عرفان صدیقی صاحب .... یادیں اورباتیں !

09:06 AM, 28 Nov, 2025


محبی مکرم و محترم اور ہمدمِ دیرینہ عرفان صدیقی مرحوم و مغفورکے بارے میں پچھلے تین چار ہفتوں سے میں لکھ رہا ہوں۔ سچی بات ہے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ نوبت آئے گی کہ وہ اس دنیا سے رُخصت ہو جائیں گے اور میں دُکھے دل اور پُر نم آنکھوںکے ساتھ اُن کی یادوں کو تازہ کر رہا ہوں گا۔ مجھے منگل کے دن روزنامہ ”نئی بات“ میں ادارتی صفحے پر اُن کے کالم کے پہلو میں کبھی کبھار اپنے کالم کے چھپنے کا خیال آ رہا ہے۔ پچھلے چند برسوں سے اُن کا یہ معمول چلا آ رہا تھا کہ ہفتے میں ایک دن ہر منگل کو چھ ، سات بڑے قومی اخبارات میں اُن کا کالم چھپ رہا تھا۔ روزنامہ ”نئی بات “ میں بھی یہ کالم ادارتی صفحے پر دائیں طرف اُوپر جگمگا رہا ہوتا تھا۔ روزنامہ ”نئی بات“میں منگل کا دن میرے کالم جسے میں خامہ فرسائی کہتا ہوں کے چھپنے کا بھی دن ہوتا ہے۔ میرا کالم کبھی کبھار عرفان صاحب کے کالم کے پہلو میں چھپتا تو میں بڑا فخر محسوس کرتا کہ اتنے بڑے نامور قلمکار اور صاحب اسلوب نثر نگار جن سے میں نے کچھ لکھنا سیکھا ہے اور جن کی تقلید میں میں یہ خامہ فرسائی کرتا ہوں کے ساتھ میرا کالم چھپا ہے۔ اب پچھلے تقریباً تین ہفتوںسے اُن کا کالم نہیں چھپ رہا ہے تو سچی بات ہے تو میرے دل میں ایک طرح کے ہول سے اُٹھتے ہیں ۔
 3 نومبر پیر کو میں ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں اُنہیں دیکھنے گیا تو میں اُن کے دائیں پہلو میں کھڑے ہو کر کافی دیر تک اُن کی دائیں ٹانگ کو دباتا رہا ۔ عرفان صاحب نے مجھے اس سے نہیں روکا بلکہ کہنے لگے کہ کچھ دن پہلے میں نے عمران بیٹے سے کہا تھا کہ ملک صاحب (مجھے وہ ملک صاحب کہہ کر پکارا کرتے تھے) کو بلانا ہے اکیلے صرف اُنہیں، گپ شپ لگائیں گے اور مل بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔ لیکن ہسپتال آنا پڑگیا اور پروگرام رہ گیا۔ اب ان شاءاللہ دو تین دنوں میں ہسپتال سے فارغ ہو جاﺅں گا تو پھر پروگرام بنائیں گے۔ میں نے باتوں باتوں میں عرفان صاحب کے 28 اکتوبر کو ”سیاسی رشتے مجبوری کا نام ہیں“ کے عنوان سے چھپنے والے کالم کا حوالہ دے کر گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کے بارے میں کالم کے آخر میں چھپنے والے خوبصورت اور زومعنی اس جملے کا حوالہ دیا ”برسبیلِ تذکرہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ شجرِ مجبوری کی کچھ شاخیں پُر میوہ بھی ہوتی ہیں، ایسی ایک شاخ پر آج کل سردار سلیم حیدر کا خوش جمال نشیمن بھی ہے“۔ میری یہ بات سُن کر عمران نے بتایا کہ ابو نے آج بھی یہاں کالم لکھا ہے جو اخبارات کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ عرفان 
صاحب کا یہ کالم ”کابل انتظامیہ کے لئے ایک بڑا چیلنج“ کے عنوان سے 4 نومبر کے قومی اخبارات میں چھپا جو اُن کا آخری کالم ثابت ہوا۔ 
3 نومبر کو میں عرفان صاحب سے ملاقات کر کے واپس آ گیا تاہم اگلے دنوں میں عرفان صاحب کی صحت کے بارے میں باخبر رہنے کے لئے میرا رابطہ محبی مکرم ڈاکٹر جمال ناصر صاحب سے قائم رہا ۔اس دوران عرفان صاحب کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی لیکن تین چار دنوں کے بعد خراب ہونا شروع ہو گئی۔ 8 نومبر ہفتے کو ڈاکٹر جمال ناصر کا عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام کی وساطت سے پیغام ملا کہ سَر (عرفان صاحب) کو آپ دیکھنے نہیں گے تو میں نے فوراً ہسپتال جانے کا پروگرام بنا لیا۔ میرا چھوٹا بیٹا حارث ملک بھی تیار ہو گیا راستے میں محترم اسماعیل قریشی صاحب اور عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ ہسپتال پہنچے تو میں دیر تک عرفان صاحب کے بیڈ کے پہلو میں بیٹھ کر اُن کے پاﺅں دباتا رہا ۔ اُن کے بھائی پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی اور دونوں بیٹے عمران اور نعمان اور کچھ دوسرے عزیز بھی موجود تھے۔ عرفان صاحب آکسیجن کا ماسک لگا ہونے کی وجہ سے بول نہیں پا رہے تھے۔ کافی دیر کے بعد رُخصت ہوتے وقت میں نے اُن کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیکر چوما تو انہوں نے آنکھیں کھولیں جن میں چمک پیدا ہوئی اور مجھے ایسے دیکھا جیسے الوداع کہہ رہے ہوں۔ میں پُر نم آنکھوں سے آئی سی یو وارڈ سے باہر آ گیا ۔ واپسی پر اسلام آباد سے پنڈی کے پورے سفر کے دوران محترم اسماعیل قریشی اور بیٹے حارث کے ساتھ عرفان صاحب کے بارے میں پُرانی یادوں کو تازہ کرتا رہا۔ وہ دونوں میرے اور عرفان صاحب کے دیرینہ قریبی تعلقات سے آگاہ ہونے کے باوجود کچھ کچھ حیران بھی ہو رہے تھے کہ ہماری آپس کی اتنی زیادہ قربت چلی آ رہی ہے اور عرفان صاحب کے بارے میں کیا کیا اور کیسی کیسی خوبصورت اور یاد گار باتیں اُن سے کر رہا ہوں۔ خیر اگلے دو تین دن میں ہسپتال جا کر عرفان صاحب کو دیکھنے سے جان بوجھ کر کتراتا رہا ، البتہ اُن کے چھوٹے بیٹے عزیزی نعمان سے فون پر میرا رابطہ قائم رہا۔ پیر 10 نومبر کی سہ پہر کو جب ایک مخصوص گالم گلوچ برگیڈ کچھ نہ ہنجار اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے کچھ بد بخت افواہ ساز عرفان صاحب کی علالت کے بارے میں افترا پردازی اور افواہیں پھیلانے میں مصروف تھے تو میرا شام کوئی آٹھ بجے نعمان سے فون پر رابطہ ہوا۔ نعمان کا کہنا تھا کہ انکل دعا کریں ابو کی حالت کچھ بہتر نہیں ہے پھر رات کوئی ساڑھے گیارہ بارہ بجے نعمان کا ٹیکسٹ میسج آ گیا کہ ابو اس دُنیا میں نہیں رہے۔
 عرفان صاحب مرحوم و مغفور کے آخری دنوں کا یہ احوال ایسا نہیں ہے جسے میں بھول سکوں۔ یقینا میری زندگی کے آخری سانسوں تک یہ میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود رہے گا لیکن بات اسی پر ختم نہیں ہوتی۔ اُن کے بارے میں باتیں اور یادیں اتنی زیادہ اور اتنی پھیلی ہوئی ہیں کہ میرے لیے اُن کے تذکرے کو سمیٹنا آسان نہیں۔ سچی بات ہے عرفان صاحب مجھے ہی نہیں ،بہت سارے لوگوں کو عزیز تھے ۔ یہاں تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ورنہ میں بہت سارے لوگوں کا حوالہ دے سکتا ہوں جو عرفان صاحب سے تعلق اور دوستی پر ناز کرتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عرفان صاحب ربِ کریم کا یہ خاص کرم تھا کہ اُن کی شخصیت میں ایسی جاذبیت تھی ، اُن کی صورت اور سیرت میں ایسا حسن اور کشش تھی ، اُن کے لباس اور پیرہن میں ایسی نفاست اور سلیقہ مندی ہوتی تھی اور اُن کی گفتگو میں ایسی خوبصورتی ، شیرینی، ملائمت اور استدلال ہوتا تھا کہ جو کوئی اُن سے ملتا ، اُن سے گفتگو کرتا ، اُن سے کچھ عرصے کے لئے اُس کاربط ضبط ہوتا وہ اُن کا ہی ہو کر رہ جاتا۔ عرفان صاحب کی شخصیت کا ایک کمال یہ بھی تھا کہ وہ دوسروں کی قدر کرنا ہی نہیں جانتے تھے بلکہ دوسروں سے اپنی قدر اور عزت افزائی کرانا بھی جانتے تھے۔ اُن کا یہ کمال بالکل شروع سے ہی اُن کی شخصیت میں موجود چلا آ رہا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ اُن کی اہلیت ، قابلیت ، ذہانت، معاملہ فہمی ، قوت استدلال اور تخلیقی اور لکھنے لکھانے کی صلاحیتوں کے پہلو جوں جو ں اُجاگر ہوتے گئے اُن کا یہ کمال مزید بڑھتا، پھیلتا اور مستحکم ہوتا گیا۔ اُن کا پورا تدریسی کیرئیر اور اُن کی بعد کی علمی، ادبی، صحافتی ، معاشرتی، سیاسی اور دانشورانہ مصروفیات اور سرگرمیاں میری نگاہوں کے سامنے ہیں ۔ اُن کو دیکھتے ہوئے میں پورے یقین اور ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی قدر افزائی ، مقام و مرتبے اور رُتبے اور حیثیت میں بفضل تعالیٰ کبھی کچھ کمی نہیں آئی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ کوئی کتنے ہی مقام اور مرتبے اور اُونچی حیثیت پر فائز کیوں نہ ہو ہر کمال راہ زوال کے مصداق وقت گزرنے کے ساتھ اُس کے مقام و مرتبے اور حیثیت اور رُتبے میں کچھ کمی آ جاتی ہے یا وہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے لیکن عرفان صاحب مرحوم کا معاملہ یقینا ایسا نہیں تھا۔ انہیں زندگی کے تمام معاملات اور پہلوﺅں بالخصوص علمی، ادبی، صحافتی اور سیاسی شعبوں میں بتدریج جو مقام، مرتبہ ، عزت ، پہچان اور نیک نامی حاصل ہوئی زندگی کے آخری سانسوں تک اس میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ اس کی کچھ تفصیل ان شاءاللہ آئندہ کالم میں ہو گی۔  (جاری ہے)

مزیدخبریں