پاکستان کو ترکیہ اور آذربائیجان جیسے مخلص اتحادیوں پر فخر ہے: وزیراعظم شہباز شریف

09:43 PM, 28 May, 2025

لاچین : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ اس کے ساتھ ترکیہ اور آذربائیجان جیسے قابلِ اعتماد اور سچے دوست موجود ہیں۔ یہ بات انہوں نے آذربائیجان کے یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں آذربائیجان کے صدر الہام علییوف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان بھی شریک تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آرمینیا کے ساتھ جنگ میں پاکستان اور ترکیہ نے آذربائیجان کا ہر سطح پر ساتھ دیا، اور تینوں ممالک نے اتحاد و بھائی چارے کی بہترین مثال قائم کی۔’’پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان ایک دل، تین جسم ہیں۔‘‘

وزیراعظم نے خطاب کے دوران بھارت کے حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پاکستان پر الزام لگایا، حالانکہ ہم نے بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کی۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ بھارت نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا اور پاکستان نے 9 اور 10 مئی کو بھرپور جوابی کارروائی کی۔

’’ہماری افواج نے چھ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں چار رافیل طیارے شامل تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا پوری قوت سے جواب دے گا۔ بھارت نے بعد میں جنگ بندی کی درخواست کی، جسے پاکستان نے قبول کیا۔


وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جارحیت کے وقت ترکیہ اور آذربائیجان نے پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اور ان کی حمایت کو پاکستان کبھی فراموش نہیں کرے گا۔

انہوں نے آذربائیجان کو کاراباخ کی آزادی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ’’یہ صدر الہام علییوف کی مدبرانہ قیادت اور آذری عوام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔‘‘

وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے تنازع کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ’’کشمیر کی جدوجہد آزادی جاری ہے، اور پاکستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘


انہوں نے فلسطین کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’غزہ میں بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری کب بیدار ہوگی؟‘‘
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان مل کر غزہ میں فوری جنگ بندی اور فلسطینیوں کو ان کا حق دلوانے کے لیے آواز بلند کریں۔


وزیراعظم نے سہ فریقی اجلاس کو نتیجہ خیز اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ

’’تینوں دوست ممالک کے جھنڈے ایک ساتھ لہرا رہے ہیں، جو باہمی اتحاد، ترقی اور مسلم دنیا کے روشن مستقبل کی امید کی علامت ہیں۔‘‘

مزیدخبریں