پنجاب کے ہرحلقے میں ضمنی الیکشن جیت جانا (ن) لیگ کے حوالے سے باعث تعجب نہیں ہے مریم نواز نے پنجاب میں تعمیروترقی کے میدان میں اور مختلف طبقات کی فلاح وبہبود کے لیے جس بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس کا یہی ثمر (ن) لیگ کو ملنا تھا سومل گیا میرے نزدیک (ن) لیگ کی اصل کامیابی خیبرپختونخواہ کے حلقہ ہری پور این اے 118شاندار فتح ہے پنجاب میں کہا جاسکتا ہے ضمنی الیکشن میں حکومتی امیدوار جیت ہی جایاکرتے ہیںلیکن خیبرپختونخواہ میں تو مقابلہ حکومتی امیدوار سے تھا۔ پی ٹی آئی حکومت تمام وسائل بروئے کار لائی جس کا ثبوت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولنگ سے صرف تین روز قبل حلقے میں جاکر (ن) لیگ کے امیدوار اور اس کے ووٹروں کو دھمکیاںدیں جس پر الیکشن کمیشن نے طلب کرلیا۔
پی ٹی آئی نے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جو الیکشن سے پہلے ہی طے کرلی گئی تھی پنجاب میں حکومت کی جانب سے دھاندلی اور فارم 47میں گڑ بڑ کرنے کا پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے لیکن ہری پور کے الیکشن نے اس پروپیگنڈہ کی یوںنفی کردی ہے کہ وہاں (ن) لیگ کے امیدوار کو کامیاب کرانے کیلئے پنجاب حکومت نے فارم 45و47میں گڑ بڑ کیسے کرائی وہاں تو خود پی ٹی آئی حکومت ہے۔ تو کیا پی ٹی آئی کی حکومت (ن) لیگ سے مل گئی تھی جبکہ یہ واحد ضمنی الیکشن تھا جس کا پی ٹی آئی نے بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ عمران خان نے حلقہ کے ووٹروں کو پی ٹی آئی کی امیدوار کو ووٹ دینے کا پیغام دیا تھا۔
سوال پیدا ہوتا ہے وزیراعلیٰ کی حلقے میں جاکردھمکیاں، عمران خان کا پیغام اور حکومتی وسائل بروئے کار لائے جانے کے باوجود شہرناز عمرایوب کیوں ہارگئیں حالانکہ یہ ان کے شوہر عمرایوب کی جیتی ہوئی نشست تھی اصل بات یہ ہے کہ عمرایوب کو پی ٹی آئی کی امیدوار شہرناز عمر کے 120220ووٹوں کے مقابلے 163996ووٹوں سے شکست دے کر ثابت کردیا کہ اصل مقبولیت وحمایت کس پارٹی کو حاصل ہے اس علاقے کی تعمیر وترقی اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے سلسلے میں کیپٹن صفدر ایک جنونی جذبہ رکھتے ہیں اس سلسلے میں ذاتی مثال یہ ہے کہ ایک روز کیپٹن صفدر نے مجھے کہا آپ کی سنیٹر ایس ایم ظفر سے واقفیت ہے مجھے پتہ چلا ہے کہ بطور سنیٹر ان کے ترقیاتی فنڈز کا استعمال نہیں ہوا ان سے بات کریں وہ مانسہرہ میں بڑی واٹر ٹینکی بنانے کیلئے کچھ حصہ دے دیں اس پر ان ہی نام لکھ دیا جائے گا میں صدیق پلازہ میں واقع آفس میں جاکر جناب ایس ایم ظفر سے ملا اور کیپٹن صفدر کا پیغام پہنچایا انہوں نے اس جذبہ کو سراہا اور بخوشی اپنا فنڈ مانسہرہ میں واٹر ٹینک بنانے کیلئے دینے پر آمادگی ظاہر کردی ساتھ انہوں نے کہا ”مجھے زیادہ خوشی ہوتی اگر آپ مسلم لیگیوں کے اتحاد کا پیغام لے کر آتے “میں نے عرض کیا ”آپ چودھریوں (چودھری شجاعت وپرویز الٰہی) سے بات کریں وہ آمادہ ہیں تو بیگم کلثوم نواز کو ان کے گھرلانے کی ضمانت میں دیتا ہوں“اس پر وہ معنی خیز انداز میں مسکرائے اور کہا ”آپ صحیح سیاسی صحافی ہیں“ وہ میرے جواب کی گہرائی کو سمجھ گئے تھے میں نے گیند واپس ان کے کورٹ میں ڈال دی تھی ظاہر ہے جنرل پرویز مشرف کی قائم کردہ ق لیگ کو (ن) لیگ میں ضم یا اتحاد تو دور کی بات ایک کونسلر کی سطح کے الیکشن میں بھی اتحاد چودھریوں کے بس کی بات نہیں تھی۔
حلقہ این اے 18کی انتخابی مہم میں کیپٹن صفدرنے جس طرح دن دیکھا نہ رات اپنا ہرلمحہ ہر گھڑی اس کیلئے مختص کردی یہ شاید اس لئے ضروری تھا کہ مقابلہ پی ٹی آئی کی امیدوار سے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی حکومت سے تھا اور بالواسطہ طورپر عمران خان سے تھا کیونکہ اپنے پیغام کے ذریعہ عمران خان نے انتخابی مہم میں خودحصہ لیا تھا الیکشن کے نتیجے نے جہاں (ن) لیگ اس کے امیدوار بابرنواز کو بالعموم اور کیپٹن صفدر کو بالخصوص سرخرور کیا وہاں یہ پی ٹی آئی حکومت ہی نہیںخود عمران خان کی خیبر پختونخواہ میں عوامی مقبولیت کے جھوٹے دعوو¿ں کی قلعی کھولنے کا باعث بھی بنا ہے ۔
2013ءکے الیکشن میں پی ٹی آئی کو خیبر پختونخواہ میں واحد اکثریتی پارٹی کی مسند پر بٹھایا گیا تو اس کے باوجود میاں نواز شریف کیلئے موقعہ تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی بات مان کر حکومت بنائی جاسکتی تھی اور عمران کو اپوزیشن پنچوں پر بٹھایا جا سکتا تھا مگر میاں نواز شریف نے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کا موقع دیکر جس سیاسی دور اندیش کا مظاہرہ کیا اسے اعتراف ہے مجھ سمیت بہت لوگ سمجھ نہیں سکے تھے لیکن میاں نواز شریف کی سیاسی بصیرت نے جان لیا تھا کہ جھوٹے پروپیگنڈہ اور سوشل میڈیا کے ذریعہ عمران خان کا جو مسیحا کا بت بنا دیا گیا ہے وہ حکومت دیکر نااہلی کے کلہاڑے سے ہی ٹوٹ سکتا ہے آج ہری پورکے الیکشن نے ان کی سیاسی بصیرت پر مہر لگا دی ہے ۔ بارہ سال سے زائد حکومت کے بعد ”نجات دہندہ “سمجھے جانے والا مسائل و مشکلات کا ”عذاب دہندہ“ ہی ثابت ہوا اور جوں ہی موقع ملا کم از کم این اے 18 کے لوگوں نے اس سے جان چھڑوا لی۔ اس حلقہ میں کامیابی کے لئے بلا شبہ کیپٹن صفدر نے جی جان سے بہت محنت کی تا ہم بابر نواز کا بھی اپنے حلقے میں اثر و رسوخ اور لوگوں کی حمایت موجود ہے جبکہ (ن) لیگ کے کارکنوں اور مقامی لیڈروں کی کوششوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس ضمنی الیکشن میں (ن) لیگ کی جانب سے دھاندلی کا واویلا کرنے والے پی ٹی آئی کے لیڈر ، کارکن اور میڈیا پرسنز خود اپنی نااہلی پر مہر لگا رہے ہیں جو حکومت ہونے کے باوجود دھاندلی نہیں روک سکے۔ پیپلز پارٹی کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے بننے والی شرمیلا فاروقی نے ایک ٹی وی شو میں کہا اگر پنجاب میں کچھ ہو رہا ہوتا تو نواز شریف یوں خاموش ہو کر بیٹھا ہوتا ، اس سے مجھے بچپن کا ایک ”حقیقہ“ یاد آ گیا ۔جلیل اور یوسف آپس میں کزن اور میرے دوست تھے جلیل کا رنگ سیاہ فام اور یوسف کا رنگ سرخ و سفید تھا دونوں کی لڑائی ہو گئی جلیل نے یوسف کو کہا ”اوئے کالے“ یوسف حیرت سے اس کا منہ تکنے لگا اس سے جلیل نے فائدہ اٹھایا اور اسے تھپڑ مار کر بھاگ گیا۔
کیپٹن صفدر جیت گیا!
09:16 AM, 28 Nov, 2025