روس نئی نیٹو کی طرف

09:10 AM, 28 Nov, 2025


پاکستان میں ضمنی الیکشن کا میدان گرم تھا لیکن دنیا کے مختلف حصوں میں گولیوں، راکٹوں، میزائلوں، بموں ، ٹینکوں اور توپوں نے مختلف ممالک کی سرحدیں گرم کئے رکھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامات کے تحت آٹھ مسلم ممالک کے شرم الشیخ میں جمع ہو کر غزہ کے معاملے پر ان کی ہاں میں ہاں ملانے، ان کے امن منصوبے کے ساتھ چلنے کا وعدہ کرنے کے باوجود اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری نہیں رک سکی۔ اسرائیل نے ٹرمپ منصوبے کو گھاس نہیں ڈالی، اس کا اس حوالے سے ایک دیرینہ منصوبہ ہے جس پر وہ نہایت ڈھٹائی سے قائم ہے۔ چھپن اسلامی ملک مل کر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، کسی میں اتنی جرا¿ت نہیں کہ وہ امریکی امن منصوبے کے خالق سے پوچھے کہ اسرائیل کا ہاتھ کیوں نہیں روکا جا سکا۔ جنگیں روکنے کے ماہر درپردہ یوکرین روس کی جنگ کو بھی بھڑکاتے رہے۔ اب وہ یوکرین کے لئے ایک امن منصوبہ لے آئے ہیں، جس کے مطابق یوکرین کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر بلکہ ہاتھ پاﺅں کاٹ کر جنگ بند کرانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ جنگیں لڑنے کے لئے ہر لمحے تیار ملکوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ یوکرین میں جنگ بندی کے حوالے سے ٹرمپ منصوبہ حیران کن ہے۔ تجویز کیا گیا ہے کہ روس جن علاقوں پر قبضہ کر چکا وہ اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ اس جنگ کے حوالے سے کسی بھی سربراہ مملکت اس کے جرنیلوں یا دیگر اہم شخصیات پر جنگی جرائم کے تحت کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا، گویا اس بات پر مہر لگا دی جائے گی کہ جو کچھ ہوا ٹھیک ہوا۔ نیٹو کی فوجیں یوکرین سے بہت دور رہیں گی۔ چند برس قبل کریما پر روسی قبضے پر کوئی سوال نہیں ہو گا۔ خیبرسون اور زاپوریزیا سے روسی فوج پیچھے نہیں جائے گی۔ یوکرین میں نیٹو کا کوئی فوجی اڈہ نہیں ہو گا۔ یوکرین مہلک ہتھیاروں سمیت ہتھیار ڈالے گا۔ اگر بعض علاقوں میں یوکرینی فوجی ہتھیار نہیں ڈالتے تو پھر وہ روسی فوج کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ مقبوضہ علاقوں کی زبان روسی ہو گی، پہلے پابندی لگائی تھی کہ یوکرینی فوج چھ لاکھ سے زیادہ نہیں ہو گی لیکن اب اس شق میں یورپ کی فرمائش پر تبدیلی کی گئی ہے۔ یوکرینی فوج چھ لاکھ کے نفوس سے بڑھائی جا سکتی ہے۔ یوکرین کو کسی بھی مرحلے پر نیٹو کی رکنیت نہیں دی جائے گی۔ یوکرین کا جوہری پلانٹ آئی اے ای اے کی نگرانی میں چلایا جائے گا اور اس کی بجلی یوکرین اور روس دونوں استعمال کریں گے۔ امن معاہدے میں روس اور یوکرین کے علاوہ یورپ بھی شامل ہو گا۔ امریکہ اور یورپی ممالک یوکرین کے لئے سکیورٹی کی گارنٹی دیں گے۔ جنگ بندی کے سو دن کے اندر یوکرین میں عام انتخابات ہوں گے۔ فریقین کی رضامندی کے بعد جنگ بندی فوراً ہو گی۔ امن منصوبے کے نکات سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ امریکی ڈرافٹ نہیں بلکہ روس کا تیارکردہ ڈرافٹ ہے۔ اس میں ہر وہ بات شامل ہے جو چند برس قبل ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ولادی میر پوتن نے ایک پرچے پر لکھ کر ان کے ہاتھ تھمائی تھی۔
جن باتوں کو بنیاد بنا کر امریکہ اور یورپ یوکرین کے پیچھے کھڑے ہوئے اور اسے سولی پر چڑھ جانے کی ہلا شیری دیتے رہے۔ ان سے مکمل طور پر انحراف کیا جا چکا ہے، جس سے یورپی ممالک میں تشویش کی لہر ہے۔ وہ سمجھتے تھے یا انہیں باور کرایا گیا تھا کہ یوکرین دراصل یورپ کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اگر یوکرین کو شکست ہو گی تو روس کسی اور یورپی ملک کی طرف متوجہ ہو گا۔ بالکل اسی طرح ہمیں بھی بیس برس تک یہی سبق پڑھایا گیا کہ افغان ہماری جنگ لڑ رہے ہیں اور جنگ افغانستان اس حوالے سے پاکستان کا پہلا مورچہ ہے۔ اگر اس وقت امریکہ کے ورغلانے میں آنے کی بجائے تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جاتا تو آج خطے کی صورتحال مختلف ہوتی۔ جنگ شروع کرنا آسان جنگ لڑنا مشکل جبکہ جنگ کو ٹالنا دانشمندی سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ہم امریکہ کو جنگ سے روکنے کی بجائے دیگر تمام مشورے دیتے رہے بلکہ لڑنے کے لئے جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے رہے۔
یورپ کی آج بڑی پریشانی یہ ہے کہ روس کو میدان جنگ میں مکمل فتح حاصل ہے۔ روس اور یوکرین جنگ کے ایام میں امریکہ دنیا بھر کے ممالک بشمول یورپی ممالک پابندیاں عائد کرتا رہا جبکہ اس نے اپنے مطلب کی تجارت روس کے ساتھ جاری رکھی۔ چند ماہ قبل جب ٹرمپ پوتن کے سامنے میز پر بیٹھے تو ٹرمپ نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا کہ امریکہ روس کے ساتھ چھوٹے موٹے اختلافات ختم کر کے باہمی تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے، جس پر پوتن نے مسکراتے ہوئے انہیں یاد کرایا جناب ٹرمپ یوکرین جنگ کے دوران امریکہ اور روس کی تجارت میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس بات پر صدر ٹرمپ قدرے حیران ہوئے کیونکہ ان کا ہوم ورک نامکمل تھا جبکہ پوتن ہر لحاظ سے تیار ہو کر آئے تھے۔ ہر معاملے میں جذبات سے مغلوب ٹرمپ عجلت پسند واقع ہوئے ہیں۔ وہ ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں۔ وہ سیاست کی بجائے سپورٹس کی دنیا میں ہوتے اور کرکٹ یا فٹ بال کے کھلاڑی ہوتے تو اپنی عجلت پسندی کے سبب اپنی ٹیموں کو کئی مرتبہ شکست سے دوچار کرتے۔ وہ اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کرتے نظر آتے کرکٹر ہوتے تو نیچرل گیم کھیلنے کا نعرہ لگاتے ہوئے شاہد آفریدی کی طرح جیتے ہوئے میچ مخالف ٹیم کی جھولی میں ڈالتے نظر آتے۔ میدان سیاست میں ان کا طرزعمل ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کا سا ہے جبکہ یہاں وہ زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں جو ٹیسٹ میچ ٹمپرامنٹ رکھتے تھے۔
میدان جنگ میں روسی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے یورپ کی بڑی پریشانی کی وجہ روسی شرائط پر جنگ بندی ہے۔ یورپ کے بیشتر ممالک سمجھتے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد حواس بحال کرنے کے بعد اگر کل کلاں کو پوتن نے پولینڈ پر قبضے کا پروگرام بنا لیا یا اسے اچانک خیال آگیا کہ فن لینڈ کو بھی اس کا حصہ ہونا چاہئے تو اسے اس خیال سے کون باز رکھ پائے گا۔ امریکہ تو اس حوالے سے ناکام ہو چکا ہے اور پورے یورپ کی فوجی قوت کو اکٹھا کر لیا جائے تو جب بھی وہ روس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وہ اس قابل ہوتے تو روس سے محفوظ رہنے کے لئے امریکہ پر انحصار کیوں کرتے۔
امریکہ یورپی ممالک کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ان پر نیٹو کے لئے مزید فنڈز دینے کے لئے ہمیشہ دباﺅ ڈالتا رہتا ہے اور انہیں بلیک میل کرتا رہتا ہے۔ یورپی ممالک اب امریکہ سے دوستی بڑھانے کی بجائے روس سے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ اسلامی ممالک تو مسلم نیٹو نہ بنا سکے لیکن روس نے اپنے ہم خیال ممالک کا علیحدہ نیٹو ٹائپ گروپ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس میں امریکہ کے لئے پریشانی اور یورپ کے لئے کسی حد تک تسکین کا پہلو ہے۔ یورپی ممالک روس کے تیل اور گیس کے بغیر نہیں چل سکتے پس وہ روس کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

مزیدخبریں