ہانگ کانگ آتشزدگی: 200 افراد ابھی تک لاپتہ، حکام کی ریسکیو آپریشن جاری

08:59 PM, 28 Nov, 2025

ہانگ کانگ: ہانگ کانگ کے ایک بڑے رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی ہولناک آتشزدگی میں اب تک 128 افراد کی موت کی تصدیق ہوگئی ہے، جبکہ 76 افراد زخمی ہیں اور 200 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، ہانگ کانگ کے فائر حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ کو پیش آیا، جس میں تقریباً 80 سال بعد شہر کی بدترین آگ نے ایک رہائشی کمپلیکس کو تباہ و برباد کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تلاش اور ریسکیو کارروائیاں جلد مکمل ہونے کی امید ہے، تاہم آتشزدگی کی شدت کے پیش نظر تحقیقات اور امدادی کارروائیاں ابھی بھی جاری ہیں۔

جمعہ کی صبح تک فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے متاثرہ علاقے میں کام کر رہے ہیں۔ فائر سروسز کے ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈیریک چان نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی ٹیم آگ کے باقی یونٹس میں داخل ہو کر مزید ممکنہ جانی نقصان سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پوری کوشش کریں گے کہ ہر کمرے اور یونٹ میں جا کر یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مزید افراد زخمی یا جاں بحق نہ ہوں۔

ہانگ کانگ کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ آتشزدگی پر قابو پانے کے بعد سات بلاکس میں آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے، تاہم تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق، دو کنسٹرکشن کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو حراست میں لیا گیا ہے، اور آگ لگانے کے الزام میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

آگ سے متاثرہ افراد کے لیے فوری طور پر 700 افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ متاثرہ کمپلیکس میں 8 بلاکس شامل ہیں، اور ہر بلاک کی اونچائی 31 منزلہ ہے۔ اس کمپلیکس میں تقریباً 2 ہزار اپارٹمنٹس ہیں اور یہاں قریباً 5 ہزار افراد مقیم تھے۔

ایک 52 سالہ خاتون این جی نے بتایا کہ ان کے بلاک میں آگ شروع میں معمولی تھی، لیکن وقت پر قابو نہ پانے کی وجہ سے یہ آگ پھیلتی چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ "اگر ابتدائی طور پر آگ پر قابو پا لیا جاتا تو شاید اتنی بڑی تباہی نہ ہوتی، اب ہر چیز جل چکی ہے اور اتنے لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔"

ہانگ کانگ انتظامیہ نے آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام نے کہا کہ ابھی تک کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم تین افراد کو آگ لگانے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

مزیدخبریں