پاکستان میں حالیہ ضمنی انتخابات اگرچہ چند نشستوں تک محدود تھے مگر ان کے نتائج سے ملکی سیاست میں اہم سیاسی زمینی حقایق سامنے آئے ہیں۔ یہ نتائج نہ صرف تین بڑی سیاسی جماعتوں کی موجودہ طاقت اور کمزوریوں کا جائزہ ہیں بلکہ آنے والے سیاسی منظر کی پیشگوئی بھی کرتے ہیں۔ انتخابات کے حالیہ نتائج یہ طے کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی مضبوطی کا تاثر صحیح ہے, پی ٹی آئی کی انتخابی مقبولیت تیزی سے بتدریج کم ہوتی چلی جا رہی ہے اور پیپلز پارٹی پنجاب اور کے پی میں اپنے گورنر لگوا کر بھی کوئی قابل ذکر نئی جگہ نہیں بنا سکی ۔
پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات میں تمام نشستوں پر بری طرح شکست کھائی۔ اس کی بڑی وجوہات سیاسی بے بصیرتی,پارٹی کی تنظیمی کمزوری, پی ٹی آئی کے ووٹر کی اپنی قیادت کی بے ہمتی سے مایوسی, بدلتی ہوئی سیاسی حقیقت سے عدم واقفیت , پارٹی ووٹرز اور سپورٹرز کی بے انتہا تھکن, امیدواروں کا غلط انتخاب اور بیانیے کی کمزوری تھیں۔ اسکے علاوہ عمران خان کی قید ، پارٹی کی ٹوٹ پھوٹ , موقع پرستوں اور پارٹی کے ابن الوقتوں کی پارٹی اور عمران سے لا تعلقی اور کارکنوں میں بے یقینی نے پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ضمنی انتخابات میں مقامی سطح کی تنظیم سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے، جو پی ٹی آئی کے پاس سرے سے موجود ہی نہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ پارٹی اور عمران خان پر قابو پانے کی خواہش مند بشری اور علیمہ کے باہمی جھگڑوں نے پارٹی کے پرزے اڑا کر رکھ دیئے۔ پی ٹی آئی کا ووٹر جذباتی ضرور ہے مگر اب انتخابی طور پر متحرک نہیں رہا۔ ہوم ورک کے بغیر بار بار کی احتجاجی کالوں کی بری طرح سے ناکامی اور سیاسی بے یقینی نے اسے تھکا دیا۔ پی ٹی آئی کا سپورٹر نکلا نہ ووٹر۔ 2013 اور 2018 کی انتخابات میں پی پی پی کا ووٹر ٹوٹ کر پی ٹی آئی میں چلا گیا۔ 2025 میں وہی ووٹر پی ٹی آئی سے تو لا تعلق ہو گیا لیکن واپس پی پی پی میں جانے کی بجائے مایوس ہو کر بیٹھ گیا۔ اسی لئے ٹرن آو¿ٹ انتہائی کم رہا۔
ضمنی انتخابات میں کامیابی کے لیے ایسے امیدوار ضروری ہوتے ہیں جن کا حلقے سے روزمرہ کا رابطہ ہو۔ پی ٹی آئی نے کئی حلقوں میں غیر مقبول یا غیر متحرک امیدوار میدان میں اتارے۔ پی ٹی آئی کا بیانیہ ”مظلومیت“ اور ریاستی جبر تک محدود رہا۔ مگر ضمنی انتخابات میں تھکے ہوئے ووٹر کو روزگار ، روزمرہ مسائل اور رسائی سے تعلق ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر
اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مقبولیت تو کسی حد تک برقرار ہے مگر انتخابی مشینری شدید کمزور ہو چکی ہے۔
پیپلز پارٹی پنجاب میں بڑے دعووں کے باوجود صرف مظفرگڑھ کی نشست ہی جیت سکی۔ اس کی وجوہات جاننا بھی ضروری ہیں۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کی عدم موجودگی, پارٹی کی مرکزی قیادت کا پنجاب سے فاصلہ, پی پی پی کی مقامی و صوبائی قیادت کا غیر متحرک اور غیر موثر ہونا اور پنجاب کے ووٹر کا پی پی پی کو ”سندھی پارٹی“ سمجھنا ہے۔ پیپلز پارٹی جو چاروں صوبوں کی زنجیر سمجھی جاتی تھی سکڑتے سکڑتے سندھ تک محدود ہوکر رہ گئی اور سندھی پارٹی کے تاثر کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
پی پی پی نے گزشتہ دس برس میں پنجاب میں اپنی تنظیمی بنیاد بتدریج کھوئی ہے۔ پنجاب میں پی پی پی کے ضلعی سطح کے ورکرز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو کی قومی سیاست کو پنجاب میں تاحال قبولیت نہیں ملی۔ لیکن مظفرگڑھ کی جیت خصوصی نوعیت رکھتی ہے۔ مظفرگڑھ میں پیپلز پارٹی کی جیت روایتی اثرورسوخ کا نتیجہ ہے۔
مظفرگڑھ جنوبی پنجاب کا ایسا حلقہ ہے جہاں شخصیت پرستی، قبائلی اثرورسوخ۔اور جاگیردارانہ سیاست عمومی طور پر غالب رہتی ہے۔ پیپلز پارٹی یہاں اس لیے جیتی کہ اس کے مقامی امیدوار مضبوط، اثرورسوخ والے اور متحرک تھے، مخالف جماعتوں میں تقسیم تھی، اور پی پی پی کا تاریخی ووٹ بینک بھی موجود تھا۔ یہ جیت جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بڑی واپسی بھی ہے اور ایک مخصوص حلقے کی مخصوص سیاسی حقیقت بھی۔ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں مکمل طور پر مضبوط نہیں، مگر جنوبی پنجاب میں نسبتاً بہتر پوزیشن رکھتی ہے۔
اس کی وجہ مقامی سماجی ڈھانچہ بھی ہے اور سندھ سے قربت کے اثرات بھی ,جہاں روایتی سیاست اور خاندانوں کی گرفت زیادہ مضبوط ہے۔ جنوبی پنجاب کے سندھ سے قریبی حلقوں میں بھٹو فیکٹر ابھی موجود ہے لیکن یہاں بھی الیکٹیبلز کا مسلم لیگ ن میں جانا, ترقیاتی کارکردگی کا فقدان اور پی ٹی آئی کی نوجوانوں میں مقبولیت پی پی پی کے لیے چیلنج ہیں۔
ان ضمنی انتخابات کا قومی و صوبائی سیاست پر اثر تو پڑے گا۔ ن لیگ کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔ ضمنی انتخابات نے ثابت کیا کہ پنجاب کی اکثریت اب بھی ن لیگ پر اعتماد کرتی ہے۔ اس سے پنجاب اسمبلی میں حکومت مستحکم ہوئی ہے جبکہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی قوت کمزور ہوئی ہے۔ مزید نشستوں کا نقصان پی ٹی آئی کو اپوزیشن کے طور پر مزید کمزور کرتا ہے۔ مظفر گڑھ میں پیپلز پارٹی کی جیت اہم مگر علامتی ہے۔ قومی یا صوبائی سطح پر اسے کوئی بڑا فائدہ تو نہیں ملا مگر سیاسی بیانیے میں اسے ایک نئی سانس ضرور ملی ہے۔
مستقبل قریب میں پیپلز پارٹی کا پنجاب بھر میں ابھرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ پی پی پی کو ابھارنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب میں مضبوط تنظیم بنائے، پنجاب کا مخصوص بیانیہ تشکیل دے، بہترین امیدوار سامنے لائے، اور سندھ کے ماڈل سے آگے بڑھ کر گورننس دکھائے۔ جنوبی پنجاب میں اس کی تھوڑی سی جگہ ہے مگر سنٹرل اور نارتھ پنجاب اب بھی مکمل طور پر ن لیگ کے قابو میں ہیں۔ پیپلز پارِٹی پنجاب اور کے پی کے گورنروں کو استعمال کرتے ہوئے دونوں صوبوں میں اپنے لیے ابھی تک قابل قدر گنجائش نہیں نکال سکی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کے پی اور پنجاب میں پارٹی کی گنجائش نہ ہونے کے حوالے سے اپنے گورنروں اور صوبائی پارٹی عہدے داروں اورامیدواروں کی کارکردگی کا سیاسی جائزہ بھی لے۔
ضمنی انتخابات نے پی ٹی آئی کی کمزور ہوتی مقبولیت کو ثابت کر دیا ہے ۔ پی ٹی آئی سیاسی حمایت اور انتخابی قوت میں فرق نہیں سمجھ سکی۔ ضمنی انتخابات نے دکھایا ہے کہ اب پی ٹی آئی عوامی حمایت کو ووٹ میں تبدیل نہیں کر پا رہی، اسکی تنظیمی مشینری مکمل طور پر ناکام ہے، اسکا گھسا پٹا بیانیہ پرانا اور غیر موثر ہو چکا اور ووٹر نڈھال ہو چکا۔ ان تمام عوامل نے اس کی انتخابی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے جس سے پی ٹی آئی کا رہا سہا بھرم بھی جاتا رہا۔
ضمنی انتخابات نے سیاسی سمت کو واضح کر دیا ہے۔ ن لیگ مضبوط ہو رہی ہے، پی ٹی آئی کی انتخابی کمزوری تیزی سے سامنے آ رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کو جنوبی پنجاب میں معمولی مگر اہم جگہ ملی ہے، لیکن پنجاب میں تاحال بڑے پیمانے پر ابھرنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ پیپلز پارٹی کے پنجاب میں نہ ابھر سکنے میں ملتان سے داران یوسف رضا گیلانی ,رحیم یار خان سے مخدوم احمد محمود وسطی پنجاب سے قمر زمان کائرہ ,چوہدری منظور اور شمالی پنجاب سے راجہ پرویز اشرف ناکام ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت صوبے میں ناکامی کی ذمہ دار ہے۔ ضمنی انتخابات کے یہ نتائج مستقبل کی سیاست کے لیے اہم اشارہ ہیں۔ سیاسی استحکام کی فضا ن لیگ کے گرد جمع ہوتی نظر آ رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی اتنی ہی سیٹیں لے سکے گی جتنی اسکے پاس اب ہیں جبکہ اپوزیشن یعنی پی ٹی آئی کی کمزوری مزید تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ضمنی انتخابات : کونسی پارٹی کہاں کھڑی ہے
09:15 AM, 28 Nov, 2025