی ا±میدوار نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع نہ کروائے اس نے اپنے مقابلے میں خود ہی کمزور سے دو امیدوار کھڑے کر دئیے تاکہ الیکشن جیتنے کے بعد وہ یہ بڑھک لگا سکے کہ اس نے بھاری اکثریت سے الیکشن جیتا ہے، نون لیگ سے زرا کم دوسری لاڈلی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی پنجاب میں ضمنی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی صرف ایک نشست مظفر گڑھ سے حاصل کر سکی ، پنجاب میں عملی طور پر پیپلز پارٹی کا تقریباً صفایا ہو گیاہے ، چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر کی وفات کے بعد ان کے شوہر نامدار بی بی اور بھٹو کی جماعت کو سیاسی لحاظ سے بدترین مقام پر لے آئے ہیں ، جنرل ضیاءالحق گیارہ برسوں تک ایڑی چوٹی و دیگر اعضاءکا پورا زور لگا کر بھی سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کو ختم نہیں کر سکا تھا ، یہ کام بی بی کے شوہر اور بھٹو کے داماد نے بڑی آسانی سے کر دیا ، ویسے سیاسی طور پر جماعت ختم کرنے کے صلے میں سندھ کی حکومت اگر قائم ہے اور ملک کی صدارت بھی ملی ہوئی ہے یہ سودا زرداری کے لیے گھاٹے کا نہیں ہے ، بی بی کے قاتلوں کی بات بھی وہ اب نہیں کرتے ، ان کی یہ”قربانی“بھی بہت ہے جس کے صلے میں اقتدار میں تھوڑی بہت شراکت داری انہیں اگر ملی ہوئی ہے اس پر اعتراض کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں ؟ البتہ یہ طے ہے تابعداری میں پیپلز پارٹی نے نون لیگ سے آگے نکلنے کی کوشش اگر نہ کی ملک کی صدارت تو آگے چل کر پتہ نہیں برقرار رہتی ہے یا نہیں سندھ کی حکومت بھی ممکن ہے ہاتھوں سے نکل جائے ، پیپلز پارٹی کو اپنے ”زور تابعداری“ میں اضافہ کرنا چائیے ، ضمنی انتخابات کے بعد نون لیگ کو قومی اسمبلی میں اب سادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے ، وہ اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی کی محتاج نہیں رہی ، نون لیگ تابعداری کے جس مقام پر اب کھڑی یا چڑھی ہے سچ پوچھیں کم از کم مجھے بلاول بھٹو زرداری کے وزیراعظم بننے کی کوئی امید نظر نہیں آتی ، اس کے باوجود وہ اگر وزیراعظم بن گئے انہیں دیکھ دیکھ کر ہمارا تو ہاسا ہی نہیں ر±کنا ، ویسے جس طرح کے ہمارے عوام ہیں ا±ن کا حق بنتا ہے ان کا اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری ہی ہو۔

مزیدخبریں