ملک دشمن ایجنڈا

09:09 AM, 29 Nov, 2025


مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سیاست میں ذاتی مفاد کی سیاست کی جا رہی ہے ۔ مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ جھوٹ کی فیکٹریوں نے ملکی سیاست میں غلبہ حاصل کر لیا ہے ۔ یہ دونوں کام شروع دن سے ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قومی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد اس قدر عزیز ہو گیا ہے کہ اس میں اب ملک دشمنی بھی شامل ہو چکی ہے اور کوشش یہی ہے کہ قوم کو سیاست کے نام پر اس حد تک تقسیم کر دیا جائے کہ اس کے اندر سے بھی ملک دشمنی اور ملک دوستی کی تمیز ختم ہو جائے لیکن خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ یہ ملک دشمن گھناﺅنی سازش ابھی تک کامیاب تو کیا ہونا تھی مکمل طور پر ناکام ہے ۔ جو لوگ اس طرح کے ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں افسوس کہ ان کے اندر سے احساس جرم تک ختم ہو چکا ہے 
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا 
 اور جب انسان کے اندر سے اچھائی اور برائی کی تمیز ہی ختم ہو جائے تو پھر اس سے آپ ملک دشمنی سمیت کسی بھی بات کی توقع کر سکتے ہیں اور جب انسان کی ذہنی سطح اس حد تک پست ہو جائے تو وہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے اور کسی بھی سطح تک گر سکتا ہے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” ایکس “ کی اپ ڈیٹ دیکھنے کے بعد گھر کے چراغ جس طرح گھر کو آگ لگانے کی کوشش کر رہے تھے اس کے بعد ان کے چہرے کھل کر سامنے آ گئے ہیں ۔ 
اخبارات میں شائع خبروں کے مطابق سوشل میڈیا پر بھارت ، افغانستان اور پی ٹی ایم سے منسلک جعلی اکاﺅنٹس کا انکشاف ہوا ہے ۔ پاکستان کے خلاف جھوٹ ، فتنہ اور انتشار پھیلانے والے جعلی انسانی حقوق کے علمبرداراور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کا مکروہ چہرہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” ایکس “ کی نئی اپ ڈیٹ کے بعد بے نقاب ہو گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اپ ڈیٹ کے نتیجہ میں واضح ہوا ہے کہ افغانستان ، فتنہ الہندوستان اور کچھ سیاسی و لسانی جماعتوں سے منسلک متعدد اکاﺅنٹس غیر ملکی ایجنڈے پر سر گرم تھے ۔ پاکستان کے خلاف نفرت ، انتشار اور غلط بیانی پھیلانے والے بھارتی اکاﺅنٹس بھی سامنے آ گئے ہیں ۔ پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لئے بھارت سمیت کئی ممالک سے اکاﺅنٹس آپریٹ کئے جا رہے تھے جن میں اپنی اصل لوکیشن چھپانے کے لئے وی پی این کا استعمال بھی عام تھا ۔ مزید انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں سے منسلک متعدد اکاﺅنٹس بھی ہندوستان اور دیگر ممالک سے چلائے جا رہے تھے ۔ بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں جعلی انسانی حقوق کا ڈھونگ رچانے والے کئی اکاﺅنٹس در اصل غیر ملکی نیٹ ورکس نکلے ۔ جن کے روابط بھارت سے ملتے ہیں ۔ پاکستان دشمنی میں سر گرم ان بیرون ممالک پروپیگنڈا فیکٹریوں کا پورا نیٹ ورک اب دنیا کے سامنے آ چکا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مختلف سیاسی بیانیے بھی بیرون ملک سے منظم طریقے سے چلائے جا رہے ہیں جن کا مقصد ملک میں انتشار پیدا کرنا تھا ۔ سوشل میڈیا کے ماہرین نفرت اور جھوٹ پھیلانے والے اس نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کو ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں ۔ 
انکیڈو ، پاکوالی اور ذیشان مہمند جیسے ٹاپ اکاﺅنٹس کا بیرون ملک سے چلنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ملک کی ایک سیاسی جماعت کا احتجاجی بیانیہ پاکستان سے نہیں بلکہ ڈالر کمانے کے لئے غیر ملکی پٹھووں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ یہ بزدل ایجنٹ خود محفوظ ممالک میں بیٹھ کر پاکستان کے عوام کوسڑکوں پر آنے اور ملک میں انتشار پھیلانے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ ان کا مقصد صرف افرا تفری اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اپنی غیر ملکی فنڈنگ جاری رکھ سکیں ۔ ضمنی الیکشن میں اپنے ہی گھر سے ایک بڑے مارجن کے ساتھ شکست کے بعد اب اس غیر ملکی نیٹ ورک کو متحرک کیا ہے تا کہ اپنی انتخابی شکست کوشور شرابے میں چھپایا جا سکے ۔ یہ اکاﺅنٹس بیرون ملک بیٹھ کر ہمارے اداروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں ، ان کی پاکستان سے کوئی محبت نہیں بلکہ یہ صرف نظام کی تباہی پر کام کر رہے ہیں ۔ جیسا کہ کالم کے شروع میں عرض کیا تھا کہ احساس جرم بھی جاتا رہا ہے اور جو کچھ ہم عرض کر رہے ہیں اس میں اگر کہیں ہماری رائے ہو تو قارئین کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اس سے اختلاف کریں لیکن یہ تو نا قابل تردید حقائق ہیں ان سے انکار تو خود فریبی کے زمرے میں آئے گا لیکن اسے بھی چھوڑ دیں اورصرف چھ سات ماہ پیچھے چلئے جائیں اور پہلگام واقعہ کے بعد اور ہندوستان کا پاکستان پر حملہ اور پھر پاکستان کی چار گھنٹے کی انتہائی قلیل مدت کے دوران اپنے سے آٹھ گنا بڑے دشمن پر فتح مبین اور اس کے بعد جو کچھ ان کی جانب سے ہندوستان کے بیانیہ کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف زہر اگلا گیا وہ سب کچھ تو اب بھی یو ٹیوب سمیت سوشل میڈیا کے مختلف فورمز پر موجود ہے اسے دیکھنے کے بعد کوئی ابہام باقی نہیں رہتا لیکن یہ لوگ اپنے تئیں یہی سمجھتے تھے کہ عوامی مقبولیت کا جھوٹا بیانیہ جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اس پر سب یقین بھی کر لیں گے لیکن یہ ان کی بھول تھی اور ضمنی الیکشن میں عوام نے انھیں بتا بھی دیا اور سمجھا بھی دیا کہ سیاست اور سیاسی قیادت وہی قبول ہے جو حب الوطنی کے دائرے میں ہو گی اگر اس سے باہر نکل کر ملک دشمنی میں داخل ہو گی تو عوام ہمیشہ کی طرح اسے رد کر دیں گے ۔

مزیدخبریں