اے آئی انسانوں کو سست نہیں، ذہین بنائے گی: گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ کا مؤقف

06:52 PM, 28 May, 2025

لندن : گوگل ڈیپ مائنڈ کے سی ای او ڈیمِس ہسابس نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) انسانوں کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے بجائے انہیں مزید ذہین، تیز اور باخبر بنائے گی۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ اے آئی مستقبل میں تعلیم، سافٹ ویئر پروگرامنگ اور منشیات کی لت جیسے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گی۔


انہوں نے گوگل کی جانب سے حالیہ ڈویلپر کانفرنس میں پیش کی گئی اے آئی ایپلی کیشنز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جیمنائی 2.5 پرو ایک زبردست ماڈل ہے جو منطق اور گہرے سوچ کے لحاظ سے بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ نئے ماڈل ویو 3 میں آڈیو اور ویڈیو کو ایک ساتھ استعمال کیا گیا ہے، جب کہ جیمنائی فلیش اپنی رفتار اور صلاحیتوں کے باعث بہت سے صارفین کو حیران کر دے گا۔


ڈیمِس ہسابس نے تسلیم کیا کہ مستقبل میں لوگ اپنے اے آئی اسسٹنٹس کے ساتھ گہرا تعلق قائم کر سکتے ہیں۔
ان کے بقول: "صارفین چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا نظام ہو جو ان کی باتوں کو سمجھے، یاد رکھے اور ان کے مطابق آگے چلے۔"

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اے آئی اسسٹنٹس صرف عام افراد کی زندگیوں کا حصہ نہیں ہوں گے بلکہ یہ دفاتر اور پیشہ ورانہ ماحول میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔


جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اے آئی پر انحصار انسانوں کو کمزور بنا دے گا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ نہیں، بلکہ ہمیں نئی نسل کو سکھانا ہوگا کہ ان ٹولز کو بہتر طریقے سے کیسے استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی تعلیم کا حصہ بن چکی ہے، اور اگر اسے صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یہ سیکھنے کے عمل کو مزید بہتر بنا سکتی ہے۔


اس سے قبل اپریل میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈیمِس ہسابس نے دعویٰ کیا تھا کہ اگلے 10 برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا سے بیشتر بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کی بدولت ادویات بنانے کا عمل مہینوں یا برسوں کی بجائے صرف چند ہفتوں میں مکمل کیا جا سکے گا، جس سے صحت کا شعبہ مکمل طور پر بدل جائے گا۔


مارچ 2025 میں لندن میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس (AGI) — یعنی ایک ایسی ذہانت جو انسانوں کی طرح پیچیدہ کام کر سکے — اگلے پانچ سے دس سال میں سامنے آنا شروع ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا: "اگرچہ موجودہ سسٹمز اب بھی مکمل نہیں، لیکن یہ بہت سے ایسے کام انجام دے رہے ہیں جو انسانوں کے لیے مشکل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جلد ہی ایسا وقت آئے گا جب اے آئی سسٹمز مکمل طور پر انسانی سطح کی ذہانت حاصل کر لیں گے۔"

مزیدخبریں